زمانہ بڑھ کے وہی پیڑ کاٹ دیتا ہے.
میں جس کی شاخ پہ اک گھونسلہ بناتی ہوں.
بلقیس خان
تمھاری یاد کا اک دائرہ بناتی ہوں.
پھر اس میں رہنے کی کوئی جگہ بناتی ہوں.
وہ اپنے گرد اٹھاتا ہے روز دیواریں.
میں اس کی سمت نیا راستہ بناتی ہوں.
زمانہ بڑھ کے وہی پیڑ کاٹ دیتا ہے.
میں جس کی شاخ پہ اک گھونسلہ بناتی ہوں.
وہ گھول جاتا ہے نفرت کی تلخیاں آ کر.
میں چاہتوں کا نیا ذائقہ بناتی ہوں.
خیال و حرف تغزل میں ڈھال کر بلقیس.
میں اپنے درد سبھی غزلیہ بناتی ہوں.
4


2 Comments
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.