کس لئے رقص دکھاتا ہوں مجھے کیا معلوم
میں تو بس وقفِ تماشا ہوں مجھے کیا معلوم
کیسا ہنگامہ برابر کے مکاں میں ہے مقیم
میں تو خود شور میں رہتا ہوں مجھے کیا معلوم
کون رہتا ہے مرے دل کے نہاں خانے میں
کس کے دل کی میں تمنّا ہوں مجھے کیا معلوم
ایک خورشید سے منسوب ہیں دن رات مرے
دھوپ ہوں یا کوئی سایہ ہوں مجھے کیا معلوم
مجھ میں آباد ہے بچھڑی ہوئی یادوں کا ہجوم
لوگ کہتے ہیں میں تنہا ہوں مجھے کیا معلوم
کوئی رُت ہو مری تقدیر ہے بہتے رہنا
وقت ہوں، اشک ہوں، دریا ہوں مجھے کیا معلوم
1 Comment
Recommended Comments
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now