waqas dar⚙ Posted March 23, 2016 Posted March 23, 2016 اِسم پڑھا اُور جسم سے اُٹھ کر عشق اُٹھایا دل دُروِیش نے مست قلندر عشق اُٹھایا فرش پہ عرش کے بعد مکرّر عشق اُٹھایا رُوح نے اب کے جسم کے اندر عشق اُٹھایا شاعِر ' صُوفی ' فلسفہ دان ' وَلی ' پیغمبر سب نے اپنے ظرف برابر عشق اُٹھایا دارُالعِشق میں عشق کی سَو قِسمیں اَرزاں تھیں لیکِن ' مَیں نے سب سے بہتر عشق اُٹھایا اِسی لیے مِرے گِرد یہ کاہ کَشاں رقصاں ہے مَیں نے اِن آفاق کا محوَر عشق اُٹھایا اُس کو عشق خود آپ اُٹھا کر لے گیا آگے جس نے ہمّت کی اُور بڑھ کر عشق اُٹھایا حضرتِ عشق نے خود آ کر گھٹڑی اُٹھوائی مَیں نے جب اپنے کاندھوں پر عشق اُٹھایا نیند سے جاگے ' سَر پر دُنیا داری ڈھوئی آنکھ لگی اُور خواب کے اندر عشق اُٹھایا جس دن سب اپنے ہاتھوں میں نامے لائے ہم نے تَو اُس دن بھی سَر پر عشق اُٹھایا ایک بدن ۔۔ دو جسم بنا تھا جس خواہِش پر اُس خواہش نے پیکر پیکر عشق اُٹھایا دُنیا آگ کا دریا تھی ' پَر تَیر گئے ہم دل نے بھی کیا خوب شِناوَر عشق اُٹھایا ہم نے کارِ خیر کو مزدُوری نہیں جانا بے لالچ ' بے اُجرت یک سَر عشق اُٹھایا یہ دیوانگی ۔۔۔ دیوانے پَن سے نہیں آئی ہم نے احمدؔ ! سوچ سمجھ کر عشق اُٹھایا احمد فرید 1
waqas dar⚙ Posted March 23, 2016 Author Posted March 23, 2016 6 hours ago, Ayesha Mirza said: Fantastic bht bht bht awlaaaaa thanks @Ayesha Mirza 1
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now