Mirza Ghalib
Asad Ullah Khan اسداللہ خان غالب Biography !
Spoiler
اسداللہ خان غالبمرزا غالب (1797-1869) اردو زبان کے سب سے بڑے شاعر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی عظمت کا راز صرف ان کی شاعری کے حسن اور بیان کی خوبی ہی میں نہیں ہے۔ ان کاا صل کمال یہ ہے کہ وہ ز ندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جاکر سمجھتے تھے اور بڑی سادگی سے عام لوگوں کے لیے بیان کردیتے تھے۔غالب جس پر آشوب دور میں پیدا ہوئے اس میں انہوں نے مسلمانوں کی ایک عظیم سلطنت کو برباد ہوتے ہوئے اور باہر سے آئی ہوئی انگریز قوم کو ملک کے اقتدار پر چھاتے ہوئے دیکھا۔غالباً ً یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ خاں تھا۔ باپ کا نام عبداللہ بیگ تھا ۔ آپ دسمبر 1797ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہو گئے۔ نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا۔ 1810ءمیں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہی بخش خاں معروف کی بیٹی امراءبیگم سے ہو گئی شادی کے بعد انہوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہو گئے ۔ اس دوران میں انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی اور 1850ءمیں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا ، اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50روپے ماہور مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔غدر کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہو گئی ۔ چنانچہ انقلاب 1857ءکے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے لکھا انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادم حیات ملتا رہا۔ کثرت شراب نوشی کی بدولت ان کی صحت بالکل تباہ ہو گئی مرنے سے پہلے بے ہوشی طاری رہی اور اسی حالت میں 15 فروری 1869ء کو انتقال فرمایا
غم ہستی کو اسد کس سے ہو جز مرگ علاجشمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
1261 ایک یادگار مشاعرہ میں شرکت کی-:اس مشاعرے میں ان شعراء نے اپنا کلام سنایا1۔ مرزا فخرو رمز 2۔ شیخ محمد ابراہیم ذوق 3۔ مرزا اسداللہ خاں غالب 4 ۔حکیم مومن خاں مومن 5۔ حافظ عبدالرحمٰن احسان 6۔ صدرالدین آزردہ 7۔ نواب مرزا خاں داغ دہلوی 8۔ نواب مصطفٰی خاں شیفتہ 9 ۔ مرزا قادر بخش صابر 10 ۔ امام بخش صہبائی 11 ۔سید ظہیر الدین حسین خاں ظہیر 12۔ حکیم آغا خاں عیش دہلوی 13۔مرزا رحیم الدین حیا 14۔ زین العابدین خاں عارف - غالب کے بھانجے 15۔ مرزا غلام نصیرالدین قناعت 16 نواب ضیاء الدین احمد خاں نیر، رخشاں 17۔ مرزا پیارے رفعت 18۔نواب علاءالدین خاں علائی 19 ۔مرزا کریم الدین رسا 20 ۔مرزا قربان علی بیگ سالک21۔ مرزا رحیم الدین ایجاد22۔ عباس علی خاں بیتاب23۔ مرزا فخرالدین حشمت 24۔ بال مکند حضور 25۔ غلام محی الدین اشکی 26 قاضی نجم الدین برق 27 مرزا منجھلے فسوں 2 میر صاحب 29 مرزا جمعیت شاہ ماہر 30 جارج پیس شور 31محمد عسکری نالاں 32الگزنر ہیڈلے آزاد 33 میر شجاعت علی تسلی 34 محمد حسین تائب 35 غلام رسول شوق 36 میر حسین تسکین 37 خواجہ غلام حسین بیدل38 منشی محمد علی تشنہ 39 محمد حسین بسمل 40 میر بہادر علی حزیں 41 محمد حسین بسمل (42) مرزا حاجی بیگ شہرت (43) باقر علی جعفری (44) محمد عبدالعزیز عزیز (45) نوازش حسین خاں تنویر (46) حکیم سکھا نند رقم (47) خواجہ معین الدین یکتا (4 حکیم سید محمد تعشق تعشق (49) شیخ نیاز احمد جوش (50) محمود جان اوج (51) میر حسین تجلی - میرتقی میر کے پوتے (52) محمد جعفر تابش (53) مرزا کامل بیگ کامل (54) تمکین (55) عبدالعلی قلق (56) میاں عاشق عاشق (57) غلام احمد تصویر (5 عبدالقادر بیدل (59) اوج (60) مرزا علی بیگ نازنینغالب کی خط و کتابت
ان شعراء و ادباء سے 1847ء سے 1869ء کے درمیان غالب کی خط و کتابت ہوتی رہی، مرزا ہرگوپال تفتہ 2 منشی نبی بخش حقیر ، منشی جواہر سنگھ جواہر ، محمد زکریا خاں زکی ، منشی عبداللطیف، عبدالحق ، سعدالدین خاں شفق ، قاضی عبدالجلیل جنون ، سید بدرالدین احمد کاشف المعروف بہ فقیر، نواب یوسف مرزا ، شاہ عالم ، سید غلام حسنین قدر بلگرامی، یوسف علی خاں ناظم، حکیم غلام غوث، نجف خاں بابو ہرگوبند سہائے نشاط، میر مہدی مجروح، مرزا شہاب الدین، احمد ثاقب، چودھری عبدالغفور سرور، نواب زین الدین خاں بہادر عرف کلن میاں، علاءالدین خاں علائی، مرزا حاتم علی مہر ، منشی شیو نرائن آرام، میر افضل علی عرف میرن صاحب، غلام غوث خاں بے خبر، مہاراجہ سردار سنگھ والی بیکانیر، محمد نعیم آزاد صاحب، عالم مارہروی، نواب حسین مرزا، ذوالفقارالدین حیدر خاں ، میاں داد خاں سیاح ، احمد حسن قنوجی، منشی محمد ابراہیم خلیل، منشی سخاوت حسین، قاضی عبدالرحمٰن تحسین ، حکیم سید احمد حسن مودودی ، عباس رفعت، قاضی محمد نورالدین حسین فائق ، مفتی محمد عباس ، نواب ضیاءالدین احمد خاں نیر، رخشاں،منشی نولکشور ، میر سرفراز حسین ، مرزا عباس بیگ ، محمود مرزا ، منشی حبیب اللہ ذکا، نواب میر غلام باہا خاں ، مردان علی خاں رعنا ، میر بندہ علی خاں عرف مرزا امیر ، نواب امین الدین احمد خاں ، مرزا قربان علی بیگ خاں سالک، منشی سیل چند ، عبدالرزاق شاکر، حکیم غلام مرتضٰی خاں ، سید سجاد مرزا ، سید فرزند احمد صفیر بلگرامی ، میر ولات علی خاں ، نواب کلب علی خاں، ماسٹر پیارے لال آشوب، حکیم غلام رضا خاں، حکیم ظہیرالدین خاں ، مرزا شمشاد علی بیگ رضوان ، ضیاءالدین احمد خاں ضیاء ، محمد محسن صدرالصدور، نواب میر ابراہیم علی خاں وفا، مولوی نغمان احمد، سید محمد عباس علی خاں بیتاب ، فرقانی میرٹھی، محمد حسین خاں ، شہزادہ بشیرالدین توفیق ، مولانا احمد حسین مینا مرزا پوری ، مرزا باقر علی خاں کامل ، شاہ فرزند علی صوفی منیری ، منشی ہیرا چند ،بہاری لال مشتاق ، مظہر علی ،شیخ لطیف احمد بلگرامی (75) میر سرفراز حسیب (76) تفضل حسین خاں (77) خلیفہ احمد علی ،احمد رامپوری (7 مرزا رحیم بیگ (79) عزیز صفی پوری (80) یوسف علی خاں عزیز (81) منشی غلام بسمل اللہ (82) مرزا امیرالدین خاں فرخ مرزا (83) مولوی کرامت علی (84) حکیم محب علی (85) میر احمد حسین میکش (86) منشی کیول رام ہوشیار (87) منشی ہیرا سنگھ (8 مولوی عبدالغفور خاں نساخ (89) منشی سید اسمٰعیل منیر شکوہ آبادیمرزا اسداللہ خاں غالب کے شاگرد
(1) آرام ، منشی شیو نرائن (2) آذر، نواب ذوالفقار علی خاں (3) آشوب ، رائے بہادر ماسٹر پیارے لال (4) آگاہ ، نواب سید محمد رضا دہلوی معروف بہ احمد مرزا (5) احسن ، حکیم مظہر حسن خاں رامپوری (6) اخگر ، فتح یاب خاں رامپوری (7) ادیب ، مولوی سیف الحق دہلوی ( اسمٰعیل ، مولوی محمد اسمٰعیل میرٹھی (9) انور ، سید شجاع الدین عرف اُمراؤ مرزا دہلوی (10) غلام ، منشی غلام اللہ (11) بیتاب ، عباس علی خاں (12) بیدل ، حبیب الرحمٰن (13) بے صبر ، لالہ بالمکند سکندرآبادی (14) پیرجی ، قمر الدین دہلوی (15) تپش ، مولوی سید مدد علی (16) تفتہ ، منشی ہرگو پال (17) توفیق ، محمد بشیرالدین (1 ثاقب ، نواب شہاب الدین احمد خاں (19) جنون ، قاضی عبدالجمیل (20) جوہر ، حکیم معشوق علی خاں شاہجانپوری (21) جوہر ، جواہر سنگھ دہلوی (22) حالہ ، خواجہ الطاف حسین (23) حباب ، پنڈت اُمراؤ سنگھ لاھوری (24) حزیں ، میر بہادر علی دہلوی (25) حقیر ، منشی نبی بخش (26) خضر ، مرزا خضر سلطان (27) خورشید ، خورشید احمد (2 ذکاء ، مولوی حبیب اللہ خاں (29) رابط ، دربھگہ (30) راضی ، بہاری لال جی اکبرآبادی (31) رسوا ، شیخ عبدالحمید غازی پوری (32) رضوان ، مرزا شمشاد علی بیف (33) رضوان ، نواب رضوان علی خاں (34) رعنا ، نواب مُراد علی خاں (35) رنج ، حکیم محمد فصیح الدین میرٹھی (36) رنجور ، نواب علی بخش خاں (37) روشن ، دیوان روشن لال دہلوی (3 ذکی ، حافظ سید محمد ذکریا خاں دہلوی (39) سالک ، مرزا قربان علی بیگ (40) سجاد ، نواب سید سجاد مرزا دہلوی (41) سخن ، خواجہ محمد فخرالدین حسین دہلوی (42) سرور ، چودھری عبدالغفور مارہروی (43) سروش ، عبدالوہاب خاں رامپوری (44) سوزاں ، حبیب الدین احمد سہارنپوری (45) سیاح ، میاں داد خاں اوررنگ آبادی (46) شاداں ، مرزا حسن علی خاں دہلوی (47) شائق ، خواجہ فیض الدین عرف خواجہ حیدر خاں، ڈھاکہ (4 شوخی ، نادر شاہ خاں رامپوری (49) شاکر ، مولوی عبدالرزاق اکبرآبادی (50) عالم ، شاہ عالم مارہروی (51) شفق ، نواب سعدالدین احمد خاں (52) شیفتہ ، نواب محمد مصطفٰی خان دہلوی (53) صوفی منیری ، شاہ جلیل الرحمٰن حسین عرف شاہ فرزند علی (54) صوفی ، حکیم محمد علی نجیب آبادی (55) صفیر ، سید فرزند احمد بلگرامی (56) صادق ، عزیز ،محمد عزیز الدین دہلوی (57) طرار ، میرزا سرفراز حسین (5 ظفر ، سراج الدین بہادر شاہ ثانی (59) ظہیر ، لالہ پیارے لال (60) طالب ، مرزا سعیدالدین احمد خاں دہلوی (61) عارف ، نواب زین العابدین خاں دہلوی (62) عاشق ، محمد عاشق حسین خاں اکبرآبادی (63) عاشق ، ماسٹر شنکر دیال اکبرآبادی (64) عاشق ، منشی محمد اقبال حسین دہلوی (65) عاقل ، محمد رضا علی خاں رامپوری (66) عالم ، شاہ عالم (67) عالم ، میر عالم علی خاں (6 عزیز ، مرزا یوسف علی خاں (69) علائی ، نواب علاءالدین خاں (70) فنا ، حکیم میر احمد حسن (71) قدر ، سید غلام حسین بلگرامی (72) سالک ، کاشف ، سید بدرالدین احمد دہلوی (73) کامل ، مرزا باقر علی خاں دہلوی (74) کرامت ، سید شاہ کرامت حسین ہمدانی گیاوی (75) محو ، نواب غلام حسین خاں دہلوی (76) مجروع ، میر مہدی دہلوی (77) مداح ، سوزاں ،شیخ محمد صادق (7 مشتاق ، منشی بہاری لال دہلوی (79) مفتوں ، پنڈت لچھمی نرائن (80) مقصود ، سید مقصود عالم رضوی (81) منشی ، منشی سیل چند دہلوی (82) مونس ، پنڈت شیوجی رام (83) میکش ، میر احمد حسین دہلوی (84) میکش ، میر ارشاد احمد دہلوی (85) ناظم ، نواب ناظم علی خاں رامپوری (86) نامی ، منشی شیو دیبی دیال (87) نشاط ، ہرگوبند سہائے ماتھر (8 نیئر ، نواب ضیاءالدین خاں دہلوی (89) وفا ، نواب ابراہیم علی خاں (90) ولی ، مولوی امو خاں دہلوی (91) ہشیار ، کیول رام (92) رمزر ، مرزا فخروالدین معروف بہ میرزا فخرو
تصانیفِ غالب
(درفش کاویانی () ،لاھور، مطبوعات یادگار غالب،پنجاب یونیورسٹی، 1969ء ،( 294 صفالنامہ (1876ء-8 صفحات)دہلی(دعائی صباح () ،لکھنؤ،مطبع نولکشور، ت ن ،26 ص (فارسی مثنویغالب نے یہ مثنوی اپنے بھانجے میرزا عباس بیگ اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر.لکھنؤ کی فرمائش پر لکھی(سبد باغِ دودر (کتابت 7 جولائی 1870ء میں مکمل ہوئی) (فارسی تصانیفمخطوطات:- (1)قلمی نسخہ پروفیسر سید وزیر حسن عابدی،صدر شعبہ فارسی و عربی دہلی یونیورسٹی(قاطع برہان () ،لکھنؤ،مطبع نولکشور، 1862ء ، 97 ص (فارسی تصانیفدستنبو () ،مطبع مفید خلائق ، نومبر 1858ء،88 ص (فارسی تصانیف) ناشر، 1865ء (1871ء-) ناشر، 1871ء(تیغِ تیز () اکمل المطابع ، 1867ء (اُردو تصانیف(مہر نیم وز () فخرالمطابع ، 1271 ھ ، 116 ص (فارسی تصانیف(غالب نامہ () مطبعمحمدی.دہلی ، 16 اگست 1865ء (اُردو تصانیفپنچ آہنگ () مطبع سلطانی ، 4 اگست 1849ء ، (فارسی تصانیف) ،دہلی،مطبع داراسلام، اپریل1853ءمخطوطات:- (1) ہارڈنگ لائبری.دہلی (2) رضا لائبریری.رامپور(دیوانِ اُردو() سیّدالمطابع ، اکتوبر 1841ء ، 108 ص (شاعری (مئی 1847ء- 1159 اشعار) مطبع دادالسلام .دہلی (29 جولائی 1861ء-88 صفحات 1796 اشعار) مطبع احمدی.دہلی () (جون 1862ء-104 صفحات 11796اشعار) مطبع نظامی .کانپور(1863ء- - 146صفحات) مطبع مفید خلائق.آگرہ (1873ء -103 صفحات) نولکشور پریس.لکھنؤ(1877ء -103 صفحات) نولکشور پریس.لکھنؤ (1882ء - 72 صفحات) مطبع میسور پریس .دہلی (1883ء - 103 صفحات) نولکشور.لکھنؤ (1887ء -84 صفحات) مطبع نامی .لکھنؤ (1887ء - ) مطبع منشی نولکشور .کانپور (1901ء -72 صفحات) مطبع نامی .لکھنؤ (1903ء - 104 صفحات) مطبع منشی نولکشور (1905ء - 103 صفحات) مطبع مفید عام پریس .لاہور (1912ء - 104 صفحات) مطبع مفید عام پریس .لاہور (1914ء -120 صفحات) مطبع مجیدی .کانپور (1914ء - 116 صفحات) مطبع نامی .لکھنؤ (1914ء - 104صفحات) مطبع منشی نولکشور (1919ء - 122 صفحات) مطبع مفید پریس .لاہور (1919ء - 353 صفحات) مطبع گلزارِ محمدی اسٹیم پریس .لاہور (دیوانِ غالب -نسخۂ حمیدیہ 1921ء - 145+342 صفحات) مطبع مفیر عام اسٹیم پریس .آگرہ (دیوانِ غالب - نسخۂ حمیدیہ 1921ء - 24+ 342 صفحات قادرنامہ (1864ء-) (اُردو تصانیف
مخطوطات:- (1) رضا لائبریری. رامپوراُردوے معلٰے (Urdu i Mualla) اکمل المطابع ، 6 مارچ 1869ء ، صفحات (خطوط - اُردو تصانیف
(اُردوے معلٰی (6 مارچ 1869ء-)اکمل المطابع(11 فروری 1891ء-) اکمل المطابع (اپریل 1899ء-56 صفحات)مطبع مجتبائی.دہلی (1927ء ) ناشر، (رام نرائن لعل بُک سیلر.الہ آباد ، 1952ء ، صفحات 438 + 94(عودِ ہندی (27 اکتوبر 1868ء-)مطبع مجتبائی.میرٹھ (خطوط - اُردو تصانیف(نادرات غالب (1949ء-) (اُردو تصانیف(نکاتِ غالب و رقعاتِ غالب (فروری 1867ء-(سبد چین (اگست1867ء-)مطبع محمدی (اپریل 1938ء--807 اشعار)مکتبہ جامعہ لمٹیڈ.دہلی(فارسی تصانیف (کلیاتِ نظمِ فارسی (1845ء-506 صفحات 6672 اشعار)مطبع داداسلام.دہلی (1863ء- 10424 اشعار)مطبع نولکشور.(فارسی تصانیف
14 topics in this forum
-
Mirza Ghalib Poetry & Biography | Best Urdu Shayari Collection ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے Roman: Hazaron khwahishen aisi ke har khwahish pe dam nikle دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں 📘 Mirza Ghalib Biography Mirza Ghalib was one of the greatest poets of Urdu and Persian literature. His full name was Mirza Asadullah Baig Khan. He was born on 27 December 1797 in Agra, India. Ghalib is famous for his deep poetry, philosophical thoughts, and unique style of expression. He lived during the decline o…
Last reply by Waqas Dar, -
-
- 16 replies
- 4.2k views
ﻋﺸﺮﺕِ ﻗﻄﺮﮦ ﮨﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﻓﻨﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﺣﺪ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﻧﺎ ﮨﮯ ﺩﻭﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﻣﺮﺯﺍ ﻏﺎﻟﺐ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ
Last reply by Zarnish Ali, -
- 1 reply
- 2.2k views
کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا دل کہاں کہ گم کیجیے؟ ہم نے مدعا پایا عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا درد کی دوا پائی، درد بے دوا پایا دوست دارِ دشمن ہے! اعتماد دل معلوم آہ بے اثر دیکھی، نالہ نارسا پایا سادگی و پرکاری، بے خودی و ہشیاری حسن کو تغافل میں جرات آزما پایا غنچہ پھر لگا کھلنے، آج ہم نے اپنا دل خوں کیا ہوا دیکھا، گم کیا ہوا پایا حال دل نہیں معلوم، لیکن اس قدر یعنی ہم نے بار ہا ڈھونڈا، تم نے بارہا پایا شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا آپ سے کوئی پوچھے، تم نے کیا مزا پایا مرزا اسداللہ غالب
Last reply by Waqas Dar, -
- 4 replies
- 2.4k views
Dard Sy Mere Hai Tujh Ko Beqarari Haye Haye درد سے میرے ہے تجھ کو بیقراری ہائے ہائے کیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائے تیرے دل میں گر نہ تھا آشوب غم کا حوصلہ تو نے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری ہائے ہائے کیوں مری غم خوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیال دشمنی اپنی تھی میری دوست داری ہائے ہائے عمر بھر کا تو نے پیمان وفا باندھا تو کیا عمر کو بھی تو نہیں ہے پائیداری ہائے ہائے زہر لگتی ہے مجھے آب و ہوائے زندگی یعنی تجھ سے تھی اسے نا سازگاری ہائے ہائے گل فشانی ہائے ناز جلوہ کو کیا ہو گیا خاک پر ہوتی ہے تیری لالہ کاری ہائے ہائے شرم رسوائی سے جا چھپنا نقاب خاک میں ختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے ہائے خاک میں ناموس پیمان محبت مل…
Last reply by Waqas Dar, -
- 17 replies
- 4.6k views
ظلمت کدے میں میری شب غم کا جوش ہے اک شمع ہے دلیل سحر سو خاموش ہے داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خاموش ہے آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں غالب سریر خامہ نوائے سروش ہے ظلمت کدے میں میری شب غم کا جوش ہے اک شمع ہے دلیل سحر سو خاموش ہے
Last reply by Zarnish Ali, -
- 6 replies
- 2.8k views
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے رگوں میں دوڑتے پهر نے کہ ہم نہیں قائل جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پهر لہو کیا ہے چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن ہماری جیب کو اب حاجت رفو کیا ہے جلا ہے جسم جہاں دل بهی جل گیا ہو گا کریدتے ہو جو اب راکه جستجو کیا ہے رہی نہ طاقت گفتار اور اگر ہو بهی تو کس امید پہ کہئے کہ آرزو کیا ہے
Last reply by Zarnish Ali, -
- 5 replies
- 2.7k views
نعل آتش میں ہے، تیغِ یار سے نخچیر کا کاؤکاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ صبح کرنا شام کا، لانا ہے جوئے شیر کا جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا آگہی دامِ شنیدن جس قدر چاہے بچھائے مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا خشت پشتِ دستِ عجز و قالب آغوشِ وداع پُر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا وحشتِ خوابِ عدم شورِ تماشا ہے اسدؔ جو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا بس کہ ہوں غالبؔ، اسیری میں بھی آتش زیِر پا !!...موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
Last reply by Zarnish Ali, -
- 4 replies
- 2.6k views
Baazicha-E-Atfaal Hai Duniya Mere Aage Hota Hai Shab-O-Roz Tamasha Mere Aage Ik Khel Hai Aurang-E-Sulemaan Mere Nazdeek Ik Baat Hai Ejaaz-E-Masiha Mere Aage Juz Naam Nahin Surat-E-Aalam Mujhe Manzoor Juz Vaham Nahin Hasti-E-Ashiya Mere Aage Hota Hai Nihaan Gard Main Sehraa Mere Hote Ghistaa Hai Jabin Khaak Pe Dariya Mere Aage Mat Pooch Ke Kya Haal Hai Mera Tere Peeche Tu Dekh Ke Kya Rang Hai Tera Mere Aage Sach Kahte Ho Khudbin-O-Khudaara Hoon Na Kyun Hoon Baitha Hai But-E-Aaina Seema Mere Aage Phir Dekhiye Andaaz-E-Gulafshaani-E-Guftaar Rakh De Koi Paimaana-E-Sahabaa Mere Aage Nafrat Ka Gumaan Guzre Hai Main Rashk Se Guzra Kyun Kar Kahoon Lo Naam Na Us Ka Mere Aag…
Last reply by Zarnish Ali, -
- 3 replies
- 2.3k views
نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلّی نہ سہی امتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی خار خارِ المِ حسرتِ دیدار تو ہے شوق گلچینِ گلستانِ تسلّی نہ سہی مے پرستاں خمِ مے منہ سے لگائے ہی بنے ایک دن گر نہ ہوا بزم میں ساقی نہ سہی نفسِ قیس کہ ہے چشم و چراغِ صحرا گر نہیں شمعِ سیہ خانۂ لیلی نہ سہی ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق نوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی نہ ستائش کی تمنّا نہ صلے کی پروا گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی؟ نہ سہی عشرتِ صحبتِ خوباں ہی غنیمت سمجھو نہ ہوئی غالب اگر عمرِ طبیعی نہ سہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Last reply by Zarnish Ali, -
- 6 replies
- 2.2k views
Na Tha Kuch To Khuda Tha, Kuch Hota To Khuda Hota, Dabooya Mujh Ko Hone Ne, Na Hota Mein To Kia Hota.. Hua Jab Gham Se Yun Be_His To Gham Kia Sar Ke Katne Ka, Na Hota Gar Juda Tan Se To Zanoo Par Dhara Hota… Hui Muddat Ke ‘Ghalib’ Mar Gaya, Par Yaad Aata Hai, Wo Har Ek Baat Pe Kehna Ke Yun Hota To Kia Hota…
Last reply by Zarnish Ali, -
- 3 replies
- 2k views
Aah Ko Chahiyay Ik Umr Asar Honay Tak Kon Jeeta Hai Teri Zulf Keh Sar Honay Tak Daam-E-Har Mauj Main Hai Halqa-E-Sad Kaam-E-Nehang Dekhain Kya Guzray Hai Qatray Peh Gauhar Honay Tak Aashiqee Sabr Talab Aur Tamanna Baitab Dil Ka Kya Rang Karoon Khoon-E-Jigar Honay Tak Hum Nay Mana Keh Taghaful Na Karo Gay Lekin Khaak Ho Jaayen Gay Hum Tum Ko Khabar Honay Tak Partau-E-Khoor Say Hai Shabnam Ko Fana Kee Taaleem Main Bhee Hoon Aik Inayat Kee Nazr Honay Tak Yak Nazr Baish Nahin Fursat-E-Hastee Ghafil Garmi-E-Bazm Hai Ik Raqs-E-Sharar Honay Tak Gham-E-Hastee Ka 'Asad' Phir Say Ho Juzmarg Ilaaj Shamma Har Rang Main Jaltee Hai Sehar Hon…
Last reply by Zarnish Ali, -
- 2 replies
- 2k views
غزل" - - - - - ("مرزا اسد اللہ خان غالب") ﺁﮦ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺍِﮎ ﻋُﻤﺮ ﺍﺛﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﮐﻮﻥ ﺟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﺮﯼ ﺯُﻟﻒ ﮐﮯ ﺳﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﺩﺍﻡِ ﮨﺮ ﻣﻮﺝ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺣﻠﻘۂ ﺻﺪ ﮐﺎﻡِ ﻧﮩﻨﮓ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮔُﺰﺭﮮ ﮨﮯ ﻗﻄﺮﮮ ﭘﮧ ﮔُﮩﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﻋﺎﺷﻘﯽ ﺻﺒﺮ ﻃﻠﺐ ، ﺍﻭﺭ ﺗﻤﻨّﺎ ﺑﯿﺘﺎﺏ ﺩﻝ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺭﻧﮓ ﮐﺮﻭﮞ ﺧﻮﻥِ ﺟﮕﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻣﺎﻧﺎ ﮐﮧ ﺗﻐﺎﻓﻞ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ، ﻟﯿﮑﻦ ﺧﺎﮎ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮨﻢ، ﺗﻢ ﮐﻮ ﺧﺒﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﭘﺮﺗﻮِ ﺧُﻮﺭ ﺳﮯ ، ﮨﮯ ﺷﺒﻨﻢ ﮐﻮ ﻓﻨﺎ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﮞ ، ﺍﯾﮏ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﯾﮏ ﻧﻈﺮ ﺑﯿﺶ ﻧﮩﯿﮟ ﻓُﺮﺻﺖِ ﮨﺴﺘﯽ ﻏﺎﻓﻞ ! ﮔﺮﻣﺊِ ﺑﺰﻡ ﮨﮯ ﺍِﮎ ﺭﻗﺺِ ﺷﺮﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ ﻏﻢِ ﮨﺴﺘﯽ ﮐﺎ ، ﺍﺳﺪؔ ! ﮐﺲ ﺳﮯ ﮨﻮ ﺟُﺰ ﻣﺮﮒ ، ﻋﻼﺝ ﺷﻤﻊ ﮨﺮ ﺭﻧﮓ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﺳﺤﺮ ﮨﻮﻧﮯ ﺗﮏ
Last reply by Zarnish Ali, -
- 6 replies
- 2.6k views
آ ئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے حسرت نے لا رکھا تری بزمِ خیال میں گلدستۂ نگاہِ سویدا کہیں جسے پھونکا ہے کس نے گوشِ محبت میں اے خدا افسونِ انتظار، تمنا کہیں جسے سر پر ہجومِ دردِ غریبی سے ڈالیے وہ ایک مشتِ خاک کہ صحرا کہیں جسے ہے چشمِ تر میں حسرتِ دیدار سے نہاں شوقِ عناں گسیختہ، دریا کہیں جسے درکار ہے شگفتنِ گلہائے عیش کو صبحِ بہار پنبۂ مینا کہیں جسے غالب برا نہ مان جو واعظ برا کہے ایسا بھی کو ئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے؟
Last reply by jannat malik, -
- 3 replies
- 2.3k views
کوئی دن گر زندگانی اور ہے اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے آتشِ دوزخ میں یہ گرمی کہاں سوزِ غم ہاۓ نہانی اور ہے بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیں پر کچھ اب کے سر گرانی اور ہے دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر کچھ تو پیغامِ زبانی اور ہے قاطعِ اعمار ہیں اکثر نجوم وہ بلاۓ آسمانی اور ہے ہو چکیں غالب بلائیں سب تمام ایک مرگِ ناگہانی اور ہے
Last reply by Waqas Dar,
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
