Jump to content

FDF Members Poetry

  • entries
    163
  • comments
    120
  • views
    37,451

Contributors to this blog

کس لئے رقص دکھاتا ہوں مجھے کیا معلوم


کس لئے رقص دکھاتا ہوں مجھے کیا معلوم
میں تو بس وقفِ تماشا ہوں مجھے کیا معلوم

کیسا ہنگامہ برابر کے مکاں میں ہے مقیم
میں تو خود شور میں رہتا ہوں مجھے کیا معلوم

کون رہتا ہے مرے دل کے نہاں خانے میں
کس کے دل کی میں تمنّا ہوں مجھے کیا معلوم

ایک خورشید سے منسوب ہیں دن رات مرے
دھوپ ہوں یا کوئی سایہ ہوں مجھے کیا معلوم

مجھ میں آباد ہے بچھڑی ہوئی یادوں کا ہجوم
لوگ کہتے ہیں میں تنہا ہوں مجھے کیا معلوم

کوئی رُت ہو مری تقدیر ہے بہتے رہنا
وقت ہوں، اشک ہوں، دریا ہوں مجھے کیا معلوم

 

17201044_1279015718814273_8659414581455288751_n.jpg

1 Comment


Recommended Comments

waqas dar

Posted

یہ کیسی تیری پریت پیا
تو دھڑکن کا سنگیت پیا
-
ترے رسم رواج عجیب بہت
مرا در در پھرے نصیب بہت
ترا ہجر جو مجھ میں آن بسا
میں تیرے ہوئی قریب بہت
-
مجھے ایسے لگ گئے روگ بُرے
میں جان گئی سب جوگ بُرے
آ سانول نگری پار چلیں
اس نگری کے سب لوگ بُرے
-
تجھے دیکھ لیا جب خواب اندر
میں آن پھنسی گرداب اندر
بن پگلی، جھلَی، دیوانی
میں ڈھونڈوں تجھے سراب اندر
-
ترے جب سے ہو گئے نین جدا
مرے دل سے ہو گیا چین جدا
کیا ایک بدن میں دو روحیں
ہم جسموں کے مابین جدا
-
یہ ہے ازلوں سے رِیت پیا
کب مل پائے من میت پیا
اب لوٹ آؤ سُونے مَن میں
کہیں وقت نہ جائے بیت پیا
-
یہ کیسی تیری پریت پیا
 تو دھڑکن کا سنگیت پیا

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.