میرے ہر وصل کے دَوران مجھے گُھورتا ہے
اِک نئے ہجر کا اِمکان مجھے گُھورتا ہے
میرے ہاتھوں سے ہیں وابستہ اُمیدیں اُس کی
پُھول گرتے ہیں تو، گُلدان مجھے گُھورتا ہے
آئینے میں تو کوئی اور تماشہ ہی نہیں !
میرے جیسا کوئی اِنسان مجھے گُھورتا ہے
اب تو یُوں ہے کہ گُھٹن بھی نہیں ہوتی مجھ کو
اب تو وحشت میں گریبان مجھے گُھورتا ہے
میں تو ساحِل سے بہت دُور کھڑا ہُوں، پِھر بھی!
ایسا لگتا ہے کہ طوُ فان مجھے گُھورتا ہے
میری تمثیل کے کِردار خَفا ہیں مجھ سے
میرے افسانے کا عُنوان مجھے گُھورتا ہے
1

0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.