👀 You are watching:
Jump to content
👉 Click here to explore Remote Jobs, Work From Home & Global News – USA 🇺🇸 | UK 🇬🇧 | Canada 🇨🇦 | Pakistan 🇵🇰 ×
🚫 Guest Access Notice ×

Recommended Posts

Posted

حدودِ جاں سے گزر ہوا تو

محبتوں کا پتا چلے گا

کوئی جنوں کی نظر ہوا تو

محبتوں کا پتا چلے گا

وفا کا پودا شجر ہوا تو

محبتوں کا پتا چلے گا

نصیب اس کا ثمر ہوا تو

محبتوں کا پتا چلے گا

زمیں والوں میں گھر ہوا تو

محبتوں کا پتا چلے گا

ترا فرشتہ بشر ہوا تو

محبتوں کا پتا چلے گا

کہیں نہ کوئی شجر ہوا تو

محبتوں کا پتا چلے گا

جو دھوپ کا ہی سفر ہوا تو

محبتوں کا پتا چلے گا

ابھی تو پھرتے ہو دوستوں میں

عزیز کوئی جداُ نہیں ہے

کوئی اِدھر سے اُدھر ہوا تو

محبتوں کا پتا چلے گا

وہ جس کی خاطر زمانے بھر کو

بنا رہے ہو تم اپنا دشمن

وہی نہ اپنا اگر ہوا تو

محبتوں کا پتا چلے گا

ابھی سنا ہے یہ لفظ تم نے

تمہیں محبت ملی نہیں ہے

کسی کی بانہوں میں گھر ہوا تو

محبتوں کا پتا چلے گا

یہ خوش نصیبی ہے شہر بھر میں

تمھارا دشمنُ نہیں ہے کوئی

کبھی کسی کا جو ڈر ہوا تو

محبتوں کا پتہ چلے گا

یہ فاصلہ سا ابھی تلک جو

ہمارے دونوں کے درمیاں ہے

یہ فاصلہ مختصر ہوا تو

محبتوں کا پتا چلے گا

محبتوں میں تو پتھروں کو

بھی موم ہوتے سناُ ہے لیکن

تمھارے دل پہ اثر ہوا تو

محبتوں کا پتا چلے گا

ابھی تو مشکل نہیں پڑی ہے

زمانے والو نبھا رہے ہو

کبھی نشانے پہ سر ہوا تو

محبتوں کا پتا چلے گا

پھر ایک لیلیٰ گھری ہوئی ہے

نئے زمانے کی تلخیوں میں،

پھر ایک وعدہ امر ہوا تو

محبتوں کا پتا چلے گا

ابھی تو چہرے بدل بدل کے

معیار اپنا بنا رہے ہو

کوئی نہ حد نظر ہوا تو

محبتوں کا پتا چلے گا

یہ کیا بچھڑنا کہ شام ہوتے ہی

اپنے پیاروں میں لوٹ آنا

کبھی جو لمبا سفر ہوا تو

!!! محبتوں کا پتہ چلے گا۔۔

 

rain of tears.jpg

  • 2 months later...
Posted

کس خاموشی سے ٹوٹ گیا اس سے رابطہ
کس خاموشی سے سہہ گیا سارے عذاب دل..

Posted

ہے بال و پر میں وحشت سی، بے سمت اڑانیں بھرتی ہوں
اپنے اندر کے جنگل میں گم ہو جانے سے ڈرتی ہوں
پھر آس کا دریا بہتا ہے، پھر سبزہ اُگ اُگ آتا ہے
پھر دھوپ کنارے بیٹھی میں اک خواب کی چھاگل بھرتی ہوں
کیوں آگ دہکتی ہے مجھ میں، کیوں بارش ہوتی ہے مجھ میں
جب دھیان سے ملتی ہوں تیرے، جب تیرے من میں اترتی ہوں
کب مجھ کو رہائی ملنی تھی، ناحق جو قفس بھی توڑ دیا
بج اٹھتی ہیں زنجیریں سی یہ پاؤں جہاں بھی دھرتی ہوں
اک پھول کی پتّی کا بستر، اک اوس کے موتی کا تکیہ
تتلی کے پروں کو اوڑھ کے میں خوابوں میں آن ٹھہرتی ہوں
دل غم سے رہائی چاہتا ہے اور وہ بھی جیتے جی صاحب
پھر تجھ میں پنہ لے لیتی ہوں پھر خود سے کنارہ کرتی ہوں
ہیں ناگ کا پھن کالی راتیں، لمحہ لمحہ ڈستی جاویں
سو بار تڑپتی ہوں صاحب سو بار میں جیتی مرتی ہوں

 

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.9k
    Total Posts


×
×
  • Create New...