Zarnish Ali👑 Posted February 20, 2017 Posted February 20, 2017 کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا دل کہاں کہ گم کیجیے؟ ہم نے مدعا پایا عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا دوست دارِ دشمن ہے! اعتماد دل معلوم آہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا سادگی و پرکاری، بے خودی و ہشیاری حسن کو تغافل میں جرات آزما پایا غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا حال دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنی ہم نے بار ہا ڈھونڈا، تم نے بارہا پایا شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا آپ سے کوئی پوچھے، تم نے کیا مزا پایا مرزا اسداللہ غالب 2
waqas dar⚙ Posted February 18, 2019 Posted February 18, 2019 کمی ہے کون سی گھر میں دکھانے لگ گئے ہیں چراغ اور اندھیرا بڑھانے لگ گئے ہیں یہ اعتماد بھی میرا دیا ہوا ہے تجھے جو میرے مشورے بے کار جانے لگ گئے ہیں میں اتنا وعدہ فراموش بھی نہیں ہوں کہ آپ مرے لباس پہ گرہیں لگانے لگ گئے ہیں وہ پہلے تنہا خزانے کے خواب دیکھتا تھا اب اپنے ہاتھ بھی نقشے پرانے لگ گئے ہیں فضا بدل گئی اندر سے ہم پرندوں کی جو بول تک نہیں سکتے تھے گانے لگ گئے ہیں کہیں ہمارا تلاطم تھمے تو فیصلہ ہو ہم اپنی موج میں کیا کیا بہانے لگ گئے ہیں نہیں بعید کہ جنگل میں شام پڑ جائے ہم ایک پیڑ کو رستہ بتانے لگ گئے ہیں اظہر فراغ
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now