لغزشوں سے ماوراء تو بھی نہیں میں بھی نہیں
دونوں ہیں انساں خدا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
جرم کی نوعیت میں تفاوت ہو تو ہو
در حقیقت پارسا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
مصلحت نے کر دیا پیدا دونوں میں اختلاف
ورنہ فطرت کا برا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
میں وفا کی راہ پہ گامزن تو جفا کی راہ پہ گامزن
مڑ کے پیچھے دیکھتا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
رات بھی ویراں اور فصیلِ شہر بھی تو ٹوٹی ہوئی
اور ستم یہ کہ جاگتا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
قتیل تو بھی تھا ضدی اور انا مجھ میں بھی تھی
دونوں تھے خود سر , جھکا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
کبھی آہ لب پر مجل گئی کبھی اشک آنکھوں سے ڈھل گئے
یہ تمہارے غم کے چراغ ہیں کبھی بُجھ گئے کبھی جل گئے
میں خیال و خواب کی محفلیں نہ بقدرِ شوق سجا سکا
تیری اِک نگاہ کے ساتھ ہی میرے سب ارادے بدل گئے
نہ تو دُور ہیں نہ قریب ہیں ، تیرے درد مند عجیب ہیں
تیری یاد ہی سے تڑپ اُٹھے ، تیری یاد ہی سے بہل گئے
یہ کمالِ ہجر و وصال ہے کہ طلسمِ وہم و خیال ہے
کبھی صدیاں لمحوں میں اُڑ گئیں ، کبھی لمحے صدیوں میں ڈھل گئے
تھا اُنھیں بھی میری طرح جُنوں ، تو پھر اُن میں مُجھ میں یہ فرق کیوں
میں گرِفتِ غم سے نہ بچ سکا ، وہ حدودِ غم سے نکل گئے
غمِ دِل کا شکوہ فضول ہے ، یہ اِس جہاں کا اصول ہے
کہ جہاں چراغِ طرب جلے وہیں رُخ ہوا کے بدل گئے
ہے ملال کامل غمزدہ کہ روش روش ہے ستم زدہ
جنہیں ہم نے اپنا لہو دیا وہ چمن بہار میں جل گئے
آنکھوں سے خواب، دل سے تمنا تمام شد
تم کیا گئے، کہ شوقِ نظارا تمام شد
کل تیرے تشنگاں سے یہ کیا معجزہ ہوا
دریا پہ ہونٹ رکھے، تو دریا تمام شد
دنیا تو ایک برف کی سل سے سوا نہ تھی
پہنچی ذرا جو آنچ، تو دنیا تمام شد
عشاق پر یہ اب کے عجب وقت آپڑا
مجنوں کے دل سے حسرت لیلٰی تمام شد
شہرِ دل تباہ میں پہنچوں تو کچھ کھلے
کیا بچ گیا ہے راکھ میں، اور کیا تمام شد
ہم شہرِ جاں میں آخری نغمہ سنا چکے
سمجھو کہ اب ہمارا تماشا تمام شد
اک یاد یار ہی تو پس انداز ہے حسن
ورنہ وہ کار عشق تو کب کا تمام شد
تمہاری خاطر روائے دل پر دعائیں تحریر کر رھا ھوں
منافقت کی اداس شب میں
نہ تم اندھیروں سے ہار جانا
میں اپنے حصے کی ساری محبتیں
تمہارے چہرے پہ لکھ چکا ہوں
میں جانتا ہوں تمہارے رستے بہت کٹھن ہیں
مگر جب کبھی سفر پر جانا تو
میری وفاوں کو ساتھ رکھنا
یہ جان لینا کہ_____________
میرے جذبے چراغ بن کر
تمہارے رستے اجال دیں گئے
بات سچ یا جھوٹ کی نہیں ۔۔۔۔۔۔بات بس یقین کی ہوتی ھے۔۔۔۔۔ہر رشتہ ایک نام مانگتا ھے۔۔۔اور پھر سب سے خو بصورت رشتہ بس دوستی کا ھے۔۔۔۔۔اگر نیت صاف ھو۔۔۔۔۔یقين ھو ایک دوسرے پے۔۔۔۔۔محبت تو پھر بعد کی بات ھے۔۔۔۔۔جو دوستی نا نبھا سکے ۔۔۔۔وہ محبت کیسے نبھا سکتا ھے۔۔۔۔!!
اسے کہنا کہ "بھیگی جنوری" پھر لوٹ آئی ھے
وہی گلیاں، وہی کوچے وہی سردی کا موسم ہے
اسی انداز سے اپنا نظام زیست برہم ہے
یہ حسن ـ اتفاق ہے ایسا کہ نکھری چاندنی بھی ھے
وہی ہر سمت ویرانی اداسی تشنگی سی ھے
وہی ھے بھیڑ سوچوں کی وہی تنہائیاں پھر سے
مسافر، اجنبی اور دشت کی پہنائیاں پھر سے
مجھے سب یاد ہے کچھ سال پہلے کا یہ قصہ ہے
وہی لمحہ تو ویرانے کا اک آباد حصہ ہے
میری آنکھوں میں وہ ایک لمحہء موجود اب بھی ہے
وہ زندہ رات میرے ساتھ لاکھوں بار جاگی ھے
کسی نے رات کی تنہائی میں
سرگوشیاں کی تھیں
کسی کی نرم گفتاری نے دل کو لوریاں دی تھیں
میرے شعروں میں وہ الہام کی صورت میں اترا تھا
معانی بن کے جو جو لفظوں میں پہلی بار دھڑکا تھا
کسی نے میری تنہائی کا سارا کرب بانٹا تھا
کسی نے رات کی چنری میں روشن چاند ٹانکا تھا
وہ جس کے ہونے سے زندگی نغمہ سرائی ھے
اسے کہنا کہ "بھیگی جنوری" پھر لوٹ آئی ھے
اپنی کہانی کیسے کہیں
دل امید توڑا ہے کسی نے..
کہاں پہ لا کے چھوڑا کسی نے
قفس کی تیلیاں رنگین کیوں ہیں
یہاں پہ سر کو پھوڑا ہے کسی نے
میں اونچی شاہ دروں سے پوچھتا ہوں
کہ ٹوٹا دل بھی جوڑا ہے کسی نے
دل امید توڑا ہے کسی نے..
نہ سماعتوں میں تپش گُھلے نہ نظر کو وقفِ عذاب کر
جو سنائی دے اُسے چپ سِکھا جو دکھائی دے اُسے خواب کر
ابھی منتشر نہ ہو اجنبی، نہ وصال رُت کے کرم جَتا!
جو تری تلاش میں گُم ہوئے کبھی اُن دنوں کا حساب کر
مرے صبر پر کوئی اجر کیا مری دو پہر پہ یہ ابر کیوں؟
مجھے اوڑھنے دے اذیتیں مری عادتیں نہ خراب کر
کہیں آبلوں کے بھنور بجیں کہیں دھوپ روپ بدن سجیں
کبھی دل کو تِھل کا مزاج دے کبھی چشمِ تِر کو چناب کر
یہ ہُجومِ شہرِ ستمگراں نہ سُنے گا تیری صدا کبھی،
مری حسرتوں کو سُخن سُنا مری خواہشوں سے خطاب کر
یہ جُلوسِ فصلِ بہار ہے تہی دست، یار، سجا اِسے
کوئی اشک پھر سے شرر بنا کوئی زخم پھر سے گلاب
ہم تو بس خواب ہیں...
کچهہ پل کے لیے دیکهو ہمیں
پهر کسی آنکهہ، کسی نیند
میں آئیں گے نہیں
پهر کسی راہ،کسی موڑ پر
ہم ہوں گے نہیں
ہم تو بس گرد ہیں...
کچهہ دیر میں مٹ جائیں گے
ہم تو خوشبو ہیں..
ہمیں رنگ نہ کوئی دینا
صرف احساس کو چهو کر ہے گزر جانا ہمیں
ہم تو آنسو ہیں..
بہیں گے تو
نہ لوٹیں گے کبهی
ہم تو بس زخم ہیں..
سینے کا....ہمیں بهرنا ہے
ہم وہ احساس کی بیلیں ہیں..
جو چهاؤں چاہیں
درد کی دهوپ جو چهو لیں تو ہمیں مرنا ہے
ہم تو بس خواب ہیں...
کچهہ پل میں بکهرنے والے..
کبھی جب میں نہیں ہونگا
تمہیں سب یاد آئے گا..
وہ میری بے کراں چاہت
تمہارے نام کی عادت
وہ میرے عشق کی شدت
وصال و ہجر کی لذت..
تمہاری ہر ادا
کو شاعری کا رنگ دے دینا
خود اپنی خواہشوں کو بے بسی کا رنگ دے دینا
تمہیں سب یاد آئے گا..
وہ میری آنکھ کا نم بھی
وفاؤں کا وہ موسم بھی
جنوں خیزی کا عالم بھی
مری ہر اک خوشی ہر غم بھی..
مرا وہ مسکرا کر درد کو دل سے لگا لینا
تمہاری خواب سی آنکھوں کا ہر آنسو چرا لینا
تمہیں سب یاد آئے گا..
تمہاری سوچ میں رہنا
تمہاری بے رخی سہنا
بُھلا کر رنجشیں ساری
فقط "اپنا" تمہیں کہنا..
تمہارے نام کو تسبیح کی صورت
صورت بنا لینا
تمہارے ذکر سے دل کا ہر اک گوشہ سجا لینا..
ابھی تو مسکرا کر تم مری باتوں کو سنتے ہو
مگر یہ جان لو جاناں!
مگر یہ جان لو جاناں!
تمہیں سب یاد آئے گا
کبھی جو میں نہی ہونگا..
!!..اُس سمت چلے ہو تو بس اتنا اُسے کہنا..!!
!!..اب کوئی نہیں حرفِ تمنا اُسے کہنا.......!!
!!..اُس نے ہی کہا تھا تو یقیں میں نے کیا تھا
!!..اُمید پہ قائم ہے یہ دُنیا اُسے کہنا.........!!
!!..دُنیا تو کسی حال میں جینے نہیں دیتی..!!
!!..چاہت نہیں ہوتی کبھی رسوا اُسے کہنا...!!
!!..زرخیز زمینیں کبھی بنجر نہیں ہوتیں......!!
!!..دریا ہی بدل لیتے ہیں رستہ اُسے کہنا...!!
!!..وہ میری رسائی میں نہیں ہے تو عجب کیا
!!..حسرت بھی تو ہےعشق کا لہجہ اُسے کہنا
!!..کچھ لوگ سفر کے لیے موزوں نہیں ہوتے
!!..کچھ راستے کٹتے نہیں تنہا اسے کہنا...!!
رنگِ جنوں
کوئی دھوپ چهاؤں کا موسم ھو
اور مدھم مدھم بارش ھو
ھم گهری سوچ میں بیٹھے ھوں
سوچوں میں سوچ تمهاری ھو
اس وقت تم ملنے آ جاؤ
اور خوشی سے پلکیں بهاری ھوں
ھم تم دونوں خاموش رهیں
اور زباں پر آنکهیں حاوی هوں
تم تھام لو میرے هاتھوں کو
اور لفظ زباں سے جاری ھوں
میں تم سے محبت کرتا ھوں
اور جذبوں میں سرشاری ھو
هاتهوں کی لکیریں مل جائیں
سنگ چلنے کی تیاری ھو
سب خوابوں کو تعبیر ملے
اور ھم پر خوشیاں واری ھوں