بروزِ حشر مِلے گا ضرور صبر کا پھل
یہاں تُو ہو نہ ہو میرا ، وہاں تو ہوگا ہی
اِدھر اُدھر کہیں کوئی نشاں تو ہوگا ہی
یہ رازِ بوسۂ لب ہے، عیاں تو ہوگا ہی
تمام شہر جو دھندلا گیا تو حیرت کیوں؟
دِلوں میں آگ لگی ہے ، دھواں تو ہوگا ہی
بروزِ حشر مِلے گا ضرور صبر کا پھل
یہاں تُو ہو نہ ہو میرا ، وہاں تو ہوگا ہی
یہ بات نفع پرستوں کو کون سمجھائے؟
کہ کاروبارِ جنُوں میں زیاں تو ہو گا ہی
ہم اس اُمید پہ نکلے ہیں جھیل کی جانب
کہ چاند ہو نہ ہو ، آبِ رواں تو ہوگا ہی
مَیں کُڑھتا رہتا ہوں یہ سوچ کر کہ تیرے پاس
فُلاں بھی بیٹھا ہو شاید ، فُلاں تو ہوگا ہی!
یہ بات مدرسۂ دل میں کھینچ لائی مجھے
کہ درس ہو کہ نہ ہو ، امتحاں تو ہو گا ہی
مگر وہ پھول کے مانند ہلکی پُھلکی ھے !
سو اُس پہ عشق کا پتھر گراں تو ہو گا ہی
غزل کے روپ میں چمکے کہ آنکھ سے چھلکے
یہ اندرونے کا دکھ ھے ، بیاں تو ہوگا ہی
بڑی اُمیدیں لگا بیٹھے تھے سو اب "فارس"
ملالِ بے رخئ دوستاں تو ہو گا ہی


2 Comments
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.