👀 You are watching:
Jump to content
👉 Click here to explore Remote Jobs, Work From Home & Global News – USA 🇺🇸 | UK 🇬🇧 | Canada 🇨🇦 | Pakistan 🇵🇰 ×
🚫 Guest Access Notice ×

Zarnish Ali

🌟 LEGACY MEMBER
  • Posts

    2,099
  • Joined

  • Last visited

    Never
  • Days Won

    144

Blog Entries posted by Zarnish Ali

  1. Zarnish Ali
    گر ترے شعر میں شامل ہی نہیں سوز و گداز
    ’’ ہجو ‘‘
    خاک در خاک تری ہجرت و ایثار پہ خاک
    خاک در خاک ترے سب درو دیوار پہ خاک
    بستیاں خوں میں نہاتی ہیں چمن جلتے ہیں
    خاک در خاک تری گرمی ء گفتار پہ خاک
    اس سے بہتر تھا کہ اقرار ہی کرلیتا تو !
    خاک در خاک تری جراءت ِ انکار پہ خاک
    شام تک دھول اڑاتے ہیں سحر تک خاموش
    خاک در خاک ترے کوچہ و بازار پہ خاک
    خون آلود مصلّے ، صفیں لاشوں سے اٹی
    خاک در خاک ترے جبّہ و دستار پہ خاک
    آئنے عکس میسر نہیں تجھ کو بھی تو پھر
    خاک در خاک ترے جوہرِ زنگار پہ خاک
    لحنِ دل تو بھی اسی شور میں شاداں ہے تو پھر
    خاک در خاک ترے نغمہ و مزمار پہ خاک
    کنجِ محرومی سے نکلو کسی جنگل کی طرف
    خاک در خاک پڑے شہرِ ستمگار پہ خاک

    خاک در خاک ترے لہجہ و تکرار پہ خاک
     

  2. Zarnish Ali
    ہمارے دل میں کہیں درد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟
    ہمارا چہرہ بھلا زرد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟
    سُنا ہے آدمی مر سکتا ہے بچھڑتے ہوئے 
    ہمارا ہاتھ چھوؤ ، سرد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟
    سُنا ہے ہجر میں چہروں پہ دھول اڑتی ہے 
    ہمارے رخ پہ کہیں گرد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟
    کوئی دلوں کے معالج ، کوئی محمد بخش
    تمام شہر میں کوئی مرد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟
    وہی ہے درد کا درماں بھی افتخار مغل
    کہیں قریب وہ بے درد ہے ؟ نہیں ہے نا ؟
    ڈاکٹر افتخار مغل (مرحوم)
     

  3. Zarnish Ali
    لمحہ بھر اپنا خوابوں کو بنانے والے
    اب نہ آئیں گے پلٹ کر کبھی جانے والے
    کیا ملے گا تجھے بکھرے ہوئے خوابوں کے سوا
    ریت پر چاند کی تصویر بنانے والے
    سب نے پہنا تھا بڑے شوق سے کاغذ کا لباس
    اس قدر لوگ تھے بارش میں نہانے والے
    مر گئے ہم تو یہ کتبے پر لکھا جائے گا
    سو گئے آپ زمانے کو جگانے والے
    در و دیوار پر حسرت سی برستی ہے محسن!
    جانے کس دیس گئے پیار نبھانے والے
     

  4. Zarnish Ali
    بروزِ حشر مِلے گا ضرور صبر کا پھل
    یہاں تُو ہو نہ ہو میرا ، وہاں تو ہوگا ہی
    اِدھر اُدھر کہیں کوئی نشاں تو ہوگا ہی
    یہ رازِ بوسۂ لب ہے، عیاں تو ہوگا ہی
    تمام شہر جو دھندلا گیا تو حیرت کیوں؟
    دِلوں میں آگ لگی ہے ، دھواں تو ہوگا ہی
    بروزِ حشر مِلے گا ضرور صبر کا پھل
    یہاں تُو ہو نہ ہو میرا ، وہاں تو ہوگا ہی
    یہ بات نفع پرستوں کو کون سمجھائے؟
    کہ کاروبارِ جنُوں میں زیاں تو ہو گا ہی
    ہم اس اُمید پہ نکلے ہیں جھیل کی جانب
    کہ چاند ہو نہ ہو ، آبِ رواں تو ہوگا ہی
    مَیں کُڑھتا رہتا ہوں یہ سوچ کر کہ تیرے پاس
    فُلاں بھی بیٹھا ہو شاید ، فُلاں تو ہوگا ہی!
    یہ بات مدرسۂ دل میں کھینچ لائی مجھے
    کہ درس ہو کہ نہ ہو ، امتحاں تو ہو گا ہی
    مگر وہ پھول کے مانند ہلکی پُھلکی ھے !
    سو اُس پہ عشق کا پتھر گراں تو ہو گا ہی
    غزل کے روپ میں چمکے کہ آنکھ سے چھلکے
    یہ اندرونے کا دکھ ھے ، بیاں تو ہوگا ہی
    بڑی اُمیدیں لگا بیٹھے تھے سو اب "فارس"
    ملالِ بے رخئ دوستاں تو ہو گا ہی


  5. Zarnish Ali
    زمانہ بڑھ کے وہی پیڑ کاٹ دیتا ہے. 
    میں جس کی شاخ پہ اک گھونسلہ بناتی ہوں. 
    بلقیس خان
    تمھاری یاد کا اک دائرہ بناتی ہوں. 
    پھر اس میں رہنے کی کوئی جگہ بناتی ہوں. 
    وہ اپنے گرد اٹھاتا ہے روز دیواریں. 
    میں اس کی سمت نیا راستہ بناتی ہوں. 
    زمانہ بڑھ کے وہی پیڑ کاٹ دیتا ہے. 
    میں جس کی شاخ پہ اک گھونسلہ بناتی ہوں. 
    وہ گھول جاتا ہے نفرت کی تلخیاں آ کر. 
    میں چاہتوں کا نیا ذائقہ بناتی ہوں. 
    خیال و حرف تغزل میں ڈھال کر بلقیس. 
    میں اپنے درد سبھی غزلیہ بناتی ہوں.
     

  6. Zarnish Ali
    تو ہی بتلا میری یادوں کو بھلانے والے
    میں تیری یاد کو اس دل سے بھلاؤں کیسے
    عدیم
    ٹوٹ جائے نہ بھرم ہونٹ ہلاؤں کیسے
    حال جیسا بھی ہے لوگوں کو سناؤں کیسے
    خشک آنکھوں سے بھی اشکوں کی مہک آتی ہے
    میں تیرے غم کو زمانے سے چھپاؤں کیسے
    تیری صورت ہی میری آنکھ کا سرمایہ ہے
    تیرے چہرے سے نگاہوں کو ہٹاؤں کیسے
    تو ہی بتلا میری یادوں کو بھلانے والے
    میں تیری یاد کو اس دل سے بھلاؤں کیسے
    پھول ہوتا تو تیرے در پہ سجا بھی رہتا
    زخم لے کر تیری دہلیز پہ آؤں کیسے
    آئینہ ماند پڑے سانس بھی لینے سے عدیم
    اتنا نازک ہو تعلق تو نبھاؤں کیسے
    وہ رلاتا ہے رلائے مجھے جی بھر کے عدیم
    میری آنکھیں ہے وہ میں اس کو رلاؤں کیسے
     

  7. Zarnish Ali
    تجھ سے بچھڑوں تو تری ذات کا حصہ ہو جاؤں
    جس سے مرتا ہوں اسی زہر سے اچھا ہو جاؤں
    تم مرے ساتھ ہو یہ سچ تو نہیں ہے لیکن
    میں اگر جھوٹ نہ بولوں تو اکیلا ہو جاؤں
    میں تری قید کو تسلیم تو کرتا ہوں مگر
    یہ مرے بس میں نہیں ہے کہ پرندہ ہو جاؤں
    آدمی بن کے بھٹکنے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔مزا آتا ہے
    میں نے سوچا ہی نہیں تھا کہ فرشتہ ہو جاؤں
    وہ تو اندر کی اداسی نے بچایا۔۔۔۔۔۔۔ورنہ
    ان کی مرضی تو یہی تھی کہ شگفتہ ہو جاؤں
    احمد کمال پروازی
     

  8. Zarnish Ali
    یعنی یکطرفہ تھا ہمارا عشق؟
    ہم نے پالا تھا خواہ مخواہ کا دکھ!!!
    شمامہ افق
    مختلف ایک ہی سپاہ کا دکھ
    اک پیادے کا ایک شاہ کا دکھ!!
    منزلوں تک ہمارے ساتھ گیا
    مختصر ایک شاہراہ کا دکھ!
    دکھ ہمیں اک ادھورے رشتے کا
    اسی رشتے سے پھر نبھاہ کا دکھ!!!
    یعنی یکطرفہ تھا ہمارا عشق؟
    ہم نے پالا تھا خواہ مخواہ کا دکھ!!!
    یہ جو شہزادی لینے آئے ہیں
    کیسے سمجھیں گے بادشاہ کا دکھ!
     
  9. Zarnish Ali
    ﮐﮩﻮ !
    ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ
    ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﮯ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ؟
    ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺴﻨﮯ ﺳﮯ، ﺭﻭﻧﮯ ﺳﮯ ؟
    ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﺎ ﭘﻬﺮ
    ﻣﯿﺮﮮ ﺑﮩﺖ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ؟
    تمہاﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ
    ﯾﺎ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ؟
    ﮐﮩﻮ !!!!
    تمہاﺭﮮ ﺩﻝ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺷﮏ ﮔﺮﺗﺎ ﮨﮯ ؟
    ﻣﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ تمہیں میرے ﻟﺌﮯ ﮐﻬﺒﯽ ﺁﻭﺍﺭﮦ ﭘﻬﺮﺗﺎ ﮨﮯ ؟
    ﺗﺼﻮﺭ ﮐﮯ ﭘﺮﺩﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﮑﺲ ﺍﺑﻬﺮﺗﺎ ﮨﮯ ؟
    ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻢ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﻮ، ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ شخص ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ؟
    ﮐﮩﻮ !
    ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐﺴﯽ ﯾﺎﺩ ﭘﺮ ﺗﻤﺎﺭﯼ ﻧﻈﺮ ﺟﺐ ﭨﻬﮩﺮﺗﯽ ﮨﮯ
    ﮐﯿﺎ ﺑﮍﮮ ﺣﻮﺻﻠﮯ ، ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﭘﻠﭩﺘﯽ ﮨﮯ ؟
    ﮐﯿﺎ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﺳﻤﭩﺘﯽ ﮨﮯ ؟
    ﻣﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ تمہاﺭﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﻬﯽ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻣﭽﻠﺘﯽ ﮨﮯ ؟
    ﮐﮩﻮ کبھی ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮨﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ تمہاﺭﺍ ﺭﺑﻂ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﮯ ؟
    ﺑﮩﺖ ﺿﺒﻂ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﻬﺒﯽ ﺿﺒﻂ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﮯ ؟
    ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﮩﺖ ﺍﭘﻨﺎ، ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺭﻭﭨﻬﺎ ﮨﮯ ؟
    ﺧﻮﺍﺏ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﻨﺎ ، ﮐﯿﺎ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﮯ ؟
    ﮐﮩو !
    ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ؟
    ﺳﻨﻮ !
    ﯾﮧ ﺳﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮨﮯ
    تمہاﺭﮮ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ
    ﯾﮧ ﺳﺐ ﺁﮨﯿﮟ ﮨﯿﮟ
    ﺗﻢ ﺑﻦ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﯽ
    ﯾﮧ ﺳﺐ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ
    ﺟﻮ ﻣﺠﮫ ﭘﮧ ﺑﯿﺘﺘﯽ ﮨﯿﮟ
  10. Zarnish Ali
    ﮐﮩﻮ !
    ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ
    ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻮﻧﮯ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ؟
    ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺴﻨﮯ ﺳﮯ، ﺭﻭﻧﮯ ﺳﮯ ؟
    ﻣﯿﺮﮮ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﺎ ﭘﻬﺮ
    ﻣﯿﺮﮮ ﺑﮩﺖ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ؟
    تمہاﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ
    ﯾﺎ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ؟
    ﮐﮩﻮ !!!!
    تمہاﺭﮮ ﺩﻝ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺷﮏ ﮔﺮﺗﺎ ﮨﮯ ؟
    ﻣﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ تمہیں میرے ﻟﺌﮯ ﮐﻬﺒﯽ ﺁﻭﺍﺭﮦ ﭘﻬﺮﺗﺎ ﮨﮯ ؟
    ﺗﺼﻮﺭ ﮐﮯ ﭘﺮﺩﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﮑﺲ ﺍﺑﻬﺮﺗﺎ ﮨﮯ ؟
    ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻢ ﻣﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﻮ، ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ شخص ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ؟
    ﮐﮩﻮ !
    ﮨﻤﺎﺭﯼ ﮐﺴﯽ ﯾﺎﺩ ﭘﺮ ﺗﻤﺎﺭﯼ ﻧﻈﺮ ﺟﺐ ﭨﻬﮩﺮﺗﯽ ﮨﮯ
    ﮐﯿﺎ ﺑﮍﮮ ﺣﻮﺻﻠﮯ ، ﺑﮍﯼ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﭘﻠﭩﺘﯽ ﮨﮯ ؟
    ﮐﯿﺎ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﺳﻤﭩﺘﯽ ﮨﮯ ؟
    ﻣﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ تمہاﺭﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﻬﯽ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻣﭽﻠﺘﯽ ﮨﮯ ؟
    ﮐﮩﻮ کبھی ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮨﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ تمہاﺭﺍ ﺭﺑﻂ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﮯ ؟
    ﺑﮩﺖ ﺿﺒﻂ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﻬﺒﯽ ﺿﺒﻂ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﮯ ؟
    ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﮩﺖ ﺍﭘﻨﺎ، ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺭﻭﭨﻬﺎ ﮨﮯ ؟
    ﺧﻮﺍﺏ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﻨﺎ ، ﮐﯿﺎ ﭘﻠﮑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭨﻮﭨﺎ ﮨﮯ ؟
    ﮐﮩو !
    ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ؟
    ﺳﻨﻮ !
    ﯾﮧ ﺳﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮨﮯ
    تمہاﺭﮮ ﮨﺠﺮ ﮐﯽ
    ﯾﮧ ﺳﺐ ﺁﮨﯿﮟ ﮨﯿﮟ
    ﺗﻢ ﺑﻦ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﯽ
    ﯾﮧ ﺳﺐ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ
    ﺟﻮ ﻣﺠﮫ ﭘﮧ ﺑﯿﺘﺘﯽ ﮨﯿﮟ

  11. Zarnish Ali
    تو مجھے اپنے مریدین میں رکھتا بھی نہیں
    میں کسی اور کی بیعت بھی نہیں کر سکتا
    شبیر احرام
    اے مرے دوست رعایت بھی نہیں کر سکتا
    پر ترے ساتھ بغاوت بھی نہیں کر سکتا 
    سامنے سے بھی تجھے کچھ نہیں کہہ سکتا میں
    پیٹھ پیچھے تری غیبت بھی نہیں کر سکتا
    تو مجھے اپنے مریدین میں رکھتا بھی نہیں
    میں کسی اور کی بیعت بھی نہیں کر سکتا
    جانتا ہوں میں خدوخال بگڑنے کا سبب
    آئینہ دیکھ کے حیرت بھی نہیں کر سکتا
    اب ترے شہر میں رہنا بھی مناسب نہیں ہے
    اور میں اس شہر سے ہجرت بھی نہیں کر سکتا
    مجھ میں ہمت بھی نہیں ہے کہ بھلا دوں تجھ کو
    اور میں اس کام کی ہمت بھی نہیں کر سکتا
     

  12. Zarnish Ali
    اے مِری ذات کے سکُوں ! آ جا 
    تھم نہ جائے کہیں جنوں ' آ جا 
    رات سے ایک سوچ میں گُم ہوں
    کس بہانے تجھے کہوں' آ جا
    ہاتھ جس موڑ پر چُھڑایا تھا
    میں وہیں پر ہوں سَر نِگوں' آ جا
    یاد ہے سُرخ پھول کا تحفہ ؟
    ہو چلا وہ بھی نیل گُوں ' آ جا 
    چاند تاروں سے کب تلَک آخر
    تیری باتیں کِیا کروں ' آ جا
    اپنی وَحشت سے خوف آتا ہے
    کب سے ویراں ہے اَندرُوں ' آ جا
    اس سے پہلے کہ مَیں اذیّت میں
    اپنی آنکھوں کو نوچ لوں ' آ جا
    دیکھ ! 'مَیں' یاد کر رہی ہوں تجھے
    پھر میں یہ بھی نہ کر سکوں' آ جا
    ( فریحہؔ نقوی )
     

  13. Zarnish Ali
    لبوں سے لفظ جھڑیں آنکھ سے نمی نکلے 
    کسی طرح تو میرے دل سے بے دلی نکلے
    میں چاہتا ہوں پرندے رہا کیے جائیں 
    میں چاہتا ہوں تیرے ہونٹ سے ہنسی نکلے
    میں چاہتا ہوں کوئی مجھ سے بات کرتا رہے 
    میں چاہتا ہوں کہ اندر کی خامشی نکلے 
    میں چاہتا ہوں مجھے طاقچے میں رکھا جائے
    میں چاہتا ہوں جلوں اور روشنی نکلے 
    میں چاہتا ہوں تیرے ہجر میں عجیب ہو کچھ 
    میں چاہتا ہوں چراغوں سے تیرگی نکلے
    میں چاہتا ہوں تجھے مجھ سے عشق ہو جائے
    میں چاہتا ہوں کہ صحرا سے جل پری نکلے 
    میں چاہتا ہوں مجھے کوئی درد دان کرے 
    میں چاہتا ہوں کہ آنسو ہنسی خوشی نکلے
    میں چاہتا ہوں کہ یہ راہ بحال ہو پھر سے 
    ہماری آنکھ سے دل تک کوئی گلی نکلے

  14. Zarnish Ali
    جھلیا عشق کمانا اوکھا
    کسے نوں یار بنانا اوکھا
    پیار پیار تے ہر کوئی بولے
    کرکے پیار نبھانا اوکھا
    ہر کوئی دکھاں تے ہنس لیندا ای
    کسی دا درد ودانا اوکھا
    گلاں نال نئی رتبے مل دے
    جوگی بھیس وتانا اوکھا
    کوئی کسے دی گل نئی سن دا
    لوکاں نوں سمجھاناں اوکھا
    بابا بلھے شاہ
     

  15. Zarnish Ali
    میں نے تم سے خفا ھونا چھوڑدیا ھے
    اب زندگی سے خفا ھونا چھوڑدیا ھے
    کون کہتا ھے تم واپس آگئےمیرے لئے
    ۔میں نے تو کب سے خوابوں میں جینا چھوڑدیا ھے
    پہلے پہل تو ھم بھی بڑے نرم دل تھے
    اب ان آنکھوں نے رونا چھوڑدیا ھے

    ۔کبھی کبھی تیرا انتظار کیا ھے بہت
    اب دل۔نے منتظر رھنا چھوڑدیا ھے
    ۔اول اول کی شناسائ میں بڑا تکلف تھا 
    آداب محبت کو ھم نے چھوڑدیا ھے
    ۔روز جس تڑپ سے انتظار تیرا ھم نے کیا 
    اس بیقرار دل کو ھم نے توڑدیا ھے
    تم بھی زندگی کی الجھنوں میں الجھ گئے ھو
    اور ھم نے بھی کھیں آنا جانا چھوڑدیا ھے !!!
    نگہت عبداللہ غوری
     

  16. Zarnish Ali
    وہ میری تشنگی محبت تھی 
    ورنہ وصل کی کیا مجھ کو ضرورت تھی 
    میرے انداز مجھے بھاتے نہیں تھے 
    ورنہ تیری آرزو کب میری حسرت تھی 
    ایک تو اور تیرا وھم میرے ساتھ تھا 
    برا ھوا مجھے آئینے کی چاھت تھی
    وہ ترک وفا میں کمال کا نکلا 
    بس مجھے نہ سمجھنے کی عادت تھی
    اپنی اپنی ذاتوں کے خول میں ھم بند ھوگئے 
    خود اپنے آپ کی ھی ھم کو چاھت تھی 
    نگہت عبداللہ غوری
     

  17. Zarnish Ali
    اب دل ناداں کو چین نصیب کہاں 
    میرے خواب بھی مجھ سے جدا ھوگئے ھیں 
    بہت سے لفظ مجھ سے قضا ھوگئے ھیں
    محبت کے شکوے واجب الادا ھوگئے ھیں
    جو دل نے چاھا مجھے ملا ھی نہیں 
    زندگی تیری طوالت سے ھم خفا ھوگئے ھیں
    اب دل ناداں کو چین نصیب کہاں 
    میرے خواب بھی مجھ سے جدا ھوگئے ھیں
    میری خوشیاں تو تیری دسترس میں تھیں 
    بہت سے غم مگر مجھکو عطا ھوگئے ھیں
    جو دل میں آگ لگی کیا کوئ دیکھ پائے گا 
    شعلے میرے ارمانوں کے جانے کہاں دھواں ھوگئے ھیں
    نگہت عبداللہ غوری

  18. Zarnish Ali
    کس لئے رقص دکھاتا ہوں مجھے کیا معلوم
    میں تو بس وقفِ تماشا ہوں مجھے کیا معلوم
    کیسا ہنگامہ برابر کے مکاں میں ہے مقیم
    میں تو خود شور میں رہتا ہوں مجھے کیا معلوم
    کون رہتا ہے مرے دل کے نہاں خانے میں
    کس کے دل کی میں تمنّا ہوں مجھے کیا معلوم
    ایک خورشید سے منسوب ہیں دن رات مرے
    دھوپ ہوں یا کوئی سایہ ہوں مجھے کیا معلوم
    مجھ میں آباد ہے بچھڑی ہوئی یادوں کا ہجوم
    لوگ کہتے ہیں میں تنہا ہوں مجھے کیا معلوم
    کوئی رُت ہو مری تقدیر ہے بہتے رہنا
    وقت ہوں، اشک ہوں، دریا ہوں مجھے کیا معلوم
     

  19. Zarnish Ali
    رقص میں رات ہے بدن کی طرح
    بارشوں کی ہوا میں بن کی طرح
    چاند بھی میری کروٹوں کا گواہ
    میرے بستر کی ہر شکن کی طرح
    چاک ہے دامن قبائےِ بہار
    میرے خوابوں کے پیرہن کی طرح
    زندگی، تجھ سے دور رہ کر، میں
    کاٹ لوں گی جلا وطن کی طرح
    مجھ کو تسلیم، میرے چاند کہ میں
    تیرے ہمراہ ہوں گہن کی طرح
    بار ہا تیرا انتظار کیا
    اپنے خوابوں میں اک دلہن کی طرح
     

  20. Zarnish Ali
    رات یوں رُخسار پہ تیری یاد کے آنسو مہکے
    اندھیری رات میں جیسے تنہا کوئی جگنو مہکے
    پاکیزہ چاندنی سے کیسے مُعطر ہورہی ہے فضا
    تیرے پہلو کی خوشبو سے جیسے میرا پہلو مہکے
    تیز ہوا یوں پتوں سے ٹکرا کے گزرتی ہے
    اک لمبی خامشی کے بعد جیسے تیری گفتگو مہکے
    میں اور اک غزل لکھ رہا ہوں تیرے نام سے
    تیرے خیال سے میرے وجدان کی آرذو مہکے
    اک بار یوں رکھ دے میرے سینے پہ اپنا ہاتھ
    چاک گریباں رہے نہ رہے تمام عمر یہ رفُو مہکے
    ابرار قریشی
     

  21. Zarnish Ali
    ہر بار یہی سوچا
    ہر باز قسم کھائی
    اس بار نہ روئیں گے
    دامن نہ بھگوئیں گے
    اے معنی ء گل لیکن
    … جب موسمِ گل آیا
    معصوم شگوفوں کی
    معصوم اداؤں نے
    مجبور بنا ڈالا
    ہر بار ُرلا ڈالا
  22. Zarnish Ali
    وحشت میں منت کش صحرا نہیں ہوتے
    کچھ لوگ بکھر کر بھی تماشا نہیں ہوتے
    جاں دیتے ہیں جاں دینے کا سودا نہیں کرتے
    شرمندۂ اعجاز مسیحا نہیں کرتے
    ہم خاک تھے پر اسے دیکھا تو بہت روئے
    سنتے تھے کہ صحراؤں میں دریا نہیں ہوتے
    اک تار گریباں کا رہے دھیان کہ سب لوگ
    محفل میں تو ہوتے ہیں شناسا نہیں ہوتے
     

  23. Zarnish Ali
    جن کے ہونٹوں پہ ہنسی پاؤں میں چھالے ہوں گے
    ہاں وہی لوگ تمہیں ڈھونڈنے والے ہوں گے
    مے برستی ہے فضاؤں پہ نشہ طاری ہے
    میرے ساقی نے کہیں جام اچھالے ہوں گے
    شمع وہ لائے ہیں ہم جلوہ گہء جاناں سے
    اب دو عالم میں اجالے ہی اجالے ہوں گے
    جن کے دل پاتے ہیں آسائشِ ساحل سے سکوں
    اِک نہ اک روز طلاطم کے حوالے ہوں گے
    ہم بڑے ناز سے آئے تھے تری محفل میں
    کیا خبر تھی لبِ اظہار پہ تالے ہوں گے
    اُن سے مفہومِ غمِ زیست ادا ہو شاید
    اشک جو دامنِ مژگاں نے سنبھالے ہوں گے
     

  24. Zarnish Ali
    دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملنا
    وہ ستم گر بھی مگر سوچے کسی پل ملنا
    واں نہیں وقت توہھم بھی ہیں عدیم الفرصت
    اس سے کیا ملئے جو ہر روز کہے ،کل ملنا
    عشق کی رہ کے مسافر کا مقدر معلوم
    شہر کی سوچ میں ہو اور اسے جنگل ملنا
    اسکا ملنا ہے عجب طرح کا ملنا جیسے
    دشتِ امید میں اندیشے کا بادل ملنا
    دامنِ شب کو اگر چاک بھی کر لیں توکہاں
    نور میں ڈوبا ہوا صبح کا آنچل ملنا
     

  25. Zarnish Ali
    ترا خیال بہت دیر تک نہیں رہتا
    کوئی ملال بہت دیر تک نہیں رہتا
    اداس کرتی ہے اکثر تمہاری یاد مجھے
    مگر یہ حال بہت دیر تک نہیں رہتا
    میں ریزہ ریزہ تو ہوتا ہوں ہر شکست کے بعد
    مگر نڈھال بہت دیر تک نہیں رہتا
    میں جانتا ہوں کہ سورج ہوں ڈوب جاؤں بھی تو
    مجھے زوال بہت دیر تک نہیں رہتا
     

  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
×
×
  • Create New...