میں کسے سنا رہا ہوں یہ غزل محبتوں کی
کہیں آگ سازشوں کی ، کہیں آنچ نفرتوں کی
-
کوئی باغ جل رہا ہے ، یہ مگر مری دعا ہے
مرے پھول تک نہ پہنچے یہ ہوا تمازتوں کی
-
مرا کون سا ہے موسم مرے موسموں کے والی!
یہ بہار بے دلی کی ، یہ خزاں مروتوں کی
-
میں قدم بام و در میں انہیں جا کے ڈھونڈتا ہوں
وہ دیار نکہتوں کے ، وہ فضائیں چاہتوں کی
-
کہیں چاند یا ستارے ہوئے ہم کلام مجھ سے
کہیں پھول سیڑھیوں کے ، کہیں جھاڑیاں پتوں کی
-
مرے کاغذوں میں شاید کہیں اب بھی سو رہی ہو
کوئی صبح گلستاں کی ، کوئی شام پربتوں کی
-
کہیں دشت دل میں شاید مری راہ تک رہی ہو
وہ قطار جگنوں کی ، وہ مہک ہری راتوں کی
-
یہ نہیں کہ دب گئی ہے کہیں گرد روز و شب میں
وہ خلش محبتوں کی ، وہ کسک رفاقتوں کی


0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.