دیکھا ہے زندگی کو کچھ اتنا قریب سے
چہرے تمام لگنے لگے ہیں عجیب سے
اس رینگتی حیات کا کب تک اُٹھائیں بوجھ
بیمار اب اُلجھنے لگے ہیں طبیب سے
ہر غم پہ ہے مجمئہ عُشاق منتظر
مقتل کی راہ ملتی ہے کوئے حبیب سے
اس طرح زندگی نے دیا ہے ہمارا ساتھ
جیسے کوئی نبھا رہا ہو رقیب سے
اے روحِ عصر جاگ، کہاں سو رہی ہے تُو
آواز دے رہے ہیں پیمبر صلیب سے
-
3
3 Comments
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.