Is ko baher choor ker ao shahzadi
Is ko baher choor ker ao shahzadi
اس کو باہر چھوڑ کے آؤ شہزادی
جگنو سے نہ ہاتھ جلاؤ شہزادی
تتلی کے میں کان یقینا کھینچوں گا
پہلے پوری بات بتاؤ شہزادی
بارش کی بوندوں سے تھوڑا دور رہو
لگ جائے نا کوئی گھاؤ شہزادی
صورت کی شہرت تو چار دنوں کی ہے
سیرت میں تم نام کماؤ شہزادی
عشق تمہارے بس کی بات نہیں پاگل
گڑیا سے تم من بہلاؤ شہزادی
آج بڑی مشکل سے تم کو پہچانا
کیوں بدلے ہیں ہاؤ بھاؤ شہزادی
ٹوٹ گئے تو آنکھوں میں چبھ جائیں گے
بالکل بھی نہ خواب سجاؤ شہزادی
خواب میں چوڑی ٹوٹی کو اک سال ہوا
اس پر یوں نہ اشک بہاؤ شہزادی
کاش کسی دن عشق سمندر جا پہنچیں
ہم تم تنہا لے کر ناؤ شہزادی
غلطی پہ سو بار معافی مانگ چکا
دیکھو اب نہ بات بڑھاؤ شہزادی
تم گر مفلس سے کچھ پھول خریدو گی
بڑھ جائے گا ان کا بھاؤ شہزادی

0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.