نیند نیند آنکھیں ہیں خواب بھی پرانے ہیں
پہرے کیوں بٹھائیں ہم کس نے یہ چرانے ہیں
عادت خود کلامی کی اور اپنے آپ سے لڑنا
وہ بھی قصے کافی ہیں تم کو جو سنانے ہیں
باتیں اتنی ساری ہیں خود سے چھپائی ہیں
راز اتنے سارے ہیں تم کو جو بتانے ہیں
وفا اُس سے کیا مانگوں بے وفائی ہی اُس کی عادت ہے
یہ وعدے کیسے وعدے ہیں جو ہم نے ہی نبھانے ہیں
کہاں سے اُس کا ناطہ تھا، تھا وہ کسی بستی سے آیا
کس سے اُ س کا پوچھوں میں
وہاں پہ بھی نہیں ملتا جو اُس کے ہی ٹھکانے ہیں
دعائیں لاکھوں مانگی ہیں پھر دل سے کیوں نہیں جاتا
یہ شاعری بھی کتابیں بھی بھلانے کے بہانے ہیں
وہ اکثر مجھ سے کہتا تھا کہ زندگی ہیں تیری آنکھیں
اب آنکھوں میں جو ٹھہرے ہیں وہ آنسو ہی بہانے ہیں
عجب عادت تھی اُس کی وہ زعم اپنے میں رہتا تھا
اپنے آپ سے لڑتے ہیں کیسے ہم دیوانے ہیں
اب کے میں نے سوچا تھا بازی میں ہی جیتوں گی
جیت کے میں ہاری ہوں حقیقت ہے فسانے ہیں

0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now