کبھی آنکھوں کی عبادت گاہ میں بیٹھے
پُرانے طاقچوں میں گُل
چراغوں کو نئے لو سے رفو کر کے
کوئ گمگشتہ سیپارہ پڑھوں
شاید
نفی اثبات کُھل جاۓ
قدر کی رات کُھل جاۓ
کبھی ہونٹوں کے محرابوں پہ لکھی آیتیں
میں روح کی مسجد میں دُہراؤں
حصارِ کائناتِ جسم سے باہر نکل آؤں
کبھی حیرت زدہ اشکوں کے آبِ زم زم سے وضو کر کے
کسی اطہر جبیں کے سنگِ اسود کے بوسے لوں
کبھی ذات کے غارِ حرا میں بیٹھ کے سجدے کروں
شاید
اِسی صورت کبھی مجھ پر
محبّت کی وحی اُترے
2


1 Comment
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.