Qateel Shafai
17 topics in this forum
-
پازیب 1 2
by Zarnish Ali- 16 replies
- 5.6k views
ﮔﻨﮕﻨﺎﺗﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺁﺋﯽ ﮨﯿﮟ ﻓﻠﮏ ﺳﮯ ﺑﻮﻧﺪﯾﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺪﻟﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﭘﺎﺯﯾﺐ ﺳﮯ ﭨﮑﺮﺍﺋﯽ ﮬﮯ ﻗﺘﯿﻞ ﺷﻔﺎﺋﯽ
Last reply by Zarnish Ali, -
-
- 0 replies
- 2.3k views
یوں آرہا ہے آج لبوں پر کسی کا نامہم پڑھ رہے ہوں جیسے چُھپا کر کسی کا نامسُنسان یُوں تو کب سے ہے کُہسارِ باز دِیدکانوں میں گوُنجتا ہے برابر کسی کا نامدی ہم نے اپنی جان تو قاتِل بنا کوئیمشہُور اپنے دَم سے ہے گھر گھر کسی کا نامڈرتے ہیں اُن میں بھی نہ ہو اپنا رقیب کوئیلیتے ہیں دوستوں سے چُھپا کر کسی کا ناماپنی زبان تو بند ہے، تم خود ہی سوچ لوپڑتا نہیں ہے یونہی سِتمگر کسی کا نامماتم سَرا بھی ہوتے ہیں کیا خود غَرَض قتیلاپنے غموں پہ روتے ہیں لے کر کسی کا نام
Last reply by jannat malik, -
- 1 reply
- 1.4k views
یہ معجزہ بھی محبّت کبھی دِکھائے مجھے کہ سنگ تجھ پہ گِرے اور زخم آئے مجھے میں اپنے پاؤں تلے روندتا ہُوں سائے کو بدن مِرا ہی سہی، دوپہر نہ بھائے مجھے بَرنگِ عَود مِلے گی اُسے مِری خوشبُو وہ جب بھی چاہے، بڑے شوق سے جَلائے مجھے میں گھر سے، تیری تمنّا پہن کے جب نِکلوں برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے وہی تو سب سے زیادہ ہے نُکتہ چِیں میرا جو مُسکرا کے ہمیشہ گلے لگائے مجھے میں اپنے دِل سے نِکالوں خیال کِس کِس کا جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے زمانہ درد کے صحرا تک آج لے آیا گُزار کر تِری زُلفوں کے سائے سائے مجھے وہ میرا دوست ہے، سارے جہاں کو ہے معلوُم دَغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے وہ مہْرباں ہے، تو اِقرار کیوں …
Last reply by Hareem Naz, -
- 0 replies
- 1.3k views
گرمیِ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لئے ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں بچ نکلتے ہیں اگر آتشِ سیال سے ہم شعلۂ عارضِ گلفام سے جل جاتے ہیں خود نمائی تو نہیں شیوۂ اربابِ وفا جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیں ربط باہم پہ ہمیں کیا نہ کہیں گے دشمن آشنا جب ترے پیغام سے جل جاتے ہیں جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں قتیل شفائی
Last reply by Urooj Butt, -
- 0 replies
- 1.8k views
اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں آ تجھے میں گنگنانا چاہتا ہوں کوئی آنسو تیرے دامن پر گرا کر بُوند کو موتی بنانا چاہتا ہوں بڑھ گئی اس حد تلک بے اعتمادی تجھ کو تجھ سے بھی چھپانا چاہتا ہوں تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں اس لیے کی ہے تڑپنے کی تمنا رقص کرنے کا بہانا چاہتا ہوں آخری ہچکی ترے زانو پہ آئے موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں جو بنا باعث مری ناکامیوں کا میں اُسی کے کام آنا چاہتا ہوں چھا رہا ہے ساری بستی پراندھیرا روشنی کو، گھر جلانا چاہتا ہوں پھول سے پیکر تو نکلے بے مروّت پتھروں کو آزمانا چاہتا ہوں رہ گئی تھی کچھ کمی رسوائیوں میں پھر قتیل اُس در پہ جانا چاہتا ہوں قتیل شفائی
Last reply by Waqas Dar, -
- 4 replies
- 1.9k views
بے چین امنگوں کو بہلا کے چلے جانا ہم تم کو نہ روکیں گے بس آکے چلے جانا ملنے جو نہ آئے تم، تھی کون سی مجبوری جھوٹا کوئی افسانہ، دہرا کے چلے جانا جو آگ لگی دل میں ، وہ سرد نہ ہوجائے بجھتے ہوئے شعلوں کو بھڑکا کے چلے جانا اُجڑی نظر آتی ہے جذبات کی ہریالی تم اس پہ کوئی بادل برسا کے چلے جانا فرقت کی اذیت میں کچھ صبر بھی لازم ہے یہ بات مرے دل کو سمجھا کے چلے جانا شاید کہ بہل جائے ، دیوانہ قتیل اس سے تم کوئی نیا وعدہ فرما کے چلے جانا قتیل شفائی
Last reply by Muhammad Rehman SAbir, -
- 1 reply
- 1.7k views
بے چین امنگوں کو بہلا کے چلے جانا ہم تم کو نہ روکیں گے بس آکے چلے جانا ملنے جو نہ آئے تم، تھی کون سی مجبوری جھوٹا کوئی افسانہ، دہرا کے چلے جانا جو آگ لگی دل میں ، وہ سرد نہ ہوجائے بجھتے ہوئے شعلوں کو بھڑکا کے چلے جانا اُجڑی نظر آتی ہے جذبات کی ہریالی تم اس پہ کوئی بادل برسا کے چلے جانا فرقت کی اذیت میں کچھ صبر بھی لازم ہے یہ بات مرے دل کو سمجھا کے چلے جانا شاید کہ بہل جائے ، دیوانہ قتیل اس سے تم کوئی نیا وعدہ فرما کے چلے جانا قتیل شفائی
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.5k views
Jiski Jhankaar mai Dil Ka AraamTh - Wo Tera Naam Th جسکی جھنکار میں دل کا آرام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ میرے ہونٹوں پہ رقصاں جو اک نام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،تہمتیں مجھ پہ آتی رہی ہیں کئی، ایک سے اک نئی خوبصورت مگر جو اک الزام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ دوست جتنے تھے نا آشنا ہوگئے، پارسا ہوگئے، ساتھ میرے جو رسوا سرِ عام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،صبح سے شام تک جو میرے پاس تھی، وہ تیری آس تھی شام کے بعد جو کچھ لبِ بام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،مجھ پہ قسمت رہی ہمیشہ مہرباں، دے دیا سارا جہاں پر جو سب سے بڑا ایک انعام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،غم نے تاریکیوں میں اچھالا مجھے، مار ڈالا مجھے اک نئی چاندنی کا جو پیغام تھا۔۔۔وہ تیرا نام تھا۔۔ ،تیرے ہی …
Last reply by Waqas Dar, -
- 3 replies
- 2.6k views
ﻣﻮﮨﮯ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﯽ ﭘﺎﺋﻞ ﻣﻨﮕﺎ ﺩﻭ ﺳﺠﻦ ﺧﺎﻟﯽ ﭘﯿﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﭘﻨﮕﮭﭧ ﮐﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﭼﻠﻮﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﮑﮭﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﻮﮞ ﻭﮦ ﺗﻮ ﻧﺎﭼﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﻣﺎ ﮐﮯ ﻣُﻨﮧ ﭘﮭﯿﺮ ﻟﻮﮞ ﻣﻮﮨﮯ ﭘﻨﮕﮭﭧ ﮐﯽ ﺭﺍﻧﯽ ﺑﻨﺎ ﺩﻭ ﺳﺠﻦ ﻣﻮﮨﮯ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﯽ ﭘﺎﺋﻞ ﻣﻨﮕﺎ ﺩﻭ ﺳﺠﻦ ﮐﻞ ﮐﻮ ﻣﯿﻠﮧ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ ﺳﺠﻦ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮔﯽ ﺟﮭﻨﮑﺎﺭ ﮨﺮ ﺁﻡ ﮐﯽ ﭼﮭﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺗﻮ ﮐﺎﻧﭩﮯ ﭼﺒﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﻣﺮﮮ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﺑﭽﮭﺎ ﺩﻭ ﺳﺠﻦ ﻣﻮﮨﮯ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﯽ ﭘﺎﺋﻞ ﻣﻨﮕﺎ ﺩﻭ ﺳﺠﻦ ﺍﺏ ﺗﻮ ﭘﺎﺋﻞ ﺑِﻨﺎﮞ ﮐﻞ ﻧﮧ ﭘﺎﺅﮞ ﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﮯ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﯽ ﭘﺎﺋﻞ ﻣﻨﮕﺎﺅﮞ ﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﮑﮭﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﻼﺅﮞ ﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﮯ ﭘﻨﮑﮫ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻟﮕﺎ ﺩﻭ ﺳﺠﻦ ﻣﻮﮨﮯ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﯽ ﭘﺎﺋﻞ ﻣﻨﮕﺎ ﺩﻭ ﺳﺠﻦ ___________________________قتیل شفائی !!!
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 1.9k views
Chura ky ly gaya jaam aur payas choor gaya چُرا کے لے گیا جام اور پیاس چھوڑ گیا وہ ایک شخص جو مجھ کو اُداس چھوڑ گیا جو میرے جسم کی چادر بنا رہا برسوں نہ جانے کیوں وہ مجھے بے لباس چھوڑ گیا وہ ساتھ لے گیا ساری محبتیں اپنی ذرا سا درد مرے دل کے پاس چھوڑ گیا سجھائی دیتا نہیں دور تک کوئی منظر وہ ایک دھند مرے آس پاس چھوڑ گیا غزل سجاؤں قتیلؔ اب اُسی کی باتوں سے وہ مُجھ میں اپنے سُخن کی مٹھاس چھوڑ گیا قتیل شفائی
Last reply by Waqas Dar, -
- 2 replies
- 2.1k views
منظر سمیٹ لائے ہیں جو تیرے گاؤں کے نیندیں چرا رہے ہیں وہ جھونکے ہواؤں کے تیری گلی سے چاند زیادہ حسیں نہیں کہتے سنے گئے ہیں مسافر خلاؤں کے پل بھر کو تیری یاد میں دھڑکا تھا دل مرا اب دور تک بھنور سے پڑے ہیں صداؤں کے داد سفر ملی ہے کسے راہ شوق میں ہم نے مٹا دئیے ہیں نشاں اپنے پاؤں کے جب تک نہ کوئی آس تھی، یہ پیاس بھی نہ تھی بے چین کر گئے ہمیں سائے گھٹاؤں کے ہم نے لیا ہے جب بھی کسی راہزن کا نام چہرے اتر اتر گئے کچھ رہنماؤں کے اُگلے گا آفتاب کچھ ایسی بلا کی دھوپ رہ جائیں گے زمین پہ کچھ داغ چھاؤں کے (قتیل شفائی)
Last reply by Anabiya Haseeb, -
- 3 replies
- 1.6k views
وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں خدا کسی سے کسی کو مگر جدا نہ کرے سنا ہے اس کو محبت دعائیں دیتی ہے جو دل پہ چوٹ تو کھائے مگر گلہ نہ کرے زمانہ دیکھ چکا ہے پرکھ چکا ہے اسے قتیل جان سے جائے پر التجا نہ کرتے
Last reply by Waqas Dar, -
- 3 replies
- 1.7k views
نہ کوئی خواب ہمارے ہیں نہ تعبیریں ہیں ہم تو پانی پہ بنائی ہوئی تصویریں ہیں کیا خبر کب کسی انسان پہ چھت آن گرے قریۂ سنگ ہے اور کانچ کی تعمیریں ہیں لُٹ گئے مفت میں دونوں، تری دولت مرا دل اے سخی! تیری مری ایک سی تقدیریں ہیں ہم جو ناخواندہ نہیں ہیں تو چلو آؤ پڑھیں وہ جو دیوار پہ لکھی ہوئی تحریریں ہیں ہو نہ ہو یہ کوئی سچ بولنے والا ہے قتیل ....جس کے ہاتھوں میں قلم پاؤں میں زنجیریں ہیں
Last reply by Waqas Dar, -
- 9 replies
- 1.8k views
یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے میں اپنے پاؤں تلے روندتا ہوں سائے کو بدن مرا سہی، دوپہر نہ بھائے مجھے میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے وہی تو سب سے زیادہ ہے نکتہ چیں میرا جو مسکرا کے ہمیشہ گلے لگائے مجھے وہ میرا دوست ہے سارے جہاںکو ہے معلوم دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے میں اپنی ذات میں نیلام ہو رہا ہوں قتیل .....غمِ حیات سے کہہ دو خرید لائے مجھے
Last reply by Waqas Dar, -
- 1 reply
- 1.4k views
دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا کیا ملا آخر تجھے، سایوں کے پیچھے بھاگ کر اے دلِ ناداں، تجھے کیا ہم نے سمجھایا نہ تھا اف یہ سناٹا کہ آہٹ تک نہ ہو جو جس میں مخل زندگی میں اس قدر ہم نے سکوں پایا نہ تھا خوب روئے چھپ کے گھر کی چار دیواری میں ہم حال دل کہنے کے قابل کوئی ہمسایا نہ تھا ہو گئے قلاش جب سے آس کی دولت لٹی پاس اپنے، اور تو کوئی بھی سرمایہ نہ تھا وہ پیمبر ہو کہ عاشق، قتل گاہ شوق میں تاج کانٹوں کا کسے دنیا نے پہنایا نہ تھا صرف خوشبو کی کمی تھی غور کے قابل قتیل ورنہ گلشن میں کوئی بھی پھول مرجھایا نہ تھا
Last reply by Waqas Dar, -
- 4 replies
- 1.7k views
ﮐﯿﺎ ﻋﺸﻖ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺑﺎﻋﺚِ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﯾﺎﺭﻭ ﺗﻤﺎﻡ ﺷﮩﺮ ﺗﻤﺎﺷﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺑﻦ ﻣﺎﻧﮕﮯ ﻣﻞ ﮔﺌﮯ ﻣﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﺕ ﺟﮕﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﺎ ﺷﯿﺪﺍﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﺳﺖِ ﺣﻨﺎﺋﯽ ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮔﻮﻧﺠﺘﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺷﮩﻨﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺑﺮﮨﻢ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﮦ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﮨﯽ ﻭﺟﮧِ ﺷﻨﺎﺳﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﭘﺎﯾﺎ ﻧﮧ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺁﻭﺍﺭﮔﯽ ﮐﺎ ﺷﻮﻕ ﺻﺤﺮﺍ ﺳﻤﭧ ﮐﮯ ﮔﻮﺷﮧ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﻭﮦ ﻣﺮﮮ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺘﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﭘﯿﮑﺮِ ﺩﺍﻧﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺟﻮ ﺭﻭﺯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﺪﮔﻤﺎﮞ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﻤﻨﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﻗﺘﯿﻞؔ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﺮﺟﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ قتیل شفائی
Last reply by Waqas Dar, -
- 8 replies
- 2.2k views
جسم کے جزیرے میں ، یہ جو دل کی وادی ہے اس پہ راج ہے جس کا ، تو وہ شہزادی ہے اپنے در پہ سجدوں کی راہ کیا دکھا دی ہے تو نے میرے ماتھے پر زندگی سجا دی ہے تجھ کو بھولنا چاہوں ، اور شکست کھا جاؤں کتنی بے وقار اپنی قوت اِرادی ہے جستجو کے صحرا میں اب کہاں کوئی آنچل میں نے اپنی چھاؤں بھی دھوپ میں گنوا دی ہے یاد کر کبھی اے تاج تو بھی اس محبت کو جس نے تیرے مرمر کو چاندنی پلا دی ہے میرا ساتھ کیا دے گا شیخ بر سرِ محفل وہ تو چپ ہے بیچارہ جھومنے کا عادی ہے دوست سب قتیل اپنے تل گئے رقابت پر میں نے کوئی دل کی بات جب انہیں سنا دی ہے (قتیل شفائی) Jism Ke Jazeeray Mein, Ye Jo Dil Ki Vaadi Hai Is Pe Raaj Hai Jis Ka, TU Wo Shehzaadi H…
Last reply by Waqas Dar,
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
