waqas dar⚙ Posted April 28, 2016 Posted April 28, 2016 نہ گلہ ہے کوئی حالات سے نہ شکایتیں تیری ذات سے خود ہی سارے ورق جُدا ہوئے میری زندگی کی کتاب سے تجھے چاہا تھا تجھے پا لیا تجھے پا کے بھی تجھے کھو دیا مجھے خواہشوں کی تھی آرزو میری زندگی میں عذاب تھے میری وحشتوں کی راہ میں فقط محفلوں کی سراب تھی کٹی عمر جن کی تلاش میں میرے رت جگوں کے وہی خواب تھے یوں بھٹک بھٹک کے تمام عمر کبھی اثر ھی نہ ہوا جنہیں کھو دیا تیرے عشق میں وہ سپنے بے حساب تھے وہی معتبر ہے میرے لیے، وہ جو حاصلِ دل و جان ہے وہ جو باب تم نے چرا لیا میری زندگی کی کتاب سے 2
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now