ان سنی ہے ان کہی ہے زندگی
ہے مری پر اجنبی ہے زندگی
حادثے پہ حادثہ پھر حادثہ
زندگی، کیا زندگی ہے زندگی
ریزے چن کے جوڑنا پھر ٹوٹنا
مفلسی ہے ، بے کسی ہے زندگی
دعوے سارے جان دینے کے مگر
بے رخی ہے، دل لگی ہے زندگی
روز کر کے وعدے خود سے بھولنا
سرکشی ہے, دھاندلی ہے زندگی
خواب ہیں کچھ،پر ہیں تعبیریں الٹ
ظاہری ہے، کاغذی ہے زندگی
اس کے پیچھے ہم سے کتنے مر مٹے
مبتلائے بندگی ہے زندگی
موت کی مانند یہ پیچھے لگی
بھا گئی جو دشمنی ہے زندگی
جانے کس دنیا سے ہیں جو یہ کہیں
نغمگی ہے، شاعری ہے زندگی
تو نہ مانے پھر بھی سچ ابرک یہی
عاجزی ہے، عارضی ہے زندگی
2

.jpg.153072731c50866018480402c066a542.jpg)
1 Comment
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.