Jab se yah fasle berhaye hain
جب سے یہ فاصلے بڑھائے ہیں
آپ ہی آپ پاس آئے ہیں
قاصدوں جان مانگ لو چاہے
گر خبر آپ ان کی لائے ہیں
ہم کو لکھا کہ جا چلا جا تو
کیسے جائیں کہ تیرے سائے ہیں
ایک میں ہی نہیں مکیں اپنا
آپ مہمان بن بلائے ہیں
خاک آئے کوئی حسین نظر
آپ جب آنکھ میں سمائے ہیں
آپ تو دے کے زخم بھول گئے
ہم نے مرہم وہ سب بنائے ہیں
عشق کے روگ نے ستایا تھا
اب طبیبوں کے ہم ستائے ہیں
آپ کو زندگی کہا کیونکہ
زندگی کو بھی ہم نہ بھائے ہیں
کون کافر کرے جفا ابرک
وہ خیالوں میں مسکرائے ہیں
مانتا ہوں وفا نہیں لازم
خواب کیوں باوفا دکھائے ہیں

1

1 Comment
Recommended Comments
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now