jannat malik👑 Posted January 14, 2017 Posted January 14, 2017 منظر سمیٹ لائے ہیں جو تیرے گاؤں کے نیندیں چرا رہے ہیں وہ جھونکے ہواؤں کے تیری گلی سے چاند زیادہ حسیں نہیں کہتے سنے گئے ہیں مسافر خلاؤں کے پل بھر کو تیری یاد میں دھڑکا تھا دل مرا اب دور تک بھنور سے پڑے ہیں صداؤں کے داد سفر ملی ہے کسے راہ شوق میں ہم نے مٹا دئیے ہیں نشاں اپنے پاؤں کے جب تک نہ کوئی آس تھی، یہ پیاس بھی نہ تھی بے چین کر گئے ہمیں سائے گھٹاؤں کے ہم نے لیا ہے جب بھی کسی راہزن کا نام چہرے اتر اتر گئے کچھ رہنماؤں کے اُگلے گا آفتاب کچھ ایسی بلا کی دھوپ رہ جائیں گے زمین پہ کچھ داغ چھاؤں کے (قتیل شفائی) 2
waqas dar⚙ Posted February 11, 2017 Posted February 11, 2017 Bohaaaat Umdaaa lajawaaab shairy bahtreeen shairy hain qateel shafai zaberdast ہم نے اک دوسرے کے عکس کو جب قتل کیا آئینہ دیکھ رہا تھا ہمیں حیرانی سے
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now