jannat malik👑 Posted January 22, 2017 Posted January 22, 2017 قرضِ نگاہِ یار ادا کر چکے ہیں ہم سب کچھ نثارِ راہِ وفا کر چکے ہیں ہم کچھ امتحانِ دستِ جفا کر چکے ہیں ہم کچھ اُن کی دسترس کا پتا کر چکے ہیں ہم اب احتیاط کی کوئی صورت نہیں رہی قاتل سے رسم و راہ سوا کر چکے ہیں ہم دیکھیں ہے کون کون، ضرورت نہیں رہی کوئے ستم میں سب کو خطا کر چکے ہیں ہم اب اپنا اختیار ہے چاہیں جہاں چلیں رہبر سے اپنی راہ جد اکر چکے ہیں ہم ان کی نظر میں، کیا کریں پھیکا ہے اب بھی رنگ جتنا لہو تھا صرفِ قبا کر چکے ہیں ہم کچھ اپنے دل کی خو کا بھی شکرانہ چاہیے سو بار اُن کی خو کا گِلا کر چکے ہیں ہم فیض احمد فیض 3
Zarnish Ali👑 Posted January 22, 2017 Posted January 22, 2017 آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہربان بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے 1
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now