Jump to content

FDF Members Poetry

  • entries
    163
  • comments
    120
  • views
    37,453

Contributors to this blog

حسرت جلوۂ دیدار لیے پھرتی ہے


حسرت جلوۂ دیدار لیے پھرتی ہے
پیش روزن پس دیوار لیے پھرتی ہے
اس مشقت سے اسے خاک نہ ہوگا حاصل
جان عبث جسم کی بیکار لیے پھرتی ہے
دیکھنے دیتی نہیں اس کو مجھے بے ہوشی
ساتھ کیا اپنے یہ دیوار لیے پھرتی ہے
کسی فاسق کے تو منہ کو نہ کرے گی کالا
کیوں سیاہی یہ شب تار لیے پھرتی ہے
تو نکلتا نہیں شمشیر بکف اے قاتل
موت میرے لیے تلوار لیے پھرتی ہے
مال مفلس مجھے سمجھا ہے جنوں نے شاید
وحشت دل سر بازار لیے پھرتی ہے
کعبہ و دیر میں وہ خانہ برانداز کہاں
گردش کافر و دیں دار لیے پھرتی ہے
رنج لکھا ہے نصیبوں میں مرے راحت سے
خواب میں بھی ہوس یار لیے پھرتی ہے
چال میں اس کی سراپا ہے کسی کی تقلید
کبک کو یار کی رفتار لیے پھرتی ہے
در یار آئے ٹھکانے لگے مٹی میری
دوش پر اپنے صبا بار لیے پھرتی ہے
ہنستے ہیں دیکھ کے مجنوں کو گل صحرائی
پا برہنہ طلب خار لیے پھرتی ہے
سایہ سا حسن کے ہمراہ ہے عشق بے باک
ساتھ یہ جنس خریدار لیے پھرتی ہے
کسی صورت سے نہیں جاں کو فرار اے آتشؔ
تپش دل مجھے لاچار لیے پھرتی ہے
......

16299467_1597335046950154_4123967782764836472_n.jpg

0 Comments


Recommended Comments

There are no comments to display.

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.