Sahrish Dar⚙ Posted September 27, 2015 Posted September 27, 2015 سنا ھے حد نظر سے آگےزندگی اب بھی مسکراتی ھےاب بھی سورج کی وھی عادت ھےگھر کے آنگن کو وہ جگاتا ھےمرمریں شوخ سی حسین کرنیںچہروں کو چوم کر اٹھاتی ہیںوہاں کی صبحیں بڑی توانا ہیںوہاں کے دن بھی بہت دانا ہیںمنہ اندھیرے سفر کو جاتے ہیںروز پھر گھر میں شام ہوتی ھےوہی برگد تلے کی ہیں شامیںایک حقہ ھے کئی ہیں سامعاب بھی سب فکریں گلی محلے کیباتوں باتوں میں ختم ہوتی ہیںبچوں کا ھے وھی بچپنجگنو, تتلی کی هے وھی ان بنجھریوں سی اب بھی نانی وہاںکہانی پریوں کى ھی سناتی ھےاب بھی موسم وھی نشیلے ہیںوھی قوس قزح کے جھولے ہیںبارش کی مستیاں اب بھیٹین کی چھت پے گنگناتی ہیںلفظوں میں لازوال زور سخنرنگوں میں باکمال بانکا پنجذبوں میں حدتیں باقیمحبتیں اب بھی بہت رلاتی ہیںاب بھی دوستی کا مان ھے باقیاب بھی رشتوں میں جان ھے باقیاب بھی جنت ھے ماں کے قدموں میںاب بھی ماں لوریاں سناتی ھےمٹی میں خوشبویں اب بھیپانیوں میں عکس ھیں باقیزمین پہ تاروں کے سنگ آ کرچاندنی محفلیں سجاتی هےاب بھی راتوں کو چاند کی سکھیاںاپنے چندا سے ملنے جاتی ہیںاور اک دور کھڑے سائے کواپنی دھڑکنیں سناتی ہیںاب بھی سب قافلے جشن میں ہیںاب بھی سب فاصلے امن میں ہیںمسافر اب بھی لوٹ آتے ہیںان کی یادیں نہیں ستاتی ہیںچلو ہم بھی وہیں چلتے ہیںجہاں اب بھی دل دھڑکتے ہیںجہاں اب بھی وقت ساکن ھےزندگی اب بھی مسکراتی ھےسنا ھے حد نظر سے آگےزندگی اب بھی مسکراتی ھے
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now