jannat malik👑 Posted January 5, 2017 Posted January 5, 2017 دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا کیا ملا آخر تجھے، سایوں کے پیچھے بھاگ کر اے دلِ ناداں، تجھے کیا ہم نے سمجھایا نہ تھا اف یہ سناٹا کہ آہٹ تک نہ ہو جو جس میں مخل زندگی میں اس قدر ہم نے سکوں پایا نہ تھا خوب روئے چھپ کے گھر کی چار دیواری میں ہم حال دل کہنے کے قابل کوئی ہمسایا نہ تھا ہو گئے قلاش جب سے آس کی دولت لٹی پاس اپنے، اور تو کوئی بھی سرمایہ نہ تھا وہ پیمبر ہو کہ عاشق، قتل گاہ شوق میں تاج کانٹوں کا کسے دنیا نے پہنایا نہ تھا صرف خوشبو کی کمی تھی غور کے قابل قتیل ورنہ گلشن میں کوئی بھی پھول مرجھایا نہ تھا 1
waqas dar⚙ Posted January 6, 2017 Posted January 6, 2017 Bohaaaat hi awalaaaaaaaaaaaaaaaaaaaa @Jannat malik very nice New Content added Less than in a minutes & merged. اس کی محبت میں سر راہ قتل ہوئے ہم معصوم سے چہرے پر آنکھیں ظالم صاحب
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now