Muje Maloom Hy Ky Mai
مجھے معلوم ہے کہ "میں"
زمانے بھر کی آنکھوں میں
بڑی شدت سے چبھتی ہوں
میری باتیں ، میری سوچیں
زمانے بھر کی سانسوں میں بڑی تکلیف بھرتی ہیں
مجھے معلوم ہے کہ "میں"
" کبھی کچھ تھی ، نہ اب کچھ ہوں"
مگر پھر بھی زمانہ سرد آنکھوں سے مجھے کیوں تکتا رہتا ہے
کسی کو کیا
میں جو لکھوں ، جہاں لکھوں
" کسی کو جان جاں لکھوں "
یا نہ لکھوں
جلا دوں شاعری اپنی
یا اس کو طاق پر رکھوں
کسی کو اس سے کیا مطلب
کسی کو مجھ سے کیا مطلب
تو اب جو لوگ مجھ کو اپنا کہتے ہیں
مجھے نفرت سے تکتے ہیں
کہ میں نے اب تلک
سارے زمانے کی نگاہوں کو فقط پیاسا ہی رکھا ہے
انھیں تسکیں نہیں بخشی
مگر بخشوں تو کیوں بخشوں
کسی لمحے جو میں سوچوں
بھلا کیوں نہ کروں ایسا
زمانے بھر کی آنکھوں میں نمی بھردوں
زمانے بھر کی سانسوں میں کمی کردوں
مگر کیسے کروں ایسا
"زمانہ اپنی ہی موت آپ مر جائے تو اچھا ہے"
کہ میں اس کی ان آنکھوں کو نکالوں گی
- تو دکھ ہوگا

1 Comment
Recommended Comments
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now