Jump to content

Recommended Posts

Posted

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
دل کہاں کہ گم کیجیے؟ ہم نے مدعا پایا
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا
دوست دارِ دشمن ہے! اعتماد دل معلوم 
آہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا
سادگی و پرکاری، بے خودی و ہشیاری
حسن کو تغافل میں جرات آزما پایا
غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل
خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا
حال دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنی
ہم نے بار ہا ڈھونڈا، تم نے بارہا پایا
شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
آپ سے کوئی پوچھے، تم نے کیا مزا پایا
مرزا اسداللہ غالب

black-and-white-bw-girl-window-sad-Favim_com-771551.jpg

  • 1 year later...
Posted

کمی ہے کون سی گھر میں دکھانے لگ گئے ہیں
چراغ اور اندھیرا بڑھانے لگ گئے ہیں
یہ اعتماد بھی میرا دیا ہوا ہے تجھے
جو میرے مشورے بے کار جانے لگ گئے ہیں
میں اتنا وعدہ فراموش بھی نہیں ہوں کہ آپ
مرے لباس پہ گرہیں لگانے لگ گئے ہیں
وہ پہلے تنہا خزانے کے خواب دیکھتا تھا
اب اپنے ہاتھ بھی نقشے پرانے لگ گئے ہیں
فضا بدل گئی اندر سے ہم پرندوں کی
جو بول تک نہیں سکتے تھے گانے لگ گئے ہیں
کہیں ہمارا تلاطم تھمے تو فیصلہ ہو
ہم اپنی موج میں کیا کیا بہانے لگ گئے ہیں
نہیں بعید کہ جنگل میں شام پڑ جائے
ہم ایک پیڑ کو رستہ بتانے لگ گئے ہیں

اظہر فراغ

11902255_1628468927434585_6874404571067261373_n.jpg

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.