چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے
اس رینگتی حیات کا کب تک اُٹھائیں بوجھ
بیمار اب اُلجھنے لگے ہیں طبیب سے
ہر غم پہ ہے مجمئہ عُشاق منتظر
مقتل کی راہ ملتی ہے کوئے حبیب سے
اس طرح زندگی نے دیا ہے ہمارا ساتھ
جیسے کوئی نبھا رہا ہو رقیب سے
اے روحِ عصر جاگ، کہاں سو رہی ہے تُو
آواز دے رہے ہیں پیمبر صلیب سے
- Read more...
- 3 comments
- 2,211 views
