Urooj Butt👑 Posted March 19, 2016 Posted March 19, 2016 کہیں تو عشق کی آوارگی کو رنگ ملے دیارِ گل نہیں ملتا، دیارِ سنگ ملے ہمارے خون میں نہا کر بہار جب گزری دھواں دھواں تھے جو چہرے وہ رنگ رنگ ملے تِری گلی میں نہ جائیں تو پھر کہاں جائیں وہ لوگ، وسعتِ صحرا بھی جن کو تنگ ملے سبھی ہیں غیر بھی اپنے بھی، اب یہ کیا کہیے کدھر سے پھول ملے، کدھر سے سنگ ملے سنا ہے راہ میں کانٹوں نے سر اٹھایا ہے ہماری آبلہ پائی کو اذنِ جنگ ملے ورق ورق پہ نمایاں تھی اک نئی تحریر حجابِ گل میں بھی کتنے حجابِ رنگ ملے بتا سکیں گے وہی کچھ حقیقتِ پرواز جنہیں زمیں کی طرح آسماں بھی تنگ ملے نصیب سب کو کہاں عزتِ شناسائی اٹھا کے سر کو جو گزرے انہی کو سنگ ملے یہ سب غزل کی لطافت کا فیض ہے شاعرؔ نئے نئے جو ہمیں سوچنے کے ڈھنگ ملے 4
waqas dar⚙ Posted March 23, 2016 Posted March 23, 2016 تم جو ہوتے تو زندگی ہم سے تلخ لہجے میں بات کیوں کرتی 2
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now