آپ ہی آپ پاس آئے ہیں
قاصدوں جان مانگ لو چاہے
گر خبر آپ ان کی لائے ہیں
ہم کو لکھا کہ جا چلا جا تو
کیسے جائیں کہ تیرے سائے ہیں
ایک میں ہی نہیں مکیں اپنا
آپ مہمان بن بلائے ہیں
خاک آئے کوئی حسین نظر
آپ جب آنکھ میں سمائے ہیں
آپ تو دے کے زخم بھول گئے
ہم نے مرہم وہ سب بنائے ہیں
عشق کے روگ نے ستایا تھا
اب طبیبوں کے ہم ستائے ہیں
آپ کو زندگی کہا کیونکہ
زندگی کو بھی ہم نہ بھائے ہیں
کون کافر کرے جفا ابرک
وہ خیالوں میں مسکرائے ہیں
مانتا ہوں وفا نہیں لازم
خواب کیوں باوفا دکھائے ہیں
- Read more...
- 1 comment
- 1,311 views
