Urooj Butt 861 Posted October 17, 2016 Posted October 17, 2016 کسی سے عہد و پیماں کر نہ رہیو تُو اس بستی میں رہیو پر نہ رہیو سفر کرنا ہے آخر دو پلک بیچ سفر لمبا ہے بے بستر نہ رہیو ہر اک حالت کے بیری ہیں یہ لمحے کسی غم کے بھروسے پر نہ رہیو ہمارا عمر بھر کا ساتھ ٹھیرا سو میرے ساتھ تُو دن بھر نہ رہیو بہت دشوار ہو جائے گا جینا یہاں تُو ذات کے اندر نہ رہیو سویرے ہی سے گھر آجائیو آج ہے روزِ واقعہ باہر نہ رہیو کہیں چھپ جاؤ تہ خانوں میں جا کر شبِ فتنہ ہے اپنے گھر نہ رہیو نظر پر بار ہو جاتے ہیں منظر جہاں رہیو وہاں اکثر نہ رہیو 1 Quote
Waqas Dar 7,050 Posted October 17, 2016 Posted October 17, 2016 ایک تکمیلِ داستاں کے لئے دِل نے ٹکڑے کہاں کہاں کے لئے اِبتدا تم ہو، اِنتہا تم ہو ! ہم تو ، ہیں زیبِ داستاں کے لئے شمع کہتی اگر، تو کیا کہتی ؟ دردِ اُلفت، نہ تھا بیاں کے لئے چند اشکوں میں رہ گئے ڈھل کے حرفِ مطلب جو تھے بیاں کے لئے 0 Quote ⚡ Quick Access & Member Actions 📝 Create Account / Register 🔐 Member Login 🔍 Search Everything 🔥 Activity Feed (Live Updates) 🏠 Go to Portal Home 📩 Contact Admin Support ❓ Help & Support Center 🏆 Community Leaderboard 👨💼 Forum Staff Team 📜 Terms & Rules 🔒 Privacy Policy 📢 Forum Announcements
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.