👀 You are watching:
Jump to content
👉 Click here to explore Remote Jobs, Work From Home & Global News – USA 🇺🇸 | UK 🇬🇧 | Canada 🇨🇦 | Pakistan 🇵🇰 ×
🚫 Guest Access Notice ×

Zarnish Ali

🌟 LEGACY MEMBER
  • Posts

    2,099
  • Joined

  • Last visited

    Never
  • Days Won

    144

Blog Entries posted by Zarnish Ali

  1. Zarnish Ali
    موتیے سے زلف، عنبر سے مہکتی چوڑیاں
    یاد آئیں لمس سے اس کے دہکتی چوڑیاں
    دیکھ کر سونی کلائی یاد آئے تیری بات
    "جان لیں میری،تری ہر دم کھنکتی چوڑیاں"
    چھین لیں جاگیرِ دل حسیں ہتھیار یہ
    کر دیں گھائل پایلیں، جھومر، کھنکتی چوڑیاں
    حادثہ گزرا ہے کیا لڑکی پہ بڑھ کر پوچھنا
    نم ہیں آنکھیں دیکھ کر اس کی دمکتی چوڑیاں
    جانتا ہے وہ ادا مجھ کو منانے کی جیا
    شعر لے آتا ہے کچھ، کلیاں، چمکتی چوڑیاں
    ‏
     

  2. Zarnish Ali
    اداس دل کی اداس باتیں
    سمجھنے والا کوئی تو ہوتا
    کہ جس کی باتوں سے دل سبھلتا
    کہ جس کی سنگت میں دل بہلتا
    جس کی ہلکی سی اک جھلک بھی
    ہمارے دکھ کو سمیٹ لیتی
    فلک سے خوشیاں انڈیل دیتی
    یا اُس کی نازک سی مسکراہٹ
    دن کی سبھی تھکاوٹ کو دور کرتی
    یا پھر چمکتی وُہ آنکھیں اُس کی
    ہماری ہستی کا راز ہوتیں،،
    ہمارے دُکھ کی کتاب ہوتیں،
    جو ہم کو چاہتا، ہم کو پڑھتا،
    گزرتے لمحوں کی سختیوں میں،
    کوئی تو نازک مزاج ہوتا،
    کوئی تو ہوتا،
  3. Zarnish Ali
    وہ لکھتا ہے
    بہت بے ساختہ لکھتا ہے
    پھر لکھ کر مٹاتا ہے
    مٹا کر یہ سمجھتا ہے
    کہ اس نے
    دل کی حالت کو عیاں ہونے سے روکا ہے
    اسے معلوم ہی کب ہے
    کہ جو دل پر گزرتی ہے
    وہ حالت چھپ نہیں سکتی
    اسے اظہار تک آنے میں کتنی دیر لگتی ہے
    وہ کب روکے سے رکتی ہے
    وہ رستہ ڈھونڈ لیتی ہے
    کبھی اشکوں کی صورت میں
    کبھی آہوں کی صورت میں
    کبھی آنکھوں کی ویرانی سے ظاہر ہونے لگتی ہے
    وہ ناداں جانتا کب ہے
    اسے معلوم ہی کب ہے
    کہ یہ دل ہے!
    یہ اپنی بات کہنا جانتا ہے
    بات کرنے کے ہنر سے خوب واقف ہے____

  4. Zarnish Ali
    ! آخری چند دن دسمبر کے
    ہر برس ہی گِراں گزرتے ہیں
    خواہشوں کے نگار خانے سے
    کیسے کیسے گُماں گزرتے ہیں
    رفتگاں کے بکھرے سایوں کی
    ایک محفل سی دل میں سجتی ہے
    فون کی ڈائری کے صفحوں سے
    کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے
    جن سے مربوط بے نوا گھنٹی
    اب فقط میرے دل میں بجتی ہے
    کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
    رینگتی بدنُما لکیریں سی
    میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
    دوریاں دائرے بناتی ہیں
    نام جو کٹ گئے ہیں اُن کے حرف
    ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں
    حادثے کے مقام پر جیسے
    خون کے سوکھے نشانوں پر
    چاک سے لائینیں لگاتے ہیں
    ! پھر دسمبر کے آخری دن ہیں
    ہر برس کی طرح سے اب کے بھی
    ڈائری ایک سوال کرتی ہے
    کیا خبر اس برس کے آخر تک
    میرے ان بے چراغ صفحوں سے
    کتنے ہی نام کٹ گئے ہونگے
    کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
    گردِ ماضی سے اٹ گئے ہونگے
    خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
    کتنے طوفان سِمٹ گئے ہونگے
    ہر دسمبر میں سوچتا ہوں میں
    اک دن اس طرح بھی ہونا ہے
    رنگ کو روشنی میں کھونا ہے
    اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
    ڈائری دوست دیکھتے ہونگے
    اُن کی آنکھوں کے خواب دانوں میں
    ایک صحرا سا پھیلتا ہوگا
    اور کچھ بے نِشاں صفحوں سے
    !.... نام میرا بھی کٹ گیا ہوگا
    ?
     

  5. Zarnish Ali
    تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے
    جیسے ویراں ہورہ گزارِحیات
    جیسے خوابوں کے رنگ پھیکے ہوں
    جیسے لفظوں سے موت رِستی ہو
    جیسے سانسوں کے تار بکھرے ہوں
    جیسے نو حہ کناں ہو صبح چمن
    تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے
    جیسے خوشبو نہیں ہو کلیوں میں
    جیسے سُونا پڑا ہو شہرِ دل
    جیسے کچھ بھی نہیں ہو گلیوں میں
    جیسے خوشیوں سے دشمنی ہو جائے
    جیسے جذبوں سے آشنائی نہ ہو
    تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے
    جیسے اک عمر کی مسافت پر
    بات کچھ بھی سمجھ نہ آئی ہو
    جیسے چپ چپ ہوں آرزو کے شجر
    جیسے رک رک کے سانس چلتی ہو
    جیسے بے نام ہو دعا کا سفر
    جیسے قسطوں میں عمر کٹتی ہو
    تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے
    جیسیاک خوف کے جزیرے میں
    کوئی آواز دے کے چھپ جائے
    جیسے ہنستے ہوئے اچانک ہی
    غم کی پروا سے آنکھ بھر جائے
    تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے
    ارشد ملک

  6. Zarnish Ali
    یہی سوز دل ہے تو محشر میں جل کر
    جہنم اُگل دے گا مجھ کو نگل کر
    پڑی مجھ پہ اوچھی وہ تلوار چل کر
    گئی کس طرف موت کمبخت ٹل کر
    نہ وحدت سے طلب نہ کثرت سے مطلب
    نہ گھٹ کر ہوں قطرہ نہ دریا ابل کر
    تری بات بھی تیر ہے ناوک افگن
    گڑی میرے دل میں زیاں سے نکل کر
    جو شام شبِ ہجر دیکھی تو سمجھے
    قضا سر پہ آئی ہے صورت بدل کر
    جہاں میں نہ کی قدر غم جب کسی نے
    پشیماں ہوا میرے دل سے نکل کر
    رخ اس بت کا شاید نکلتا ہے پتھر
    کہ قدموں پہ گرتی ہیں نظریں پھسل کر
    جلا تھا مرا دل جو پروانہ آسا
    کہا میں نے بھی شمع رو ان کو جل کر
    جلانے کو دل داغ سینہ ہے حاضر
    مگر تو ہی اے داغ پہلے پہل کر
    جو کھینچے گا بھی تیر سینے سے ظالم
    تو پیکاں سے لے جائے گا دل بدل کر
    انہیں آتے دیکھا تو دوڑیں نگاہیں
    گئیں آنکھیں ان سے بھی آگے نکل کر
    یہ میری طرف پاوٓں محفل میں کیسے
    ذرا آدمیت سے بیٹھو سنبھل کر
    عزیز اس قدر نقد جاں کیوں ہے اے دل
    خدا دے جو ہمت تو نذر اجل کر
    وہ بسمل ہوں جو ہاتھ قاتل نے کھینچا
    گلے پر مرے گر پڑی تیغ اُگل کر
    میرا دل بھی آئینہٓ انجمن ہے
    دکھاتا ہے سو رنگ صورت بدل کر
    قدم جب خوشی نے در دل پہ رکھا
    صدا غم نے دی دیکھ ظالم سنبھل کر
    امیؔر اہل مسجد سے اظہار تقویٰ
    ابھی آئے ہو میکدے سے نکل کر
     

  7. Zarnish Ali
    ﻣﺤﺒﺖ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺭﺍﺑﻄﮯ ﮐﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﻨﺰﻝ
    ﻣﺤﺒﺖ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮨﮯ ﺍﮎ ﺣﺴﯿﻦ ﻟﻤﺤﮯ ﮐﻮ ﺑُﻨﻨﮯ ﮐﺎ
    ﻣﺤﺒﺖ ﻧﺎﺭﺳﺎﺋﯽ ﮨﮯ
    ﻣﺤﺒﺖ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮨﮯ !!.............
    ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺍﮨﮕﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ
    ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭِ ﯾﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﭩﮑﺎ ﮨﻮﺍ ﻟﻤﺤﮧ
    ﻣﺤﺒﺖ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ
    ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺁﺷﻨﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﺍﻧﻮﮐﮭﯽ ﮨﻮﺍ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ
    ﻣﺤﺒﺖ ﺭﻭﭨﮫ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﺪﺍ ﮐﺎ ﺭﻭﮒ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ
    ﯾﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﺳﻮﮒ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﺯﯼ ﮨﺎﺭﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭘﮑﻮ ﮨﺎﺭﯾﮟ
    ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭘﮑﻮ ﻣﺎﺭﯾﮟ
    ﮐﺴﯽ ﻓﻨﮑﺎﺭ ﮐﯽ ﺧﺎﻃﺮ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﯾﮏ ﺗﺨﻠﯿﻘﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﮨﮯ
    ﺟﺴﮯ ﻭﮦ ﻧﺌﮯ ﺷﮩﮑﺎﺭ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺑُﻨﺘﺎ ﮨﮯ
    ﻣﺤﺒﺖ ﺍﯾﮏ ﻋﻼﻣﺖ ﮨﮯ
    ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ،
    ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﯽ !!.........

  8. Zarnish Ali
    عجب تقاضے ہیں چاھتوں کے
    بڑی کٹھن یہ مسافتیں ھیں
    میں جس کی راھوں میں بچھ گیا ھوں
    اُسی کو مجھ سے شکایتں ھیں
    شکایتں سب بجا ھیں لیکن
    میں کیسے اُس کو یقین دلاؤں
    جو مجھ کو جاں سے عزیز تر ھے
    اُسے بھلاؤں تو مر نہ جاؤں
    میں خاموشی کی انتہا میں
    کہاں کہاں سے گزر گیا ھوں
    اُسے خبر بھی نہیں ھے شاید
    میں دھیرے دھیرے بکھر گیا ھوں _!

  9. Zarnish Ali
    ﺑﮍﯼ ﻧﺎﺯﮎ ﻣﺰﺍﺟﯽ ﮨﮯ، ﻣﯿﺮﮮ ﺗﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻦ ﻣﯿﮟ
    ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭﮞ ﺟﯿﻨﺎ؟ ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﮨﮯ۔۔
    ﻏﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ، ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﮨﮯ۔۔
    ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮩﮧ ﺩﻭﮞ؟ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ،
    ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮩﻨﺎ ، ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﮨﮯ۔۔

    ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﺩ ﮐﻮ ﺳﮩﻨﺎ، ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﮨﮯ۔۔
    ﯾﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺳﻢِ ﺍﻋﻈﻢ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﮭﻮﻧﮏ ﺩﻭﮞ ﺗﻢ ﭘﺮ،
    ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﻝ ﮐﻮ ﻣﻮﮦ ﻟﯿﻨﺎ، ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﮨﮯ۔۔
    ﺑﮍﯼ ﻧﺎﺯﮎ ﻣﺰﺍﺟﯽ ﮨﮯ، ﻣﯿﺮﮮ ﺗﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻦ ﻣﯿﮟ،
    ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﺩ ﮐﻮ ﺳﮩﻨﺎ، ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﮨﮯ۔۔
    ﻧﮩﯿﮟ۔۔! ﯾﮧ ﮨﻮﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ، ﻣﯿﮟ ﻧﻔﺮﺕ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﻭﮞ ﺗﻢ ﺳﮯ،
    ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﮨﯽ ﮐﺮﻧﺎ، ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﮨﮯ۔۔
    ﯾﮧ ﮨﯽ ﺭﺳﻢِ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ ، ﯾﮧ ﮨﯽ ﺷﺮﻁِ ﺻﺪﺍﻗﺖ ﮨﮯ،
    ﭘﯿﺎﻟﮧ ﺯﮨﺮ ﮐﺎ ﭘﯿﻨﺎ ، ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﮨﮯ۔۔
     

  10. Zarnish Ali
    ﺭﻧﺠﺶ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﻴﮯ ﺁ
    ﺁ ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﻣُﺠﮭﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﻴﮯ ﺁ
    ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﻣﺮﺍﺳﻢ ﻧﺎ ﺳﮩﯽ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻮ
    ﺭﺳﻢِ ﺭﺍﮦِ ﺩﻧﻴﺎ ﮨﯽ ﻧﺒﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﻴﮯ ﺁ
    ﮐﺲ ﮐﺲ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺋﻴﮟ ﮔﮯ ﺟﺪﺍﺋﯽ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﮨﻢ
    ﺗُﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺧﻔﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﻴﮯ ﺁ
    ﮐﭽﮫ ﺗﻮ ﻣﻴﺮﮮ ﭘﻨﺪﺍﺭِ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺑﮭﺮﻡ ﺭﮐﮫ
    ﺗُﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﻴﮯ
    ﺁ
    ﺍﻳﮏ ﻋﻤﺮ ﺳﮯ ﮨﻮﮞ ﻟﺬﺕِ ﮔِﺮﻳﮧ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﺮﻭﻡ
    ﺍﮮ ﺭﺍﺣﺖِ ﺟﺎﻥ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺭُﻻﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﻴﮯ ﺁ
    ﺍﺏ ﺗﮏ ﺩﻝِ ﺧﻮﺵ ﻓﮩﻢ ﮐﻮ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﮨﻴﮟ ﺍﻣﻴﺪﻳﮟ
    ﻳﮧ ﺁﺧﺮﯼ ﺷﻤﻌﻴﮟ ﺑﮭﯽ ﺑُﺠﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﻴﮯ ﺁ

  11. Zarnish Ali
    ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﺧﻮﺍﺏ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ
    ﺗﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺁﮐﺮ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ
    ﮐﮧ ﺗﻢ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﺑﻦ ﺟﺎﺅ۔۔۔۔۔۔۔ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﻘﺪﯾﺮ ﺑﻦ ﺟﺎﺅ
    ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﭘﮭﻮﻝ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ
    ﺗﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺁﮐﺮ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺧﻮﺷﺒﻮﺅﮞ ﮐﯽ ﺩﺍﺩ ﺩﯾﻨﯽ ﺗﮭﯽ
    ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﯽ ﭘﻮﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﻧﺎ ﺗﮭﺎ
    ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻢ ﮐﻮ ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﺩﻭﺵ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ ۔۔۔۔۔ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﺪﮨﻮﺵ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﮭﺎ
    ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﮩﻼﺗﮯ
    ﺗﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺁﮐﺮ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ
    ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﺳﺎﺭﯼ ﮐﺮﻧﯿﮟ ﻧﻮﺭ ﮐﮯ ﺗﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﯿﮟ ﮨﯿﮟ
    ﯾﮧ ﺳﺐ ﮨﯿﮟ ﺁﺋﯿﻨﻮﮞ ﺟﯿﺴﯽ ۔۔۔۔ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﯾﻮﮞ ﺁﺳﻤﺎﮞ ﮐﮯ ﺍﻥ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﻤﮑﻨﺎ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
    ﺗﻤﮩﮯ ﯾﮑﺪﻡ ﮐﺴﯽ ﮐﭽﮯ ﺳﮯ ﺁﻧﮕﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮﻧﺎ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
    ﺍﮔﺮ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﺎﻡ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ
    ﺗﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺁﮐﺮ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ
    ﮨﻮﺍﺅﮞ ﭘﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﻟﮑﮫ ﺟﺎﺅ ۔۔۔۔۔۔ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﺎﻡ ﻟﮑﮫ ﺟﺎﺅ
    ﻓﻨﺎ ﮐﻮ ﭼﮭﻮ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺑﻘﺎﺀ ﮐﺎ ﯾﮧ ﮨﻨﺮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺳﯿﮑﮭﺎﯾﺎ ﮨﮯ
    ﺗﻤﮭﮯ ﺑﮯﺧﺪ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﻠﯿﻘﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ
    ﺗﻤﮭﮯ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﮩﮑﻨﺎ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
    ﻣﮕﺮ ﮨﻢ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎﮞ ۔۔۔۔۔۔۔
    ﮐﮩﺎﮞ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﮨﯿﮟ
    ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻢ ﭘﮭﻮﻝ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯿﮟ
    ﮐﮩﺎﮞ ﮨﻢ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﺎ ﭘﺮﺗﻮ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺗﻮ ﺩﮬﻮﻝ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯿﮟ
    ﻣﭩﯽ ﺗﻘﺪﯾﺮ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯿﮟ ۔۔۔۔۔ ﻓﻘﻂ ﮨﻢ ﮨﯿﺮ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯿﮟ
    ﻓﻘﻂ ﮨﻢ ﮨﯿﺮ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯿﮟ
    ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﺧﻮﺍﺏ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ۔۔۔۔۔۔ ﺗﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺁﮐﺮ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ
    ﺍﮔﺮ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻧﺎﻡ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ۔۔۔۔۔ ﺗﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺁﮐﺮ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ
    ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﮩﻼﺗﮯ ۔۔۔۔۔۔
    ﻣﮕﺮ ﮨﻢ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎﮞ
    ﻣﮕﺮ ﮨﻢ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎﮞ...!

  12. Zarnish Ali
    حسرت جلوۂ دیدار لیے پھرتی ہے
    پیش روزن پس دیوار لیے پھرتی ہے
    اس مشقت سے اسے خاک نہ ہوگا حاصل
    جان عبث جسم کی بیکار لیے پھرتی ہے
    دیکھنے دیتی نہیں اس کو مجھے بے ہوشی
    ساتھ کیا اپنے یہ دیوار لیے پھرتی ہے
    کسی فاسق کے تو منہ کو نہ کرے گی کالا
    کیوں سیاہی یہ شب تار لیے پھرتی ہے
    تو نکلتا نہیں شمشیر بکف اے قاتل
    موت میرے لیے تلوار لیے پھرتی ہے
    مال مفلس مجھے سمجھا ہے جنوں نے شاید
    وحشت دل سر بازار لیے پھرتی ہے
    کعبہ و دیر میں وہ خانہ برانداز کہاں
    گردش کافر و دیں دار لیے پھرتی ہے
    رنج لکھا ہے نصیبوں میں مرے راحت سے
    خواب میں بھی ہوس یار لیے پھرتی ہے
    چال میں اس کی سراپا ہے کسی کی تقلید
    کبک کو یار کی رفتار لیے پھرتی ہے
    در یار آئے ٹھکانے لگے مٹی میری
    دوش پر اپنے صبا بار لیے پھرتی ہے
    ہنستے ہیں دیکھ کے مجنوں کو گل صحرائی
    پا برہنہ طلب خار لیے پھرتی ہے
    سایہ سا حسن کے ہمراہ ہے عشق بے باک
    ساتھ یہ جنس خریدار لیے پھرتی ہے
    کسی صورت سے نہیں جاں کو فرار اے آتشؔ
    تپش دل مجھے لاچار لیے پھرتی ہے
    ......

  13. Zarnish Ali
    ?محبت دل نہیں مانگتی البتہ دل کی "مہار" ضرور مانگ لیتی ہے. 
    محبت اختیار بھی نہیں مانگتی البتہ آپکے اختیار کے اندر چھپا "اعتبار" ضرور مانگ لیتی ہے .
    محبت پیار نہیں مانگتی مگر اس پیار کے پروں کا سوار ضرور مانگ لیتی ہے محبت آپ سے نیند کبھی نہیں مانگے گی خواب مانگے گی.
    یاد رکھئے !
    محبت سوال نھیں کرتی ہمیشہ "جواب" مانگے گی
    اور کبھی آپ سے یہ بھی نہیں گی کہ صرف "میرے" ہو کے رہ ، مگر کسی کا ہونے نہیں دے گی۔۔۔۔۔۔۔

  14. Zarnish Ali
    تمہاری یاد کی خوشبو، کمال کرتی ہے
    خلوصِ دل سے مری دیکھ بھال کرتی ہے
    مجھے یہ جوڑ کے رکھتی ہے ہجر میں تجھ سے
    یہ زندگی مرا کتنا خیال کرتی ہے
    اکیلا گھومنے نکلوں تو راستے کی ہوا
    تمہارے بارے میں مجھ سے سوال کرتی ہے
    تمہارے غم میں سسکتی ہوئی یہ تنہائی
    تمام رات بڑی قیل و قال کرتی ہے

  15. Zarnish Ali
    تم کو ہم دل میں بسا لیں گے تم آؤ تو سہی
    ساری دنیا سے چھپا لیں گے تم آؤ تو سہی
    ایک وعدہ کرو اب ہم سے نہ بچھڑو گے کبھی
    ناز ہم سارے اٹھا لیں گے تم آؤ تو سہی
    بے وفا بھی ہو ، ستم گر بھی، جفا پیشہ بھی
    ہم خُدا تُم کو بنا لیں گے، تم آؤ تو سہی
    یوں تو جس سمت نظر اٹھی ہے تاریکی ہے
    پیار کے دیپ جلالیں گے تم آؤ تو سہی
    اختلافات بھی مٹ جائیں گے رفتہ رفتہ
    جس طرح ہو گا نبھا لیں گے تم آؤ تو سہی
    دل کی ویرانی سے گھبرا کے نہ منہ کو موڑو
    بزم یہ پھر سے سجا لیں گے تم آؤ تو سہی
    راہ تاریک ہے اور دور ہے منزل لیکن
    درد کی شمعیں جلا لیں گے تم آؤ تو س
     

  16. Zarnish Ali
    وہ مِرے دل کی روشنی، وہ میرے داغ لے گئی
    ایسی چلی ہوائے شام، سارے چراغ لے گئی
    شاخ و گُل و ثمر کی بات کون کرے، کہ ایک رات
    بادِ شمال آئی تھی، باغ کا باغ لے گئی
    وقت کی موجِ تُند رو آئی تھی، سُوئے مے کدہ
    میری شراب پھینک کر میرے ایاغ لے گئی
    دل کا حساب کیا کریں، دل تو اُسی کا مال تھا
    نکہتِ زُلفِ عنبریں، اب کے دماغ لے گئی
    باغ تھا اس میں حوض تھا، 
    حوض تھا اس میں پھول تھا
    غیر کی بے بصیرتی مجھ سے سُراغ لے گئی
    سلیم احمد
     

  17. Zarnish Ali
    تم ابر گریزاں ھو .
    کہنے کو تو ساگر ہو 
    سنتے ہیں مسیحا ہو
    تم تک کبھی پہنچیں گے
    گر کوئی زریعہ ہو
    بس ایک تمهی خواہش
    تم ایک ہی ارماں ہو
    پر تم سے کہیں کیسے
    تم ، ابر گریزاں ہو 
    ........تم ابر گریزاں ہو
    مانا نہیں اس قابل
    تم چاہو محبت دو
    ہم تم کو سدا چاہیں
    بس اتنی اجازت دو
    تم عشق تمهی پوجا
    تم زیست کا عنواں ہو
    پر تم سے کہیں کیسے
    تم ابر گریزاں ہو
    .......تم ابر گریزاں ہو
    ھے خشک بہت مٹی
    ہر سمت بگولے ہیں
    صحرا کے بگولوں سے
    اٹھتے ہی تو شعلے ہیں
    تم کھل کے اگر برسو
    صحرا میں گلستاں ھو
    پر تم سے کہیں کیسے 
    تم ابر گریزاں ہو
    صحرا ہوں کہ کھنڈر ہوں
    خاموش سمندر ھوں
    جھانکو کبھی آنکھوں میں 
    اک پیار کا ساگر ھوں 
    اے کاش ، کبھی جانو 
    تم درد کا درماں ھو
    پر تم سے کہیں کیسے 
    تم ، ابر گریزاں ھو
    مل جاو اگر تم تو
    ھم جشن منا ئیں گے
    دھرتی نے نہ دیکھے ھوں 
    وہ پھول کھلائیں گے 
    آنکھوں میں اجالے ھوں 
    ہر سمت چراغاں ھو 
    پر تم سے کہیں کیسے 
    تم، ابر گریزاں ھو

  18. Zarnish Ali
    ﮔﻼﺑﯽ ﺳﺮﺩ ﺷﺎﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ
    ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩ ﮐﯽ ﻟﮩﺮﯾﮟ
    ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻤﻨﺎﮎ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﮐﺎﭦ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ
    ﺩﻋﺎ ﮐﮯ ﺣﺮﻑ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﭙﭧ ﮐﺮ ﺑﯿﻦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
    ﺍﺳﮯ ﮐﮩﻨﺎ ﭘﻠﭧ ﺁﺋﮯ
    ﮐﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ
    ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻗﺮﺏ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ ﻓﻘﻂ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﺏ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ
    ﻣﯿﺮﯼ ﺷﺎﺩﺍﺏ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺪﻥ ﭘﺎﻣﺎﻝ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ
    ﺟﺪﺍﺋﯽ ﺭﺕ ﺟﮕﺎ ﺑﻦ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺗﺮ ﺁﺋﮯ
    ﺩﻋﺎ ﮐﮯ ﻟﻔﻆ ﻣﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ
    ﭨﮭﭩﮭﺮﺗﯽ ﮐﺎﻧﭙﺘﯽ ﺷﺎﻣﯿﮟ ﺻﻒ ﻣﺎﺗﻢ ﺑﭽﮭﺎ ﺟﺎﺋﯿﮟ
    ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺛﯿﮯ ﭘﮭﻮﭨﯿﮟ
    ﮨﻮﺍ ﻧﻮﺣﻮﮞ ﭘﮧ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ
    ﺍﺳﮯ ﮐﮩﻨﺎ ﭘﻠﭧ ﺁﺋﮯ
    ﮐﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﯾﮧ ﻏﻢ ﻣﮑﻤﻞ ﺳﻮﮒ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ
    ﻣﺤﺒﺖ ﺭﻭﮒ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ !!

  19. Zarnish Ali
    ﺗُﻢ ﻣِﻼﺗﮯ ﮬﻮ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ
    ﺍﯾﮏ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ
    _________________________
    ﯾﮧ ﺟﻮ ﻣُﺠﮫ ﭘﺮ ﻧﮑﮭﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ !!
    ﺁﭖ ﮬﯽ ﮐﯽ ﺑﮩﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ ____
    ﺁﭖ ﭼﺎﮬﯿﮟ ﺗﻮ ﺟﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﻟﯿﮟ
    ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ ____
    ﺗُﻢ ﻣِﻼﺗﮯ ﮬﻮ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ
    ﺍﯾﮏ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ
    ﮐﺴﯽ ﮐﮭﻮﻧﭩﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﯾﺠﮯ ﺍِﺳﮯ
    ﺩﻝ ﺑﮍﺍ ﺑﮯ ﻣُﮩﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ _______
    ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﻟﻐﺰﺷﻮﮞ ﭘﮧ ﮐﯿﺠﮯ ﻣُﻌَﺎﻑ
    ﺳﺎﺋﯿﮟ ! ﯾﮧ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ
    ﮐُﻞ ﻣِﻼ ﮐﺮ ﮬﮯ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﻣﯿﺮﺍ
    ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣُﺴﺘَﻌﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ ____
    ﺍﯾﮏ ﮐﺸﺘﯽ ﺑﻨﺎ ﮬﯽ ﺩﯾﺠﮯ ﻣُﺠﮭﮯ
    ﮐﻮﺋﯽ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﮯ ﭘﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ
    ﺭﻭﺯ ﺁﻧﺴُﻮ ﮐﻤﺎ ﮐﮯ ﻻﺗﺎ ﮬُﻮﮞ
    ﻏﻢ ﻣﺮﺍ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ
    ﻭُﺳﻌﺖِ ﺭﺯﻕ ﮐﯽ ﺩُﻋﺎ ﺩﯾﺠﮯ
    ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ
    ﺧﺎﺭ ﺯﺍﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﮬﻮ ﮐﮯ ﺁﯾﺎ ﮬُﻮﮞ
    ﭘﯿﺮﮬﻦ ﺗﺎﺭ ﺗﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ ___
    ﮐﺒﮭﯽ ﺁﮐﺮ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺩﻝ
    ﮐﯿﺴﺎ ﺍُﺟﮍﺍ ﺩﯾﺎﺭ ﮬﮯ، ﺳﺎﺋﯿﮟ

  20. Zarnish Ali
    ﺧﺎﻣﻮﺵ ﻣﺤﺒﺖ ! ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﮐﺮ
    ﺩﻝ ﺩُﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ
    ﺍﮮ ﭼﺸﻢِ ﺩﺭﺩ ﺁﺷﻨﺎ
    ﺍِﮎ ﺑﻮﻧﺪ ﺑﺮﺱ
    ﺍِﮎ ﺍﺷﮏ ﭼﮭﻠﮏ
    ﺧﺎﻣﻮﺵ ﻧﻈﺮ ! ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﮐﺮ
    ﺩﻝ ﺩُﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ
    ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﻮ ﺭﮐﮫ
    ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮧ ﺩﻝ ﺭﮐﮫ ﺩﻭﮞ
    ﺩﻝ ﺩﺭﺩ ﺑﮭﺮﺍ
    ﺟﻮ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﺋﮯ
    ﯾﮧ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ
    ﺍﮎ ﻟﻔﻆِ ﻣﺤﺒﺖ ﺑﻮﻝ ﺫﺭﺍ
    ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﻟﻔﻆ ﺗﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭﮞ
    ﺩﻝ ﺩﺭﺩ ﺳﺮﺍﺏ ﮐﻮ ﺁﺏ ﺳﮯ ﺑَﮭﺮ
    ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﺍﺏ ﭘﮧ ﺁﻧﮑﮫ ﺗﻮ ﺩَﮬﺮ
    ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﺑﮭﺮﻭﮞ
    ﺧﺎﻣﻮﺵ ﻣﺤﺒﺖ ! ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﮐﺮ
    ﺩﻝ ﺩُﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ

  21. Zarnish Ali
    ﺧﺎﻣﻮﺵ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ
    ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ
    ﭼﭙﮑﮯ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ
    ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ
    ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ
    ﻣﺖ ﺩﯾﮑﮭﻮ
    ﻭﮦ ﮔﻢ ﮨﮯ ﮐﺲ ﮐﯽ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ
    ﻧﮧ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻧﺎﭘﻮ
    ﻧﮧ ﺯﺍﻭﯾﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ
    ﻣﺖ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﻭﮦ ﮐﺲ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ
    ﮐﻦ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﺎﻧﮏ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ
    ﺗﻢ ﺑﺲ ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ
    ﺳﺮﮔﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻭ
    ﺧﻮﺩ ﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ، ﺍُﺱ ﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ
    ﯾﺎﺩﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ
    ﺧﯿﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ
    ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ
    ﺳﻮﭼﻮﮞ ﮐﻮ ﺯﺑﺎﮞ ﺩﻭ
    ﭘﻮﭼﮫ ﮐﮯ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺗﻮ !
    ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ
    ﮐﯿﺎ !!!
    ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ
    ﻣﺠﮫ ﺳﮯ
    ﺍﺗﻨﯽ ﮨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ
    ﮐﯿﺎﺗﻢ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ !

  22. Zarnish Ali
    ﮨﻢ ﻏﻢ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻋﺒﺎﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
    ﻟﮩﺠﮯ ﺳﮯ ﺑﻬﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
    ﮨﻢ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻠﻮﻧﮯﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﯿﮟ
    ﺍﺱ ﻭﺍﺳﻄﮯﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
    ﮨﺮ ﻣﻮﮌ ﭘﮧ ﺁﻧﺴﻮ ﻟﺌﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﭘﺮﯾﺸﺎﮞ
    ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﺳﮯﺑﻐﺎﻭﺕ ﮐﯽ ﺟﺴﺎﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
    ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺍﺫﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﯿﺪ ﺭﮨﮯ ﺑﺮﺳﻮﮞ
    ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﺎﻧﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
    ﺍﮎ ﭘﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﻓﻀﺎﺋﯿﮟ
    ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺩﺭﺩ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
    ﺑﮯ ﺩﺭﺩ ﺳﮯﻟﻤﺤﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﮍﮰ ﮨﯿﮟ
    ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﮭﺮﺧﻮﺩ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
    ﺟﺲ ﺳﺎﺯ ﭘﮧ ﻧﺎﭼﮯ ﺩﻝِ ﺑﺮﺑﺎﺩﮐﯽ ﺣﺴﺮﺕ
    ﺍﺱ ﺳُﺮ ﮐﯽ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺭﻭﺯ ﺭﯾﺎﺿﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
    ﺭﺷﺘﮧ ﮨﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺗﺠﮫ ﺳﮯﻣﺮﯼ ﺟﺎﮞ
    " ﺳﻮ ﭼﺎﮦ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﻋﺪﺍﻭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ "
    ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺟﺰﯾﺮﻭﮞ ﭘﮧ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮨﮯ ﮨﻤﺎﺭﯼ
    ﺑﮩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺷﮑﻮﮞ ﭘﮧ ﻗﻨﺎﻋﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
    ﻭﯾﺮﺍﻧﯽ ﺩﻝ ﮐﺐ ﺳﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﮧ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﮯ
    ﺗﻢ ﺑﻮﻝ ﮐﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺑﺮﭘﺎ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
    ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻋﻘﯿﺪﺕ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ
    ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻓﻘﻂ ﺗﯿﺮﯼ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
    ﻣﭧ ﺟﺎﺗﮯﮨﯿﮟ ﺳﺐ ﻧﻘﺶ ﻣﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯﺳﺐ ﮐﮯ
    ﮐﭽﮫ ﻋﮑﺲ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﮨﯽ ﺗﻮ ﮨﺠﺮﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ
    ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭﻭﮞ ﭘﮧ ﺩﯾﺎ ﺭﻭﺯ ﺟﻼ ﮐﺮ
    ﭨﻮﭨﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﺳﮯ ﺷﺮﺍﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ

  23. Zarnish Ali
    ﻣﺤﺒﺖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﮯ
    ﻣﺤﺒﺖ ﺟﺐ ﺩﺑﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﮐﺴﯽ ﺩﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺁﺋﮯ
    ﺑﮩﺖ ﺁﮨﺴﺘﮕﯽ ﺳﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﮧ ﺩﺳﺘﮏ ﺩﮮ
    ﺗﻮ ﺍُﺱ ﺩﺳﺘﮏ ﮐﮯ ﺟﺎﺩُﻭ ﺳﮯ
    ﺩَﺭﻭﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﯽ ﺭﻧﮕﺖ ﺑﺲ ﺍِﮎ ﭘَﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﮯ
    ﻓﻀﺎ ﮐﯽ ﻧﻐﻤﮕﯽ ﺍِﮎ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﻠﺘﯽ ﮨﮯ
    ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
    ﺍﺳﯽ ﻟﻤﺤﮯ ﮐﯽ ﺟﮭﻠﻤﻞ ﻣﯿﮟ
    ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺳﺮﺳﺮﯼ ﺳﮯ ﺍِﮎ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﯽ ﮨَﻮﺍ ﺍﯾﮏ ﺩﻡ
    ﮐﺴﯽ ﺁﻧﺪﮬﯽ ﮐﯽ ﺻُﻮﺭﺕ ﮨﺮ ﻃﺮﻑ ﻟﮩﺮﺍﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ
    ﻭﮦ ﺍﮎ ﻟﻤﺤﮧ، ﺯﻣﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﮯ ﭘﮭﯿﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
    ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪّ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ
    ﯾﮧ ﮐُﮭﻠﺘﺎ ﮨﮯ
    ﻣﺤﺒﺖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﺘﮧ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ
    ﻣﻨﺰﻝ ﻧﺸﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ
    ﯾﻘﯿﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺍﻓﻀﻞ ﮨﻮ ﯾﮧ ﺍﮎ ﺍﯾﺴﺎ ﮔﻤﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ
    ﯾﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻮﮌ ﮨﮯ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺳﻔﺮ ﺧﻮﺩ ﻧﺎﺯ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ
    ﺍِﮎ ﺍﯾﺴﺎ ﺑﯿﺞ ﮨﮯ
    ﺟﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ " ﺯﻧﺪﮔﯽ " ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ
    ﺍُﺳﮯ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﺌﮯ ﻣﻔﮩﻮﻡ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ
    ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ
    " ﻣﺤﺒﺖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ
    ﺩِﻥ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺗﻔﺮﯾﻖ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ
    ﺗﻮ ﻣﺎﮦ ﻭ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﮔِﻨﺘﯽ ﮐﮯ ﻭﮦ ﻣﻌﻨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ
    ﺟﻮ ﺍَﺏ ﺗﮏ ﺗﮭﮯ "
    ﺳِﻤﭧ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﺐ ﺭﺷﺘﮯ
    ﺍﮎ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺵ ﻧﮕﺎﮨﯽ ﻣﯿﮟ
    ﮐﮧ ﺍﮎ ﺩﻭﺟﮯ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨُﻤﮑﺘﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﮨﻢ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ﺟﮩﺎﮞ ﮨﻢ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﮐﯽ ﻧﯿﻠﮕﻮﮞ ﭼﺎﺩﺭ ﮐﮯ ﺩﺍﻣﻦ ﻣﯿﮟ
    ﮨﻤﺎﺭﮮ " ﮨﺴﺖ " ﮐﺎ ﭘﯿﮑﺮ ﺳﻨﻮﺭﺗﺎ ﮨﮯ
    ﻭﮦ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﭘُﺮﺍﻧﮯ، ﺁﺷﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍَﻥ ﺑﻨﮯ ﻣﻨﻈﺮ
    ﮐﺌﯽ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﻠﺘﮯ،
    ﺧﻮﺷﺒﻮﺅﮞ ﮐﯽ ﻟﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﻠﯿﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
    ﺯﻣﯿﮟ ﭼﮩﺮﮦ ﺑﺪﻟﺘﯽ ﮨﮯ، ﺁﺳﻤﺎﮞ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
    ﻣﺤﺒﺖ ﺑﮭﯽ ﻭﻓﺎ ﺻﻮﺭﺕ
    ﮐﺴﯽ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﮐُﻠﯿﺌﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﻧﭽﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﮬﻠﺘﯽ
    ﮐﮧ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮕﻠﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻥ ﻧﺸﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮨﮯ
    ﮐﮧ ﺟﻮ ﮨﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﮯ
    ﯾﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮨﮯ
    ﺟﺲ ﮐﮯ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﺭُﻭﭖ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ
    ﺟﺴﮯ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﻭﮦ ﯾﮑﺘﺎ ﮨﮯ
    ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍِﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺟﯿﺴﺎ ﮨﮯ
    ﻣﺤﺒﺖ ﺍﺳﺘﻌﺎﺭﺍ ﺑﮭﯽ، ﻣﺤﺒﺖ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ
    ﺍﺯﻝ ﮐﺎ ﻧﻮﺭ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ، ﺍَﺑﺪ ﮐﯽ ﺗﯿﺮﮔﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ
    ﺍِﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﺪ ﮨﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ، ﺍِﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﮩﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ

  24. Zarnish Ali
    ﮬﺮ ﺟﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﺍُﺳﯽ ﮐﯽ ﭼﺎﮬﺖ ﺗﮭﮯ
    ﮬﻢ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯽ ﺍﻣﺎﻧﺖ ﺗﮭﮯ
    ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﻠﻤﻼﺗﯽ ﮬُﻮﺋﯽ
    ﮬﻢ ﻏﺰﻝ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﺗﮭﮯ
    ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﺩﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﻦ ﺳﻤﯿﭧ ﻟﯿﺎ
    ﮬﻢ ﮐﮩﺎﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﺍﺯ ﻗﺎﻣﺖ ﺗﮭﮯ
    ﺟﯿﺴﮯ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﻟﮓ ﺟﺎﺋﮯ
    ﮬﻢ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺗﻨﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﮭﮯ
    ﭘﺎﺱ ﺭﮦ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﺩُﻭﺭ ﺩُﻭﺭ ﺭﮬﮯ
    ﮬﻢ ﻧﺌﮯ ﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺗﮭﮯ
    ﺍِﺱ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎ
    ﻏﻢ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﺘﻨﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﮭﮯ
    ” ﺑﺸﯿﺮ ﺑﺪﺭ

  25. Zarnish Ali
    ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺑﺎﺏ ﺳﺎﺭﮮ
    ﻭﮦ ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﻼﺏ ﺳﺎﺭﮮ
    ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ
    ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ
    ﻭﻓﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﻋﻨﺎﯾﺘﻮﮞ ﮐﺎ
    ﻭﮦ ﭨﻮﭨﮯ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﺋﺘﻮﮞ ﮐﺎ
    ﺣﺴﺎﺏ ﺭﮐﮭﻨﺎ
    ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ
    ﮔﻼﺏ ﺭﺕ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮮ ﻗﺼّﮯ
    ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﻮ
    ﺗﻮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮯ ﻣﺜﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ
    ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ
    ﮐﺒﮭﯽ ﺟﻮ ﮨﻢ ﺗﻢ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﺁﺋﯿﮟ
    ﺗﻮ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺭﺷﺘﮧ ﺑﺤﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ
    ﯾﮧ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﻻﺯﻭﺍﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ
    ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻨﺎ

  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
×
×
  • Create New...