waqas dar⚙ Posted February 20, 2018 Posted February 20, 2018 اپنے ہونٹوں پر سجانا چاہتا ہوں آ تجھے میں گنگنانا چاہتا ہوں کوئی آنسو تیرے دامن پر گرا کر بُوند کو موتی بنانا چاہتا ہوں بڑھ گئی اس حد تلک بے اعتمادی تجھ کو تجھ سے بھی چھپانا چاہتا ہوں تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں اس لیے کی ہے تڑپنے کی تمنا رقص کرنے کا بہانا چاہتا ہوں آخری ہچکی ترے زانو پہ آئے موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں جو بنا باعث مری ناکامیوں کا میں اُسی کے کام آنا چاہتا ہوں چھا رہا ہے ساری بستی پراندھیرا روشنی کو، گھر جلانا چاہتا ہوں پھول سے پیکر تو نکلے بے مروّت پتھروں کو آزمانا چاہتا ہوں رہ گئی تھی کچھ کمی رسوائیوں میں پھر قتیل اُس در پہ جانا چاہتا ہوں قتیل شفائی
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now