آسماں ہے، نہ زمیں ہے، نہ خلا، کچھ بھی نہیں
عالمِ ہست نہونے کے سوا کچھ بھی نہیں
میں یہ سمجھا مرے ہونے سے بہت کچھ ھوگا
میں یہ جانا مرے ہونے سے ہوأ کچھ بھی نہیں
میں تو پہلے ہی بدن اپنا اُتار آیا تھا
عشق کی آگ میں کُودا تو جلا کچھ بھی نہیں
غلغلہ تھا مرے پُرکھوں کی وراثت کا بہت
ہاں خزانہ تھا! مگر اس میں بچا کچھ بھی نہیں
سادے کاغذ پہ بہت رنگ انڈیلے لیکن
اپنی تصویر بنانے سے بنا کچھ بھی نہیں
ہے کسی عکس کی غفلت سے تماشہ ورنہ
دہر کے آئنہ خانے میں دھرا کچھ بھی نہیں
کوئی دھوکہ ہے مری بے سروسامانی بھی
یا تو سب کچھ ہی مرے پاس ہے یا کچھ بھی نہیں
اُس کے دیکھے سے نشہ، بات جو کرلے تو شفا
اپنے پلّے میں تو دارو نہ دوا کچھ بھی نہیں
اُس علاقے میں کوئی رات گزار آیا ہے
جس علاقے میں بجز ذاتِ خدا کچھ بھی نہیں
یہ الگ بات کہ دریا کو ملی موجِ دوام
ورنہ مشکیزے کو دریا سے ملا کچھ بھی نہیں
میں نے تقریر سے شمشیر کا منہ توڑ دیا
تم تو کہتے تھے مرے بس میں رہا کچھ بھی نہیں
٭توکل کیا ہے۔۔۔۔؟٭
-----------------
!شدید بارش کے سبب ٹیکسی لینا ہی بہتر تھا، چنانچہ میں نے ایک ٹیکسی کو اشارہ کیا۔۔۔
"ماڈل کالونی چلو گے۔۔۔؟"
ٹیکسی والا: "جی بالکل حضور۔۔۔!"
"کتنے پیسے لو گے۔۔۔؟"
ٹیکسی والا: "جو دل کرے دے دینا سرجی۔۔۔۔!"
"پھر بھی۔۔۔؟"
ٹیکسی والا: "سر! ایک بات کہوں برا مت ماننا۔ میں ایک جاہل آدمی ہوں۔ پر اتنا جانتا ہوں کہ جو الله نے میرے نام کا آپکی جیب میں ڈال دیا ہے، وہ آپ رکھ نہیں سکتے اور اس سے زیادہ دے نہیں سکتے، توکل اسی کا نام ہے۔۔۔!"
اس ٹیکسی والے کی بات میں وہ ایمان تھا جس سے ہم اکثر محروم رہتے ہیں۔
خیر میں ٹیکسی میں بیٹھ گیا، ابھی ہم تھوڑا ہی آگے گئے تھے کہ مسجد دکھائی دی۔
ٹیکسی والا: "سر جی! نماز پڑھ لیں پھر آگے چلتے ہیں، کیا خیال ہے۔۔۔؟" اس نے ٹیکسی مسجد کی طرف موڑ لی۔
ٹیکسی والا: "آپ نماز ادا کریں گے۔۔۔؟"
"کس مسلک کی مسجد ہے یہ۔۔۔؟"
میرا سوال سن کر اس نے میری طرف غور سے دیکھا، "باؤ جی! مسلک سے کیا لینا دینا، اصل بات سجدے کی ہے، الله کے سامنے جھکنے کی ہے۔ یہ الله کا گھر سب کا ہے۔۔۔"
میرے پاس کوئی عذر باقی نہیں تھا۔ نماز سے فارغ ہوئے اور اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگے۔
"سر جی! آپ نماز باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔۔۔؟"
"کبھی پڑھ لیتا ہوں، کبھی غفلت ہو جاتی ہے۔۔۔!" یہی سچ تھا۔
ٹیکسی والا: "سر جی! جب غفلت ہوتی ہے تو کیا یہ احساس ہوتا ہے کہ غفلت ہو گئی اور نہیں ہونی چائیے تھی۔۔۔؟ معاف کرنا، میں آپکی ذات پر سوال نہیں کر رہا۔ لیکن اگر احساس ہوتا ہے تو الله ایک دن آپ کو ضرور نمازی بنا دے گا، اور اگر احساس نہیں ہوتا تو----!!"
اُس نے دانستہ طور پر جملہ ادھورا چھوڑ دی اور خاموش ہو گیا- اسکی خاموشی مجھے کاٹنے لگی۔
"تو کیا۔۔۔؟" میرا لہجہ بدل گیا۔
ٹیکسی والا: "اگر آپ ناراض نہ ہوں تو کہوں۔۔۔؟"
"ہاں بولیں۔۔۔!ً"
ٹیکسی والا: "اگر غفلت کا احساس نہیں ہو رہا تو آپ اپنی آمدن کے وسائل پر غور کریں، اور اپنے الله سے معافی مانگیں، کہیں نہ کہیں ضرور الله آپ سے ناراض ہے۔۔۔!"
ہم منزل پہ آ چکے تھے۔ میں نے اسکے توکل کا امتحان لینے کیلئے جیب سے پچاس کا نوٹ نکالا اور اس کے ہاتھ پہ رکھ دیا۔ اس نے بسم الله کہا اور نوٹ جیب میں رکھ کر کار موڑنے لگا۔
میں نے آواز دی، وہ رک گیا۔
ٹیکسی والا: "حکم سر جی۔۔۔؟"
"تم ان پیسوں میں خوش ہو۔۔۔؟"
ٹیکسی والا: "سر جی! مشکل سے بیس روپے کا پٹرول جلا ہو گا۔ الله نے اس خراب موسم میں بھی میرے بچوں کی روٹی کا انتظام کر دیا ہے۔۔۔!"
میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں نے جیب سے مزید دو سو نکالے اور اسے دینے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔
وہ مسکراتے ہوئے بولا، " سر جی! دیکھا آپ نے، میرا حق پچاس روپے تھا، اور الله کے توکل نے مجھے دو سو دیا۔۔۔!"
وہ ٹیکسی والا تو چلا گیا، لیکن جاتے جاتے اللہ پر میرے ایمان اور توکل کو جھنجھوڑ گیا۔۔۔!
بتاو کیا لکھیں تم کوــــــــــ؟؟؟
کہ لفظوں کا چناو بھی
بڑا دشوار ہوتا ہے
جو تم کو جان لکھتے ہیں
وفائیں خوب روتی ہیں
ہمیں آکر یہ کہتی ہیں
کہ تم اپنے ہی قاتل کو
اپنی جان لکھتے ہو ـــــــ
کبھی ایمان لکھتے ہو
یہ تم اچھا نہیں کرتے
تو پھر یہ سوچتے ہیں ہم
تمھیں اب سوگ لکھتے ہیں
کوئی مستقل سا روگ لکھتے ہیں
سوگ کو منانے میں
روگ کو بُھلانے میں
عُمر بیت جاتی ہے ـــــ
روگ دینے والوں کو لوگ بھول جاتے ہیں
بُھول جانے والوں کا سوگ تو نہیں ہوتا
چلو تم ہی بتاو اب ؟؟؟؟
اجنبی یا پھر آشنا لکھیں
اپنے نا کردہ گُناہوں کی
کوئی سزا لکھیں
بتاو تم کو کیا لکھیں ۔۔۔؟؟؟
عبرت اور سبق آموز واقعہ
امام ابن جوزی رحمة اللہ علیہ نے ایک نہایت ہی سبق آموز واقعہ بیان کیا ہے
اصفہان کا ایک بہت بڑا رئیس اپنی بیگم کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھا ہوا تھا دسترخوان اﷲ کی نعمتوں سے بھرا ہوا تھا اتنے میں ایک فقیر نے یہ صدا لگائی کہ اﷲ کے نام پر کچھ کھانے کے لیے دے دو اس شخص نے اپنی بیوی کو حکم دیا کہ سارا دستر خوان اس فقیر کی جھولی میں ڈال دو عورت نے حکم کی تعمیل کی جس وقت اس نے اس فقیر کا چہرہ دیکھا تو دھاڑیں مارکر رونے لگی اس کے شوہر نے اس سے پوچھا........جی بیگم آپ کو ہوا کیا ہے ؟
اس نے بتلایا کہ جو شخص فقیر بن کر ہمارے گھر پر دستک دے رہا تھا وہ چند سال پہلے اس شہر کا سب سے بڑا مالدار اور ہماری اس کوٹھی کا مالک اور میرا سابق شوہر تھا چند سال پہلے کی بات ہے کہ ہم دونوں دسترخوان پر ایسے ہی بیٹھ کر کھانا کھارہے تھے جیسا کہ آج کھارہے تھے اتنے میں ایک فقیر نے صدا لگائی کہ میں دو دن سے بھوکا ہوں ﷲ کے نام پر کھانا دے دو یہ شخص دسترخوان سے اٹھا اور اس فقیر کی اس قدر پٹائی کی کہ اسے لہولہان کردیا نہ جانے اس فقیر نے کیا بد دعا دی کہ اس کے حالات دگرگوں ہو گئے کاروبار ٹھپ ہوگیا اور وہ شخص فقیر و قلاش ہوگیا اس نے مجھے بھی طلاق دے دی اس کے چند سال گذرنے کے بعد میں آپ کی زوجیت میں آگئی شوہر بیوی کی یہ باتیں سن کر کہنے لگا
بیگم کیا میں آپ کو اس سے زیادہ تعجب خیز بات نہ بتلاوں؟
اس نے کہا ضرور بتائیں
کہنے لگا جس فقیر کی آپ کے سابق شوہر نے پٹائی کی تھی وہ کوئی دوسرا نہیں بلکہ میں ہی تھا... ( کتاب العبر صفہ ٣٤ مطبع مصر )
گردش زمانہ کا ایک عجیب نظارہ یہ تھا کہ اﷲ تعالیٰ نے اس بدمست مالدار کی ہرچیز ، مال ، کوٹھی ، حتیّٰ کہ بیوی بھی چھین کر اس شخص کو دے دیا جو فقیر بن کر اس کے گھر پر آیا تھا اور چند سال بعد پھر اﷲ تعالیٰ اس شخص کو فقیر بنا کر اسی کے در پر لے آیا
واﷲ علی کل شی قدير
جو محبتیں ہمیں توڑ کر اللہ سے جوڑتی ہیں انھیں ہرگز کوسنا نہیں چاہئے. ان کے حق میں دعائیں کرنی چاہئے کہ انھوں نے آپ کو کمزور ، بے فیض سہاروں سے محروم کر کے آپ کو اکیلاچھوڑا . آپ کو توڑا تا کہ آپ ٹوٹے ہوئے وجود سے جھکیں ،تو سامنے اللہ دکھائی دے . وہ اللہ جو تب بھی وہاں موجود تھا ، جب ہم سرابوں میں تھے .وہ تب بھی تھا ، جب ہم بت سجائے دلوں میں، آسمان میں اڑتے تھے اور وہ اب بھی وہاں موجود ہے جب ہم ٹوٹے پروں سے زمیں پر گر کر چکنا چور ہوگئے ہیں . ہم تھام کیوں نہیں لیتے ، اس مضبوط سہارے کو . آخر یہ ٹوٹنا بکھرنا اور کب تک .... ؟
مگر نہیں.. ہم ذرا سے سنبھلتے ہیں ، تو اٹھ کر پھر سے نت نئے چہروں کو دیکھتے ہیں .
آرزوئیں کرتے ہیں ہم دشت میں خود ریت پھانکتے پھرتے ہیں ورنہ ! ہمیں دیس نکالے نہیں ہیں . ہم آج بھی چاہیں ، تو اپنے راستے ہدایت والوں کی طرف موڑ دیں اور یقیں جانو ! رب کی مقرر کردہ حدود میں ہی سکون ہے
میں برسوں سے جھیل کا گہرا پانی
تم برسوں سے منزل سے انجان مسافر
چلتے چلتے تھک کر یونہی
ایک دن تم میرے کنارے پر آ بیٹھے
تم نے اپنا دل بہلانے کو
مجھ میں اک کنکر پھینکا
تب سے اب تک میری لہروں میں ہلچل ہے
تم نے مجھ سے میرا جو ٹھراؤ چھینا
واپس کردو ۔
!!!یا پھر
مجھ کو اپنی منزل جان کے
مجھ میں اترو
پھر مجھ میں یوں گم ہو جاؤ
جیسے جھیل کے پانی میں
!!!بارش کی گرتی بوندیں ۔۔۔۔
اپنی زندگی کے 17 سالوں میں بڑے عابد و زاھد لوگوں کے ساتھ اٹھی بیٹھی.
اورمیں نےان سب سےبھت کچھ سیکھا.
میں بھت پرھیزگاروں سے بھی ملی.
اور انکی باتوں کو مد نظر رکھا.
اور پھر جب ان سب کو چھوڑا.
توسب سے پھلے جو میں نے کام شروع کیا.
مجھے اس کام سےبڑی گھن تھی.
بڑی ازیت ملتی تھی.
برداشت نھیں ھوتا تھا.
مگر میں کیاکرتی میرا اپنا کوئی رنگ نھیں تھا.
یه سب مجھے علحیده علحیده سے رنگ دینا چاھتے تھے.
لیکن میں اپنی ذات کے لیے صرف ایک ھی رنگ چاھتی تھی
پھر چند دن پھلے میں نے ان سب کے رنگوں میں خود کو رنگنےکاسوچاتو میں نے.
چند دن پھلے وه کیاجوان سب کے رنگوں میں جھلکتاھے.
میں نے ان سب لوگوں کو خدا حافظ کھا.
اور انکو چھوڑنے کےبعد
خودکو
جھوٹ کے رنگ میں رنگنا شروع کر دیا.
خواھشوں کے آنگن میں ۔۔۔۔۔
!!رات دن بسیرے تھے
تتلیاں تمہاری تھیں۔۔۔۔۔۔
!!اور پھول میرے تھے
چاند آسمانوں سے، جب زمین پہ اترتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
!!!دیکھنے میں راتیں تھی اصل میں سویرے تھے
تیرے پاس بسنے کی کھائی تھی قسم ، لیکن ۔۔۔۔۔۔۔
!!!!شہر بھی پیارا تھا، لوگ بھی لُٹیرے تھے ۔۔۔۔۔۔
!!!لوٹ گئے ھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محسن
تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قصور کس کا ھے ؟؟
!!!خواھشیں بھی تیری تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
!فیصلے بھی تیرے تھے ۔۔۔۔۔۔۔
- ایک حسین خواب بنا کر تم
مجھے ہر پل اپنی نگاہوں میں رکھنا
چھو نہ سکیں مجھے یہ ہوائیں بہکی سی
مجھے قید اپنی وفاؤں میں رکھنا
میں خاک ہوں بکھر نہ جاؤں کہیں
مجھے سمیٹ کر اپنے ہاتھوں میں رکھنا
جو کرو تم محبّت حدوں سے گزر کر
میرا نام تم اپنی محبّت میں رکھنا
میں کرتا ہوں احساس تمہارا
تم بھی مجھے یاد اپنی دعاؤں میں رکھنا
کبھی بکھر نہ سکے دردیشے زمانہ
مجھے اپنے پیار کی پناہوں میں رکھنا
Jab Wo Chalta Hai To Khushbu Ko HaWa Deta Hai
Mera DilL Or Zuban Usy Jeeny Ki DuaA Deta Hai,
Wo Mery Ghum Apni Palk0n Mai Chupa Leta Hai
Meri Auqat Se Barh Kar Wo Muje Chahata Hai,
Mujh Ko Chahat K Naye T0r Sikha Deta Hai
Us Ki Dosti Ki Gehrai Ka Mujhe ilmM Nahi,
Jab kabi Roye To Mujh Ko Bhi Rula Deta Hai
Heran Hon Khud Apni Taqeer Pey Main,
K Kisi Ko Aisa Bhi Dost Khuda Deta Hai,
Chehra Koi Bhi Aankh Mein Thehra Na Phir Kabhi,
Dil Ne Kisi Bhi Shakhs Ko Chaha Na Phir Kabh,
Rootha Zara Si Baat Pe Uth Kar Chala Gaya,
Aisa Gaya K Laut k Aaya Na Phir Kabhi,
Kuch Youn Mila Ikhlak Se k Bus Ishq Ho Gaya,
Wo Ajnabi Tha? Kon Tha? Socha Na Phir Kabhi..!!!