Jump to content

Ism perha aur jism sy uth ker ishq uthaya

Rate this topic


Recommended Posts

Posted

اِسم پڑھا اُور جسم سے اُٹھ کر عشق اُٹھایا
دل دُروِیش نے مست قلندر عشق اُٹھایا

فرش پہ عرش کے بعد مکرّر عشق اُٹھایا
رُوح نے اب کے جسم کے اندر عشق اُٹھایا

شاعِر ' صُوفی ' فلسفہ دان ' وَلی ' پیغمبر
سب نے اپنے ظرف برابر عشق اُٹھایا

دارُالعِشق میں عشق کی سَو قِسمیں اَرزاں تھیں 
لیکِن ' مَیں نے سب سے بہتر عشق اُٹھایا

اِسی لیے مِرے گِرد یہ کاہ کَشاں رقصاں ہے
مَیں نے اِن آفاق کا محوَر عشق اُٹھایا

اُس کو عشق خود آپ اُٹھا کر لے گیا آگے
جس نے ہمّت کی اُور بڑھ کر عشق اُٹھایا

حضرتِ عشق نے خود آ کر گھٹڑی اُٹھوائی
مَیں نے جب اپنے کاندھوں پر عشق اُٹھایا

نیند سے جاگے ' سَر پر دُنیا داری ڈھوئی
آنکھ لگی اُور خواب کے اندر عشق اُٹھایا

جس دن سب اپنے ہاتھوں میں نامے لائے
ہم نے تَو اُس دن بھی سَر پر عشق اُٹھایا

ایک بدن ۔۔ دو جسم بنا تھا جس خواہِش پر
اُس خواہش نے پیکر پیکر عشق اُٹھایا

دُنیا آگ کا دریا تھی ' پَر تَیر گئے ہم
دل نے بھی کیا خوب شِناوَر عشق اُٹھایا

ہم نے کارِ خیر کو مزدُوری نہیں جانا
بے لالچ ' بے اُجرت یک سَر عشق اُٹھایا

یہ دیوانگی ۔۔۔ دیوانے پَن سے نہیں آئی
ہم نے احمدؔ ! سوچ سمجھ کر عشق اُٹھایا

احمد فرید

 

12718131_181818658874622_220178426417090

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.