Urooj Butt 861 Posted July 5, 2018 Posted July 5, 2018 سنو جاناں جولائی آ گیا ہے گھٹن اوڑھے ہوئے دن ہیں کہ جن میں دھوب نیزے کی انی بن کر بدن کو چیرے جاتی ہے ہوا کے لمس سے نا آشنا شامیں ستاروں سے بھری راتیں کہ جن میں نیند کی دیوی بھی اکتائی سی لگتی ہے اسی بے کیف منظر میں اچانک آسماں بادل کی چادر اوڑھ لیتا ہے وہ چھاجوں مینہ برستا ہے کہ منظر جھوم اٹھتا ہے وہی موسم، وہی رت ہے کہ جب ایسے گھٹن اوڑھے ہوے دن کی برستی شام میں ہم تم فضا کی گنگناہٹ روح میں محسوس کرتے تھے کبھی بوندیں پکڑتے تھے کبھی یوں مسکراتے تھے کہ جیسے کان میں بارش نے کوئی بات کہہ دی ہو سنو جاناں وہی منظر وہی رت ہے گھٹن اوڑھے ہوئے دن ہیں فضا بھی گنگناتی ہے نجانے تم کہاں پر ہو چلے بھی آو اب جاناں تمہیں بارش بلاتی ہے. 0 Quote
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.