waqas dar⚙ Posted August 12, 2016 Posted August 12, 2016 راتوں کو اٹھ کر خیالوں سے ہو کر یادوں میں کھو کر تمہیں کیا خبر ہے اپنے رب سے میں کیا مانگتا ہوں ویرانوں میں جا کر دکھڑے سنا کر دامن پھیلا کر آنسو بہا کر تمہیں کیا خبر اپنے رٓب سے میں کیا مانگتا ہوں تم تو کہو گے صنم مانگتا ہوں غنم مانگتا ہوں زر مانگتا ہوں میں گھر مانگتا ہوں ذمیں مانگتا ہوں نگیں مانگتا ہوں تم تو کہو گے ہم کو خبر ہے کہ راتوں کو اٹھ کر خیالوں سے ہو کر یادوں میں کھو کر آنکھیں بگھو کر کسی دلربا کی کسی دلنشیں کی وفا مانگتا ہوں یہ بھی غلط ہے وہ بھی غلط ہے جو بھی ہے سوچا سو بھی غلط ہے نہ صنم مانگتا ہوں نہ زر مانگتا ہوں نہ دلربا کی نہ دلنشیں کی نہ ماہ جبیں کی وفا مانگتا ہوں تمہیں کیا خبر اپنے رب س میں کیا مانگتا ہوں میں اپنے رب سے آدم کے بیٹے کی آنکھوں سے جاتی حیا مانگتا ہوں حوا کی بیٹی کے سر سے اترتی ردا مانگتا ہوں اس کڑے وقت میں ارض وطن کی بقا مانگتا ہوں
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now