لغزشوں سے ماوراء تو بھی نہیں میں بھی نہیں
دونوں ہیں انساں خدا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
جرم کی نوعیت میں تفاوت ہو تو ہو
در حقیقت پارسا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
مصلحت نے کر دیا پیدا دونوں میں اختلاف
ورنہ فطرت کا برا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
میں وفا کی راہ پہ گامزن تو جفا کی راہ پہ گامزن
مڑ کے پیچھے دیکھتا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
رات بھی ویراں اور فصیلِ شہر بھی تو ٹوٹی ہوئی
اور ستم یہ کہ جاگتا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
قتیل تو بھی تھا ضدی اور انا مجھ میں بھی تھی
دونوں تھے خود سر , جھکا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
0

0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.