"عادت"
"عادت"
نہ اب وہ وقت پہلے سا
نہ وہ حالت ہے پہلے سی
کہاں وہ وقت تھا ہم پر
کہ اِک دوجےکو بِن دیکھے
کبھی نہ دن گزرتا تھا
کبھی نہ رات کٹتی تھی
جو سوچے بن گزرتی تھی
اور اب یہ وقت ہے ہم پر
بہانے بھی بنانے کو۔۔۔کوئی لمحہ نہیں باقی
نہ وہ دلچسپیاں باقی
نہ ہی پہلے سی چاہت میں۔۔۔رہیں کچھ شدتیں باقی
نہ جذبوں میں حرارت ہے
نہ باتوں میں شرارت ہے
نہ شکوہ ہے، شکایت ہے
گزرتے وقت کے ہمراہ۔۔۔۔ سبھی کچھ خواب لگتا ہے
اگر باقی ہےتو۔۔۔ یہ کہ
وہ اب بھی یاد آتا ہے
کبھی بے کار مطلب سے
کبھی انجان حوالے سے
عداوت کے بہانے سے!
شکایت کے بہانے سے
مجھے وہ یاد آتا ہے!
.....اِک عادت کے بہانے سے
1

2 Comments
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.