اداس دل کی اداس باتیں
سمجھنے والا کوئی تو ہوتا
کہ جس کی باتوں سے دل سبھلتا
کہ جس کی سنگت میں دل بہلتا
جس کی ہلکی سی اک جھلک بھی
ہمارے دکھ کو سمیٹ لیتی
فلک سے خوشیاں انڈیل دیتی
یا اُس کی نازک سی مسکراہٹ
دن کی سبھی تھکاوٹ کو دور کرتی
یا پھر چمکتی وُہ آنکھیں اُس کی
ہماری ہستی کا راز ہوتیں،،
ہمارے دُکھ کی کتاب ہوتیں،
جو ہم کو چاہتا، ہم کو پڑھتا،
گزرتے لمحوں کی سختیوں میں،
کوئی تو نازک مزاج ہوتا،
کوئی تو ہوتا،
2

0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.