Sahrish Dar Posted September 23, 2016 Report Posted September 23, 2016 فردوس میں ایک مکالمہہاتف نے کہا مجھ سے کہ فردوس میں اک روز حالی سے مخاطب ہوئے یوں سعدی شیراز اے آنکہ ز نور گہر نظم فلک تاب دامن بہ چراغ مہ اختر زدہ ای باز کچھ کیفیت مسلم ہندی تو بیاں کر واماندۂ منزل ہے کہ مصروف تگ و تاز مذہب کی حرارت بھی ہے کچھ اس کی رگوں میں؟ تھی جس کی فلک سوز کبھی گرمی آواز باتوں سے ہوا شیخ کی حالی متاثر رو رو کے لگا کہنے کہ ''اے صاحب اعجاز جب پیر فلک نے ورق ایام کا الٹا آئی یہ صدا ، پاؤگے تعلیم سے اعزاز آیا ہے مگر اس سے عقیدوں میں تزلزل دنیا تو ملی، طائر دیں کر گیا پرواز دیں ہو تو مقاصد میں بھی پیدا ہو بلندی فطرت ہے جوانوں کی زمیں گیر زمیں تاز مذہب سے ہم آہنگی افراد ہے باقی دیں زخمہ ہے ، جمعیت ملت ہے اگر ساز بنیاد لرز جائے جو دیوار چمن کی ظاہر ہے کہ انجام گلستاں کا ہے آغاز پانی نہ ملا زمزم ملت سے جو اس کو پیدا ہیں نئی پود میں الحاد کے انداز یہ ذکر حضور شہ یثرب میں نہ کرنا سمجھیں نہ کہیں ہند کے مسلم مجھے غماز خرما نتواں یافت ازاں خار کہ کشتیم دیبا نتواں بافت ازاں پشم کہ رشتیم'' (سعدی) 3 Quote
Popular Post Zarnish Ali Posted September 23, 2016 Popular Post Report Posted September 23, 2016 zabardast 5 Quote
Sahrish Dar Posted September 23, 2016 Author Report Posted September 23, 2016 39 minutes ago, Zarnish Ali said: zabardast thank you 1 Quote
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.