waqas dar⚙ Posted June 25, 2016 Posted June 25, 2016 دَرد کا شَہر بساتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں روز گھر لوٹ کے آتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں جانے کیا سوچ کے لے لیتا ہُوں تازہ گجرے اور پھر پھینکنے جاتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں جسم پہ چاقو سے ہنستے ہُوئے جو لکھا تھا اَب تو وُہ نام دِکھاتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں راہ تکتے ہُوئے دیکھوں جو کسی تنہا کو جانے کیوں آس دِلاتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں لوگ جب روگ کی تفصیل طلب کرتے ہیں سخت اِک بات چھپاتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں گرم تھی چوٹ تبھی لکھ سکا یہ غم کی بیاض اَب تو اِک شعر سناتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں روز دِل کرتا ہے منہ موڑ لوں میں دُنیا سے روز میں دِل کو مناتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں اِسمِ لیلیٰ کو فقط اِس لیے رَکھا مخفی پھُوٹ کر نام بتاتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں دُور جاتا ہو کوئی ، یار سبھی کہتے ہیں صرف میں ہاتھ ہلاتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں چند چپ چاپ سی یادوں کا ہے سایہ مجھ پر قیس بارِش میں نہاتے ہُوئے رو پڑتا ہُوں
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now