waqas dar Posted September 9, 2016 Author Posted September 9, 2016 Toubaaaaaaaaaaaaaaaaaaa ufffffffffffffffffff itni judaiyunnnnn wali batttainnnn...
waqas dar Posted September 9, 2016 Author Posted September 9, 2016 تجھ کو آواز دوں اور دور تلک تو نہ ملےایسے سناٹے سے اکثر مجھے ڈر لگتا ہے 1
jannat malik Posted September 10, 2016 Posted September 10, 2016 کافی عرصہ بیت گیا ہے جانے اب وہ کیسا ہو گا؟ وقت کی ساری کڑوی باتیں چپکے چپکے سہتا ہو گا اب بھی بھیگی بارش میں وہ بن چھتری کے چلتا ہو گا مجھ سے بجھڑے عرصہ بیتا اب وہ کس سے لڑتا ہو گا؟ اچھا تھا جو ساتھ ہی رہتے بعد میں اس نے سوچا ہو گا اپنے دل کی ساری باتیں خود سے خود ہی کہتا ہو گا کافی عرصہ بیت گیا ہے جانے اب وہ کیسا ہو گا...؟؟؟؟؟ 1
jannat malik Posted September 10, 2016 Posted September 10, 2016 جگنو جلے بجھے میری پلکوں پہ صبح تک جب بھی تیرا خیال ______ سرِ شام آ گیا 1
Urooj Butt Posted September 10, 2016 Posted September 10, 2016 یار کہے اور سر تسلیم خم نا ہودل بھی لگا بیٹھو اور کوئی غم نا ہو ممکن ہی نہی یہ میرے چارہ گر کہاذیت روح میں بصورت ناسور ضم نا ہو 1
waqas dar Posted September 10, 2016 Author Posted September 10, 2016 شمع جلاوُں بهی تو کس کے لئے وہ بهٹکا ہوا مسافر نہیں آنے والا تابی 1
jannat malik Posted September 11, 2016 Posted September 11, 2016 Bazm e wafa mein hamari ghareebi na pooch "ghalib" Eik dard e dil hai wo bh kisi ka dia hua اب نہیں رکھتے ہم کسی سے شوق الفت اجتناب !بے رحم سے لوگ ہیں دل توڑ دیتے ہیں 1
waqas dar Posted September 11, 2016 Author Posted September 11, 2016 1 hour ago, Jannat malik said: Bazm e wafa mein hamari ghareebi na pooch "ghalib" Eik dard e dil hai wo bh kisi ka dia hua اب نہیں رکھتے ہم کسی سے شوق الفت اجتناب !بے رحم سے لوگ ہیں دل توڑ دیتے ہیں غم کا بادل تری زلفوں سے گھنیرا نکلا سایۂ ابر بھی قسمت کا اندھیرا نکلا سو گئے چاند ستارے تو اُجالا جاگا چل دیئے ہجر کے مارے تو سویرا نکلا اپنا گھر چھوڑ کے جانا کوئی آساں تو نہیں ہاتھ ملتا مرے آنگن سے اندھیرا نکلا نیند نے لوٹ لیے خواب خزانے میرے جس کو آنکھوں میں بسایا تھا ُلٹیرا نکلا ٹوٹ کر ظلم کی دیوار زمیں بوس ہوئی چاند جب توڑ کے ظلمات کا گھیرا نکلا میں تو سمجھا تھا کہ ویران ہے دل کی بستی اس خرابے میں بھی اِک وہم کا ڈیرا نکلا شہر چھوڑا تھا تجھے دل سے بھلانے کے لیے قریہ قریہ تری یادوں کا بسیرا نکلا ایک دشمن جو ملا ہے تو میں کتنا خوش ہوں شہرِ احباب میں اِک شخص تو میرا نکلا دل کو ہمدرد سمجھ رکھا تھا عاجزؔ میں نے کیا قیامت ہے یہ بے درد بھی تیرا نکلا 1
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now