تو مجھے اپنے مریدین میں رکھتا بھی نہیں
میں کسی اور کی بیعت بھی نہیں کر سکتا
شبیر احرام
اے مرے دوست رعایت بھی نہیں کر سکتا
پر ترے ساتھ بغاوت بھی نہیں کر سکتا
سامنے سے بھی تجھے کچھ نہیں کہہ سکتا میں
پیٹھ پیچھے تری غیبت بھی نہیں کر سکتا
تو مجھے اپنے مریدین میں رکھتا بھی نہیں
میں کسی اور کی بیعت بھی نہیں کر سکتا
جانتا ہوں میں خدوخال بگڑنے کا سبب
آئینہ دیکھ کے حیرت بھی نہیں کر سکتا
اب ترے شہر میں رہنا بھی مناسب نہیں ہے
اور میں اس شہر سے ہجرت بھی نہیں کر سکتا
مجھ میں ہمت بھی نہیں ہے کہ بھلا دوں تجھ کو
اور میں اس کام کی ہمت بھی نہیں کر سکتا
0

0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.