Jump to content

FDF Members Poetry

  • entries
    163
  • comments
    120
  • views
    37,453

Contributors to this blog

Neend neend ankhain hain khuwab bhi porane hain


نیند نیند آنکھیں ہیں خواب بھی پرانے ہیں 
پہرے کیوں بٹھائیں ہم کس نے یہ چرانے ہیں
عادت خود کلامی کی اور اپنے آپ سے لڑنا

وہ بھی قصے کافی ہیں تم کو جو سنانے ہیں
باتیں اتنی ساری ہیں خود سے چھپائی ہیں

راز اتنے سارے ہیں تم کو جو بتانے ہیں
وفا اُس سے کیا مانگوں بے وفائی ہی اُس کی عادت ہے

یہ وعدے کیسے وعدے ہیں جو ہم نے ہی نبھانے ہیں
کہاں سے اُس کا ناطہ تھا، تھا وہ کسی بستی سے آیا

کس سے اُ س کا پوچھوں میں
وہاں پہ بھی نہیں ملتا جو اُس کے ہی ٹھکانے ہیں

دعائیں لاکھوں مانگی ہیں پھر دل سے کیوں نہیں جاتا
یہ شاعری بھی کتابیں بھی بھلانے کے بہانے ہیں

وہ اکثر مجھ سے کہتا تھا کہ زندگی ہیں تیری آنکھیں
اب آنکھوں میں جو ٹھہرے ہیں وہ آنسو ہی بہانے ہیں

عجب عادت تھی اُس کی وہ زعم اپنے میں رہتا تھا
اپنے آپ سے لڑتے ہیں کیسے ہم دیوانے ہیں

اب کے میں نے سوچا تھا بازی میں ہی جیتوں گی
جیت کے میں ہاری ہوں حقیقت ہے فسانے ہیں

 

 

art.jpg

0 Comments


Recommended Comments

There are no comments to display.

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.