Zarnish Ali Posted March 23, 2017 Report Posted March 23, 2017 کھلا فریب محبت دکھائی دیتا ہے عجب کمال ہے اُس بے وفا کے لہجے میں "افتخار عارف" کوئی تو پھول کھلائے دُعا کے لہجے میں عجب طرح کی گھُٹن ہے ہوا کے لہجے میں یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں نہ جانے خلقِ خدا کون سے عذاب میں ہے ہوائیں چیخ پڑیں التجا کے لہجے میں کھلا فریب محبت دکھائی دیتا ہے عجب کمال ہے اُس بے وفا کے لہجے میں یہی ہے مصلحتِ جبرِ احتیاط تو پھر ہم اپنا حال کہیں گے چھُپا کے لہجے میں 1
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now