رات یوں رُخسار پہ تیری یاد کے آنسو مہکے
اندھیری رات میں جیسے تنہا کوئی جگنو مہکے
پاکیزہ چاندنی سے کیسے مُعطر ہورہی ہے فضا
تیرے پہلو کی خوشبو سے جیسے میرا پہلو مہکے
تیز ہوا یوں پتوں سے ٹکرا کے گزرتی ہے
اک لمبی خامشی کے بعد جیسے تیری گفتگو مہکے
میں اور اک غزل لکھ رہا ہوں تیرے نام سے
تیرے خیال سے میرے وجدان کی آرذو مہکے
اک بار یوں رکھ دے میرے سینے پہ اپنا ہاتھ
چاک گریباں رہے نہ رہے تمام عمر یہ رفُو مہکے
ابرار قریشی
2

1 Comment
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.