Urooj Butt 861 Posted October 16, 2016 Posted October 16, 2016 نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لُٹا دیا مرے چارہ گرکو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو و ہ جو قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا کرو کج جبیں پہ سرِ کفن ، مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو کہ غرورِ عشق کا بانکپن ، پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا اُ دھر ایک حرف کے کشتنی ، یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی جو کہا تو ہنس کے اُڑا دیا ، جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یاد گار بنا دیا 0 Quote
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.