👀 You are watching:
Jump to content
👉 Click here to explore Remote Jobs, Work From Home & Global News – USA 🇺🇸 | UK 🇬🇧 | Canada 🇨🇦 | Pakistan 🇵🇰 ×
🚫 Guest Access Notice ×

Hareem Naz

🌟 LEGACY MEMBER
  • Posts

    866
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    80

Blog Entries posted by Hareem Naz

  1. Hareem Naz
    دل کے پنجرے سے پرندوں کو اُڑا دو صاحب
    آرزؤں„„ کو „„ مسلسل „„ پالا „„ نہیں „„کرتے

  2. Hareem Naz
    لغزشوں سے ماوراء تو بھی نہیں میں بھی نہیں
    دونوں ہیں انساں خدا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
    جرم کی نوعیت میں تفاوت ہو تو ہو
    در حقیقت پارسا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
    مصلحت نے کر دیا پیدا دونوں میں اختلاف
    ورنہ فطرت کا برا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
    میں وفا کی راہ پہ گامزن تو جفا کی راہ پہ گامزن
    مڑ کے پیچھے دیکھتا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
    رات بھی ویراں اور فصیلِ شہر بھی تو ٹوٹی ہوئی
    اور ستم یہ کہ جاگتا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
    قتیل تو بھی تھا ضدی اور انا مجھ میں بھی تھی
    دونوں تھے خود سر , جھکا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
  3. Hareem Naz
    ﺁﺅ ﺟﺎﻧﭻ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ﺩﺭﺩ ﮐﮯ ﺗﺮﺍﺯﻭ ﻣﯿﮟ
    ﮐﺲ ﮐﮯ ﻏﻢ ﮐﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮨﯿﮟ
    ﺭﻧﺠﺸﯿﮟ ﮐﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮨﯿﮟ
    ﮐﭽﮫ ﻋﺰﯾﺰ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ
    ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﺗﻮ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ
    ﺁﺟﮑﻞ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ
    ﻗﯿﻤﺘﯿﮟ ﮐﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮨﯿﮟ
    ﺍﯾﮏ ﺷﺎﻡ ﺁ ﺟﺎﺅ
    ﮐﮭﻞ ﮐﮯ ﺣﺎﻝ ﺩﻝ ﮐﮧ ﻟﯿﮟ
    ﮐﻮﻥ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﮐﯽ
    ﻣﮩﻠﺘﯿﮟ ﮐﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮨﯿﮟ.....

  4. Hareem Naz
    کبھی آہ لب پر مجل گئی کبھی اشک آنکھوں سے ڈھل گئے
    یہ تمہارے غم کے چراغ ہیں کبھی بُجھ گئے کبھی جل گئے
    میں خیال و خواب کی محفلیں نہ بقدرِ شوق سجا سکا
    تیری اِک نگاہ کے ساتھ ہی میرے سب ارادے بدل گئے
    نہ تو دُور ہیں نہ قریب ہیں ، تیرے درد مند عجیب ہیں
    تیری یاد ہی سے تڑپ اُٹھے ، تیری یاد ہی سے بہل گئے
    یہ کمالِ ہجر و وصال ہے کہ طلسمِ وہم و خیال ہے
    کبھی صدیاں لمحوں میں اُڑ گئیں ، کبھی لمحے صدیوں میں ڈھل گئے
    تھا اُنھیں بھی میری طرح جُنوں ، تو پھر اُن میں مُجھ میں یہ فرق کیوں
    میں گرِفتِ غم سے نہ بچ سکا ، وہ حدودِ غم سے نکل گئے
    غمِ دِل کا شکوہ فضول ہے ، یہ اِس جہاں کا اصول ہے
    کہ جہاں چراغِ طرب جلے وہیں رُخ ہوا کے بدل گئے
    ہے ملال کامل غمزدہ کہ روش روش ہے ستم زدہ
    جنہیں ہم نے اپنا لہو دیا وہ چمن بہار میں جل گئے

  5. Hareem Naz
    آنکھوں سے خواب، دل سے تمنا تمام شد
    تم کیا گئے، کہ شوقِ نظارا تمام شد
    کل تیرے تشنگاں سے یہ کیا معجزہ ہوا
    دریا پہ ہونٹ رکھے، تو دریا تمام شد

    دنیا تو ایک برف کی سل سے سوا نہ تھی
    پہنچی ذرا جو آنچ، تو دنیا تمام شد
    عشاق پر یہ اب کے عجب وقت آپڑا
    مجنوں کے دل سے حسرت لیلٰی تمام شد

    شہرِ دل تباہ میں پہنچوں تو کچھ کھلے
    کیا بچ گیا ہے راکھ میں، اور کیا تمام شد
    ہم شہرِ جاں میں آخری نغمہ سنا چکے
    سمجھو کہ اب ہمارا تماشا تمام شد
    اک یاد یار ہی تو پس انداز ہے حسن
    ورنہ وہ کار عشق تو کب کا تمام شد

  6. Hareem Naz
    تمہاری خاطر روائے دل پر دعائیں تحریر کر رھا ھوں 
    منافقت کی اداس شب میں 
    نہ تم اندھیروں سے ہار جانا 
    میں اپنے حصے کی ساری محبتیں 
    تمہارے چہرے پہ لکھ چکا ہوں 
    میں جانتا ہوں تمہارے رستے بہت کٹھن ہیں 
    مگر جب کبھی سفر پر جانا تو 
    میری وفاوں کو ساتھ رکھنا 
    یہ جان لینا کہ_____________ 
    میرے جذبے چراغ بن کر 
    تمہارے رستے اجال دیں گئے

  7. Hareem Naz
    بات سچ یا جھوٹ کی نہیں ۔۔۔۔۔۔بات بس یقین کی ہوتی ھے۔۔۔۔۔ہر رشتہ ایک نام مانگتا ھے۔۔۔اور پھر سب سے خو بصورت رشتہ بس دوستی کا ھے۔۔۔۔۔اگر نیت صاف ھو۔۔۔۔۔یقين ھو ایک دوسرے پے۔۔۔۔۔محبت تو پھر بعد کی بات ھے۔۔۔۔۔جو دوستی نا نبھا سکے ۔۔۔۔وہ محبت کیسے نبھا سکتا ھے۔۔۔۔!!

  8. Hareem Naz
    اسے کہنا کہ "بھیگی جنوری" پھر لوٹ آئی ھے
    وہی گلیاں، وہی کوچے وہی سردی کا موسم ہے
    اسی انداز سے اپنا نظام زیست برہم ہے
    یہ حسن ـ اتفاق ہے ایسا کہ نکھری چاندنی بھی ھے
    وہی ہر سمت ویرانی اداسی تشنگی سی ھے
    وہی ھے بھیڑ سوچوں کی وہی تنہائیاں پھر سے
    مسافر، اجنبی اور دشت کی پہنائیاں پھر سے
    مجھے سب یاد ہے کچھ سال پہلے کا یہ قصہ ہے
    وہی لمحہ تو ویرانے کا اک آباد حصہ ہے
    میری آنکھوں میں وہ ایک لمحہء موجود اب بھی ہے
    وہ زندہ رات میرے ساتھ لاکھوں بار جاگی ھے
    کسی نے رات کی تنہائی میں
    سرگوشیاں کی تھیں
    کسی کی نرم گفتاری نے دل کو لوریاں دی تھیں
    میرے شعروں میں وہ الہام کی صورت میں اترا تھا
    معانی بن کے جو جو لفظوں میں پہلی بار دھڑکا تھا
    کسی نے میری تنہائی کا سارا کرب بانٹا تھا
    کسی نے رات کی چنری میں روشن چاند ٹانکا تھا
    وہ جس کے ہونے سے زندگی نغمہ سرائی ھے
    اسے کہنا کہ "بھیگی جنوری" پھر لوٹ آئی ھے

  9. Hareem Naz
    اپنی کہانی کیسے کہیں
    دل امید توڑا ہے کسی نے..
    کہاں پہ لا کے چھوڑا کسی نے
    قفس کی تیلیاں رنگین کیوں ہیں
    یہاں پہ سر کو پھوڑا ہے کسی نے
    میں اونچی شاہ دروں سے پوچھتا ہوں
    کہ ٹوٹا دل بھی جوڑا ہے کسی نے
    دل امید توڑا ہے کسی نے..

  10. Hareem Naz
    Koi Diwaar Rehny Do 
     
    Faqat izhaar Rehny Do 
     
    Safar mein Saath ChaL Kar b 
     
    Mujy is Paar Rehny Do 
     
    Na Aankhon men Sajaao TuM 
     
    Na Mujko Khaak hony Do 
     
    Na Tarsain TuMhari Qurbat Ko 
     
    Mujy Bebaak Rehny Do 
     
    Mujy Asha''ar mein Likho 
     
    Mgr 
     
    Na Gungunao TuM 
     
    Kitabon men Kahein Rakh Kr 
     
    Mujy Phir BhooL Jao Tum 
    Suno.. 
     
    TuMsy Yeh Kehna hy 
     
    Safar mein DhooL hony Tak 
     
    Koi b BhooL hony Tak 
     
    Mujy TuM Maang Lena Bus 
     
    DUAA MAQbooL hony Tak...\
       
  11. Hareem Naz
    Aks-e-khushboo hoon, bikharnay say na rokay koi 
    Aur agar bikhar jaoon to mujh ko na samaitay koi 
     
    Kaamp uth-ta hoon main yeh soch k tanhaee main 
    Meray chehray pe tera naam na parh lay koi 
     
    Jis tarah khuwaab meray ho gaye reza reza 
    Iss tarah say na kabhi toot k bikhray koi 
     
    Main to uss din say harasan hoon k jab hukam milay 
    Khushk phoolon ko kitabon main na rakhay koi 
     
    Ab to iss rah say wo shakhs guzarta bhi nahi 
    Ab kis umeed pe darwazay say jhankay koi 
     
    Koi aahat, koi awaz, koi chaap nahi 
    Dil ki galiyan bari sunsaan hain, aye koi

  12. Hareem Naz
    ?'Main jeet ke Haara to kis Morr pe Aa ke,
     
    Toota tera Sahara to kis Morr pe Aa ke,
     
    Nishaan Tak na Raha Mari Chahton ka
    ...
    MUJHA Taqdeer Ne Maara To kis Maara to kis Morr pe Aa ke
     
    Jab Na Rahi Dil Mein koi Pyaar ki Hasrat 
     
    Mujhy tum ne Pukara To Kis Morr Pe Aa ke
     
    Umar Bhar Doobty Rahy Hum Gham k Samandar Main 
     
    Ab k Mila Kinara to kis Morr
    pe AA KE
     
    Guzri hai Umar Sari yun hi kash -ma-kash Main
     
    TUNe Zindagi ko Sanwara To Kis MORR PE AA ke.

  13. Hareem Naz
    ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻮﺳﻢ ﮬﻮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮬﮯ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩ ﮐﺎ
    ﻣﻮﺳﻢ ,
    ﮐﮧ ﺑﺪﻻ ﮬﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺑﻌﺪ ﮐﺎ
    ﻣﻮﺳﻢ ,
    ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﺯﻣﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﺪﻟﺘﺎ ﮬﮯ ,
    ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺩﻝ ﻧﺎ ﺷﺎﺩ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ,
    ﺻﺪﺍ ﺗﯿﺸﮯ ﺳﮯ ﺟﻮ ﻧﮑﻠﯽ ﺩﻝ ﺷﯿﺮﯾﮟ ﺳﮯ
    ﺍﭨﮭﯽ ﺗﮭﯽ ,
    ﭼﻤﻦ ﺧﺴﺮﻭ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺭﮬﺎ ﻓﺮﮬﺎﺩ ﮐﺎ
    ﻣﻮﺳﻢ ,
    ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﻧﮯ ﺯﺑﺎﮞ ﺑﺪﻟﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮫ ﻟﮯ ﺗﻮ
    ﺑﮭﯽ ,
    ﻧﺌﯽ ﻃﺮﺯ ﻓﻐﺎﮞ ! ﺍﮮ ﺩﻝ ﮐﮧ ﮬﮯ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮐﺎ
    ﻣﻮﺳﻢ ,
    ﺭﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﻗﺎﻋﺪﮦ ﮬﮯ ﻭﻗﺖ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺁﺗﯽ ﺟﺎﺗﯽ
    ﮬﯿﮟ ,
    ﮬﻤﺎﺭﮮ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﮎ ﮔﯿﺎ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﮐﺎ
    ﻣﻮﺳﻢ ,
    ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺣﺴﯿﻦ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﭘﮑﺎﺭﮮ
    ﮔﯽ,
    ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺪﻟﮯ ﮔﺎ ﺩﻝ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ ,
    ﻗﻔﺲ ﮐﮯﺑﺎﻡ ﻭ ﺩﺭﻣﯿﮟ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﺳﯽ ﺁﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ
    ﮬﮯ ,
    ﭼﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﺁ ﮔﯿﺎ ﺷﺎﯾﺪ ﻟﺐ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺎ ﻣﻮ ﺳﻢ ,
    ﻣﯿﺮﮮﺷﮩﺮ ﭘﺮﯾﺸﺎﮞ!ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﮯ ﭼﺎﻧﺪ ﺭﺍﺗﻮﮞ
    ﻣﯿﮟ ,
    ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﻮﮞ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ
    ﺍﺏ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻢ ﺧﺰﺍﮞ ﮐﺎ ﮬﮯ ﻧﮧ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮬﮯ
    ﺑﮩﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ,
    ﮬﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮬﮯ ﺍﻣﺠﺪ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﮐﺎ
    ﻣﻮﺳﻢ

  14. Hareem Naz
    کارِ حیات ریشمی دھاگوں کا کھیل تھا
    اُلجھے تو پھر ُسلجھ نہ سکے تار زیست کے

  15. Hareem Naz
    نہ سماعتوں میں تپش گُھلے نہ نظر کو وقفِ عذاب کر
    جو سنائی دے اُسے چپ سِکھا جو دکھائی دے اُسے خواب کر
    ابھی منتشر نہ ہو اجنبی، نہ وصال رُت کے کرم جَتا!
    جو تری تلاش میں گُم ہوئے کبھی اُن دنوں کا حساب کر
    مرے صبر پر کوئی اجر کیا مری دو پہر پہ یہ ابر کیوں؟
    مجھے اوڑھنے دے اذیتیں مری عادتیں نہ خراب کر
    کہیں آبلوں کے بھنور بجیں کہیں دھوپ روپ بدن سجیں
    کبھی دل کو تِھل کا مزاج دے کبھی چشمِ تِر کو چناب کر
    یہ ہُجومِ شہرِ ستمگراں نہ سُنے گا تیری صدا کبھی،
    مری حسرتوں کو سُخن سُنا مری خواہشوں سے خطاب کر
    یہ جُلوسِ فصلِ بہار ہے تہی دست، یار، سجا اِسے
    کوئی اشک پھر سے شرر بنا کوئی زخم پھر سے گلاب 

  16. Hareem Naz
    ہم تو بس خواب ہیں...
    کچهہ پل کے لیے دیکهو ہمیں
    پهر کسی آنکهہ، کسی نیند
    میں آئیں گے نہیں
    پهر کسی راہ،کسی موڑ پر
    ہم ہوں گے نہیں
    ہم تو بس گرد ہیں...
    کچهہ دیر میں مٹ جائیں گے
    ہم تو خوشبو ہیں..
    ہمیں رنگ نہ کوئی دینا
    صرف احساس کو چهو کر ہے گزر جانا ہمیں
    ہم تو آنسو ہیں..
    بہیں گے تو
    نہ لوٹیں گے کبهی
    ہم تو بس زخم ہیں..
    سینے کا....ہمیں بهرنا ہے
    ہم وہ احساس کی بیلیں ہیں..
    جو چهاؤں چاہیں
    درد کی دهوپ جو چهو لیں تو ہمیں مرنا ہے
    ہم تو بس خواب ہیں...
    کچهہ پل میں بکهرنے والے..

  17. Hareem Naz
    میں کچی نیند میں ہوں
    اور اپنے نیم خوابیدہ تنفس میں اترتی
    چاندنی کی چاپ سنتی ہوں
    گماں ہے
    آج بھی شاید
    میرے ماتھے پہ تیرے لب
    ستارے ثبت کرتے ہیں...!

  18. Hareem Naz
    کبھی جب میں نہیں ہونگا
    تمہیں سب یاد آئے گا..
    وہ میری بے کراں چاہت
    تمہارے نام کی عادت
    وہ میرے عشق کی شدت
    وصال و ہجر کی لذت..
    تمہاری ہر ادا
    کو شاعری کا رنگ دے دینا
    خود اپنی خواہشوں کو بے بسی کا رنگ دے دینا
    تمہیں سب یاد آئے گا..
    وہ میری آنکھ کا نم بھی
    وفاؤں کا وہ موسم بھی
    جنوں خیزی کا عالم بھی
    مری ہر اک خوشی ہر غم بھی..
    مرا وہ مسکرا کر درد کو دل سے لگا لینا
    تمہاری خواب سی آنکھوں کا ہر آنسو چرا لینا
    تمہیں سب یاد آئے گا..
    تمہاری سوچ میں رہنا
    تمہاری بے رخی سہنا
    بُھلا کر رنجشیں ساری
    فقط "اپنا" تمہیں کہنا..
    تمہارے نام کو تسبیح کی صورت
    صورت بنا لینا
    تمہارے ذکر سے دل کا ہر اک گوشہ سجا لینا..
    ابھی تو مسکرا کر تم مری باتوں کو سنتے ہو
    مگر یہ جان لو جاناں!
    مگر یہ جان لو جاناں!
    تمہیں سب یاد آئے گا
    کبھی جو میں نہی ہونگا..

  19. Hareem Naz
    !!..اُس سمت چلے ہو تو بس اتنا اُسے کہنا..!!
    !!..اب کوئی نہیں حرفِ تمنا اُسے کہنا.......!!
    !!..اُس نے ہی کہا تھا تو یقیں میں نے کیا تھا
    !!..اُمید پہ قائم ہے یہ دُنیا اُسے کہنا.........!!
    !!..دُنیا تو کسی حال میں جینے نہیں دیتی..!!
    !!..چاہت نہیں ہوتی کبھی رسوا اُسے کہنا...!!
    !!..زرخیز زمینیں کبھی بنجر نہیں ہوتیں......!!
    !!..دریا ہی بدل لیتے ہیں رستہ اُسے کہنا...!!
    !!..وہ میری رسائی میں نہیں ہے تو عجب کیا
    !!..حسرت بھی تو ہےعشق کا لہجہ اُسے کہنا
    !!..کچھ لوگ سفر کے لیے موزوں نہیں ہوتے 
    !!..کچھ راستے کٹتے نہیں تنہا اسے کہنا...!!

  20. Hareem Naz
    " اس ادا سے بهی ہوں میں آشنا " تجهے اتنا جس پے غرور هے"
     
    " میں جیوں گا تیرے بغیر بهی "
    " مجهے زندگی کا شعور هے "
     
    نہ هوس هے مجهہ میں جناب کی
    " نہ تلب' صبا و شباب کی "
     
    ' تیری چشم ء نظر کی خیر هو "
    "مجهے بن پیئے ہی صرور هے "
     
    " جو سمجهہ لیئا تجهے بے وفا"
    " اس میں تیری بهی کیا ختہا "
     
    " یہ خلال هے میر ے دماغ کا "
    " یہ میری نظر کا قصور ہے "
     
    " کوئی بات دل میں تهان کے"
    کہ نہ الجهہ پڑهے تیری شان میں
     
    میں نکال کے بهی تیر ے دام سے
    " نہ گروں گا اپنے مقام سے "
     
    " میں قتیل جرم و ستم سهئ "
    مجهے " عشق " تم سے ضرور هے"
       
  21. Hareem Naz
    لہو کی آنکھ سے پڑھ میرے ضبط کی تحریر
     
    لبوں پہ لفظ نہ گن ________ کپکپاہٹیں پہچان !!

  22. Hareem Naz
    ‎رنگِ جنوں
    کوئی دھوپ چهاؤں کا موسم ھو
    اور مدھم مدھم بارش ھو
    ھم گهری سوچ میں بیٹھے ھوں
    سوچوں میں سوچ تمهاری ھو
    اس وقت تم ملنے آ جاؤ
    اور خوشی سے پلکیں بهاری ھوں
    ھم تم دونوں خاموش رهیں
    اور زباں پر آنکهیں حاوی هوں
    تم تھام لو میرے هاتھوں کو
    اور لفظ زباں سے جاری ھوں
    میں تم سے محبت کرتا ھوں
    اور جذبوں میں سرشاری ھو
    هاتهوں کی لکیریں مل جائیں
    سنگ چلنے کی تیاری ھو
    سب خوابوں کو تعبیر ملے
    اور ھم پر خوشیاں واری ھوں

  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
×
×
  • Create New...