رقص میں رات ہے بدن کی طرح
بارشوں کی ہوا میں بن کی طرح
چاند بھی میری کروٹوں کا گواہ
میرے بستر کی ہر شکن کی طرح
چاک ہے دامن قبائےِ بہار
میرے خوابوں کے پیرہن کی طرح
زندگی، تجھ سے دور رہ کر، میں
کاٹ لوں گی جلا وطن کی طرح
مجھ کو تسلیم، میرے چاند کہ میں
تیرے ہمراہ ہوں گہن کی طرح
بار ہا تیرا انتظار کیا
اپنے خوابوں میں اک دلہن کی طرح
2

1 Comment
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.