عمر اک خواب سجانے میں گئی
تیری تصویر بنانے میں گئی
کٹ گئی کچھ تو غم ۓ ہجراں میں
اور کچھ ملنے ملانے میں گئی
ایک شعلہ سا کبھی لپکا تھا
زندگی آگ بجھانے میں گئی
ایسے سودے میں تو گھاٹا ہے اگر
آبرو سر کے بچانے میں گئی
تم بھی چاہو تو نہیں بن سکتی
بات جو بات بنانے میں گئی
رہ گئی کچھ تو تیرے سننے میں
اور کچھ اپنی سنانے میں گئی
عمر بھر کی تھی کمائی میری
جو تیرے بام پہ آنے میں گئی
عکس در عکس فقط حیرت تھی
عقل جب آئینہ خانے میں گئی

1

1 Comment
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.