دنیا سے ہٹ کر اپنی ہی دنیا بنا لی ہم نے
محفلوں میں بات نہ بنی تنہائی سجا لی ہم نے
خوابوں کو حقیقت کے خوف نے مارا جب
تو دل میں ہی قبریں بنا لی ہم نے
مردہ حسرتوں کی جگہ دل میں کم پڑی تو
اپنی روح ہی قبرستانوں میں بسا لی ہم نے
مال و دولت کی حرص کو پاوں تلے رکھ کر
فقیرانہ زندگی گزاری ہم نے
پیار و محبت سے بات چلی جو عشق حقیقی تک پہنچی
مانی تیری ایک بھی نہ عشق مجازی ہم نے
دکھ درد و غم کا مسلسل آنا جانا رہا
سرخ جھنڈی خوشیوں کو دکھا دی ہم نے
رشتوں میں احساس جگانے کے لیے
غیروں سے دوستی نبھا لی ہم نے
دن بھر سوچوں کا ہجوم رہا
شب بھر جاگ کے گزاری ہم نے
اے دل مضطرب تیری بے چینیاں بجا ہیں آج
کہ چلنے نہ دی تیری من مانی ہم نے
کمبخت موت کے انتظار میں
ساری عمر گنوادی ہم نے
دعا و صبر کا رہا ساتھ ہمیشہ
حرام موت سے زندگی بچا لی ہم نے
ہر پل اذیت میں رہے طاہر ہم
عمر بھر خود کو سزا دی ہم نے


1 Comment
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.