ROHAAN Posted September 8, 2019 Report Posted September 8, 2019 جو ہیں مظلوم جو ہیں مظلوم ان کو تو تڑپتا چھوڑ دیتے ہیں یہ کیسا شہر ہے ظالم کو زندہ چھوڑ دیتے ہیں انا کے سکے ہوتے ہیں فقیروں کی بھی جھولی میں جہاں ذلت ملے اس در پہ جانا چھوڑ دیتے ہیں ہوا کیسا اثر معصوم ذہنوں پر کہ بچوں کو اگر پیسے دکھاؤ تو کھلونا چھوڑ دیتے ہیں اگر معلوم ہو جائے پڑوسی اپنا بھوکا ہے تو غیرت مند ہاتھوں سے نوالہ چھوڑ دیتے ہیں مہذب لوگ بھی سمجھے نہیں قانون جنگل کا شکاری شیر بھی کوؤں کا حصہ چھوڑ دیتے ہیں پرندوں کو بھی انساں کی طرح ہے فکر روزی کی سحر ہوتے ہی اپنا آشیانہ چھوڑ دیتے ہیں تعجب کچھ نہیں داناؔ جو بازار سیاست میں قلم بک جائیں تو سچ بات لکھنا چھوڑ دیتے ہیں
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now