Shereen Shiekh🚀 Posted January 13, 2017 Posted January 13, 2017 درودِ پاک بہت بڑا سہارا اور خزانہ ھے عمل نیت کا محتاج ہے. مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے. درود پاک کثرت سے پڑهنےکی نیت کرنے والوں میں شامل ہوجا ئیں اس مبارک نیت میں شامل ہونےکی دعوت دیں اور آپ بهی شامل ہوجا ئیں. أعوذ بالله من الشيطان الرجيم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ إِنَّ الـلَّـهَ وَمَـلَـائِـكَـتَـهُ يُـصَـلُّـونَ عَـلَـى الـنَّـبِـيِّ يَـا أَيُّـهَـا الَّـذِيـنَ آمَـنُـوا صَـلُّـوا عَـلَـيْـهِ وَسَـلِّـمُـوا تَـسْـلِـيـمًـا {Al-Ahzab:56 بے شک الله اور اس کےفرشتےدرود بهيجتےھيں آپ صلی اللہ علیه وآله وسلم پر۰ اے ایمان والوں! تم بھی آپ صلی الله علیه وآله وسلم پر درود و سلام بهيجو۰ أعوذ بالله من الشيطان الرجيم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِہٖ وَسَلِّمُ ****************************************************---------------------------------------------------------------------------------- درود شریف عملِ الٰہی ہے۔ سُنت رب العرش عظیم ہے۔ اللّٰہ اور جناب نبی ء کریم صلى الله عليه و سلم کی رضا ہے۔افضل ترین عمل ہے ، عافیتِ دارین ہے ، نجات ہے ، دونوں جہاں کی بڑائی کا ضامن ہے ، رہبر و رہنما ہے ، معلم ہے ، واجبات و فرائض کی سب سے بڑی عادت ہے ، ردِ بَلا ہے ، عذاب قبر سے حفاظت ہے ، گناہوں کا کفارہ ہے ، قبولیتِ دُعا کی ضمانت ہے ، دین و دنیا کی تمام مہمات میں سریع التاثیر ہے۔ ہر عبادت اللّٰہ کے لئے ہوتی ہے لیکن درود شریف اللّٰہ کا عمل ہے، اپنے رب کی ہاں میں ہاں ملانے کا نام ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے اگر ہم کسی پر اپنا عتاب و عذاب نازل کریں اور اس کا دل مسجد میں یا نماز میں لگا ہو یا پھر درود پڑ ھتا ہوگا تو ہمارا عتاب و عذاب بھی رحمتوں میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اگر آسمانوں سے آگ اور پتھر برسنے لگیں اور زمین فتنہ فساد کا لاوہ اُبلنے لگے تو دو ہی لوگ محفوظ رہینگے ،ایک وہ جس کا دل نماز یا مسجد میں لگا ہوگا ،دوسرا وہ جو درود پڑھتا ہوگا۔ ****************************************************** ************************************************************************************ درود پاک واحد الاحد ذریعہ ہے، آنحضور ﷺ کی نگاہ کرم میں رہنے کا، اور جس دن اک اشارہ ہوگیا نہ، پھر سمجھو کے بیڑہ پار ہے۔ ********************************************************************* فرمانِ مُصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم قیامت کے دن لوگوں میں سے میرے نزدیک زیادہ قریب وہ ہوگا جس نے دنیا میں مجھ پر زیادہ دُرُود پڑھا ہوگا ( ترمذی ، کنزالعمال ) ***************************************************************** فرمانِ مُصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم جس نے مجھ پرایک مرتبہ درودِ پاک پڑھا اللہ ( عزوجل ) اُس کے لئے دس ۱۰ نیکیاں لِکھ دیتا ہے اور دس ۱۰ گناہ معاف فرمادیتا ہے اور اُس کےدس ۱۰ درجات بُلند فرماتا ہے اور یہ دس ۱۰ غلام آزاد کرنے کے برابر ہے ( الترغیب والترہیب ) **************************************************************** فرمانِ مُصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم تم اپنی مجلِسوں کو مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھ کر آراستہ کرو کیونکہ تمہارا دُرُودِ پاک پڑھنا قِیامت کے روز تمہارے لئے نُور ہوگا ( جَامِعِ صِغِیْر ) **************************************************************** فرمانِ مُصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم بخیل ہے وہ شخص جس کے پاس میرا ذکر ہُوا اور اُس نے مجھ پر دُرُودشریف نہ پڑھا (مِشکوٰۃ ) *************************************************************** فرمانِ مُصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم تمہارا مجھ پر دُرُودِ پاک پڑھنا تمہاری دعاؤں کا مُحافظ ہے اور تمہارے لئے پروردگار کی رضا کا باعث ہے اور تمہارے اعمال کی طہارت ہے ( سعادۃُ الدارین ) ****************************************************************************************************************************** درود وسلام وہ واحد عبادت ھے جو ھر حال ميں قبول ومنظور ھوتی ھے **** =========================================== استغفار کے فوائدقرآن وسنت کی روشنی میں* استغفار کے بہت سے فوائد ہیں جنمیں سے چند درج ذیل ہیں:١ ۔ *استغفار گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے* ارشاد باری تعالی ہےوَمَن یَعْمَلْ سُوء اً أَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہُ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّہَ یَجِدِ اللّہَ غَفُوراً رَّحِیْما)''جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے تو وہ اللہ کو بخشنے والا'مہربانی کرنے والا پائے گا''(سورئہ نساء:١١٠) ٢۔ *استغفار گناہوں کے مٹانے اوردرجات کی بلندی کا ذریعہ ہے* 'رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''اللہ تعالی جب جنت میں نیک بندے کے درجہ کو بلند فرمائے گا تو بندہ عرض کرے گا :پروردگار یہ مرتبہ مجھے کیسے ملا؟اللہ تعالی فرمائے گاتیرے لئے تمہارے بچوں کے استغفار کے سبب ''(مسند احمد'شعیب ارنؤوط نے اس کی سند کو حسن قراردیا ہے ) ٣۔ *استغفار بارش کے نزول 'مال واولادکی ترقی اور دخول حنت کا سبب ہے* ' ارشاد باری تعالی ہے فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ اِنَّہُ کَانَ غَفَّاراً ' یُرْسِلِ السَّمَاء عَلَیْْکُمْ مِّدْرَاراً ' وَیُمْدِدْکُمْ بِأَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَیَجْعَل لَّکُمْ جَنَّاتٍ وَّیَجْعَل لَّکُمْ أَنْہَاراً)''اور میں(نوح علیہ السلام) نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواؤ(اور معافی مانگو)وہ یقینا بڑا بخشنے والا ہے 'وہ تم پرآسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑدے گا'اور تمہیں خوب پے درپے مال اور اولاد میں ترقی دے گا'اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لئے نہریں نکال دے گا''(سورئہ نوح:١٠۔١٢) ٤۔ *استغفار ہر طرح کی طاقت وقوت کی زیادتی کا ذریعہ ہے* :ارشاد باری تعالی ہےوَیَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُوْا ِلَیْْہِ یُرْسِلِ السَّمَاء َ عَلَیْْکُم مِّدْرَاراً وَیَزِدْکُمْ قُوَّةًالَی قُوَّتِکُمْ وَلاَ تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْن)''اے میری قوم کے لوگو!تم اپنے پالنے والے سے اپنی تقصیروں کی معافی طلب کرو اور اس کی جناب میں توبہ کرو'تاکہ وہ برسنے والے بادل تم پر بھیج دے اور تمہاری طاقت پراور طاقت وقوت بڑھادے اور تم جرم کرتے ہوئے روگردانی نہ کرو''(سورئہ ہود:٥٢) ٥۔ *استغفار سامانِ زندگی کا سبب ہے* ارشاد باری تعالی ہےوَأَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُواْ ِلَیْْہِ یُمَتِّعْکُم مَّتَاعاً حَسَناً ِالَی أَجَلٍ مُّسَمًّی وَّیُؤْتِ کُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَہُ)٫٫اور یہ کہ تم لوگ اپنے گناہ اپنے رب سے معاف کراؤپھر اسی کی طرف متوجہ رہو وہ تم کو وقت مقرر تک اچھا سامان (زندگی)دے گا اور ہر زیادہ عمل کرنے والے کو زیادہ ثواب دے گا''(سورئہ ہود:٣) ٦۔ *استغفار بندے کے دنیاوی واخروی عذاب سے بچاؤ کا ذریعہ ہے* ارشاد باری تعالی ہےوَمَا کَانَ اللّہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَأَنتَ فِیْہِمْ وَمَا کَانَ اللّہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُون)''اور اللہ تعالی ایسا نہ کرے گاکہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گااس حالت میں کہ وہ استغفار بھی کرتے ہوں''(سورئہ انفال:٣٣) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''بندہ عذاب الہی سے محفوظ رہتا ہے جب تک وہ استغفار کرتارہتا ہے ''(مسند احمد'شعیب ارنؤوط نے اس حدیث کو حسن قراردیا ہے )۔ ٧۔ *استغفار نزولِ رحمت کا سبب ہے* ارشاد باری تعالی ہےقَالَ یَا قَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُون)''آپ نے فرمایا اے میری قوم کے لوگو!تم نیکی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں مچارہے ہو؟ تم اللہ تعالی سے استغفار کیوں نہیں کرتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے ''(سورئہ نمل:٤٦) ٨۔ *استغفاردلوں کی صفائی کا ذریعہ ہے* نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''کہ مومن بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے اگر وہ گناہ چھوڑکر توبہ واستغفار کر لیتا ہے تو اس کا دل صاف ہو جاتا ہے اور اگرگناہ پرگناہ کئے جاتا ہے تو وہ سیاہی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کے پورے دل پر چھاجاتی ہے یہی وہ ''رین ''ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے (کَلَّا بَلْ رَانَ عَلَی قُلُوْبِہِمْ مَّا کَانُوا یَکْسِبُونَ)٫٫یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ چڑھ گیا ہے''(مسند احمد' شعیب ارنؤوط نے اس کی سند کوقوی قراردیا ہے )۔ ٩۔ *استغفار قربت ِالہی کا سبب ہے*ارشاد باری تعالی ہے ہُوَ أَنشَأَکُمْ مِّنَ الأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَکُمْ فِیْہَا فَاسْتَغْفِرُوْہُ ثُمَّ تُوبُوْا ِلَیْْہِ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْب مُّجِیْب)''اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا ہے اور اسی نے اس زمین میں تمہیں بسایا ہے پس تم اس سے معافی طلب کرو اور اس کی طرف رجوع کرو بیشک میرا رب قریب اور دعاؤں کاقبول کرنے والا ہے'' (سورئہ ہود:٦١)۔ ١٠۔ *استغفار اللہ کی محبت اور اس کے لطف وکرم کا سبب ہے* ارشاد باری تعالی ہے وَاسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُوْا ِلَیْْہِ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْم وَدُود)٫٫تم اپنے رب سے استغفار کرو اور اس کی طرف توبہ کرو یقین مانو کہ میرا رب بڑی مہربانی والا اور بہت محبت کرنے والا ہے''(سورئہ ہود:٩٠) ١١۔ *استغفار بعض گناہ کبیرہ کی بخشش کا ذریعہ ہے* نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:کہ جس نے کہا:'' أَسْتَغْفِرُ اللّہَ الّذِیْ لَا الَہَ الَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَأَتُوْبُ اِلَیْہِ'' تو اللہ تعالی اس کے گناہ کو معاف فرمادے گااگرچہ وہ میدانِ جنگ سے بھاگا ہو''(سنن ابوداود' علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے )۔ ١٢۔ *استغفارقبر میں میت کی ثابت قدمی کا باعث ہے* نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی میت کے دفن سے فارغ ہوتے تو اس کے پاس ٹھہر کر فرماتے :''اپنے بھائی کے لئے اللہ سے مغفرت طلب کرواور اس کے ثابت قدمی کی دعا کروکیوں کہ اس وقت اس سے سوال کیا جائے گا''(سنن ابوداود ' )۔ = ۔========== ?? اللَّهُمَّ صَلِّ عَلٰی سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِہٖ وَسَلِّمُ ?? 4
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now