Jump to content

FDF Members Poetry

  • entries
    163
  • comments
    120
  • views
    37,453

Contributors to this blog

تو مجھے اپنے مریدین میں رکھتا بھی نہیں


تو مجھے اپنے مریدین میں رکھتا بھی نہیں
میں کسی اور کی بیعت بھی نہیں کر سکتا

شبیر احرام

اے مرے دوست رعایت بھی نہیں کر سکتا
پر ترے ساتھ بغاوت بھی نہیں کر سکتا 

سامنے سے بھی تجھے کچھ نہیں کہہ سکتا میں
پیٹھ پیچھے تری غیبت بھی نہیں کر سکتا

تو مجھے اپنے مریدین میں رکھتا بھی نہیں
میں کسی اور کی بیعت بھی نہیں کر سکتا

جانتا ہوں میں خدوخال بگڑنے کا سبب
آئینہ دیکھ کے حیرت بھی نہیں کر سکتا

اب ترے شہر میں رہنا بھی مناسب نہیں ہے
اور میں اس شہر سے ہجرت بھی نہیں کر سکتا

مجھ میں ہمت بھی نہیں ہے کہ بھلا دوں تجھ کو
اور میں اس کام کی ہمت بھی نہیں کر سکتا

 

18698383_1355650357817475_8939016665565760779_n.jpg

0 Comments


Recommended Comments

There are no comments to display.

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.