👀 You are watching:
Jump to content
👉 Click here to explore Remote Jobs, Work From Home & Global News – USA 🇺🇸 | UK 🇬🇧 | Canada 🇨🇦 | Pakistan 🇵🇰 ×
🚫 Guest Access Notice ×

Recommended Posts

Posted

ایک بحر میں پانچ غزلیں
***********************
1.
نہ آیا ہوں نہ میں لایا گیا ہوں
میں حرفِ کن ہوں فرمایا گیا ہوں
میری اپنی نہیں ہے کوئی صورت
ہر اک صورت سے بہلایا گیا ہوں
بہت بدلے میرے انداز لیکن
جہاں کھویا وہیں پایا گیا ہوں
وجودِ غیر ہو کیسے گوارا
تیری راہوں میں بے سایا گیا ہوں
نجانے کون سی منزل ہے واصف
جہاں نہلا کے بلوایا گیا
واصف علی واصف
_______
2.
فلک سے خاک پر لایا گیا ہوں
کہاں کھویا کہاں پایا گیا ہوں
میں زیور ہوں عروسِ زِندگی کا
بڑے تیور سے پہنایا گیا ہوں
نہیں عرض و گزارش میرا شیوہ
صدائے کُن میں فرمایا گیا ہوں
بتا اے انتہائے حسنِ دنیا
میں بہکا ہوں کہ بہکایا گیا ہوں
مجھے یہ تو بتا اے شدتِ وصل
میں لِپٹا ہوں کہ لِپٹایا گیا ہوں
بدن بھیگا ہوا ہے موتیوں سے
یہ کِس پانی سے نہلایا گیا ہوں
اگر جانا ہی ٹھہرا ہے جہاں سے
تو میں دنیا میں کیوں لایا گیا ہوں
یہ میرا دل ہے یا تیری نظر ہے
میں تڑپا ہوں کہ تڑپایا گیاہوں
مجھے اے مہرباں یہ تو بتا دے
میں ٹھہرا ہوں کہ ٹھہرایا گیا ہوں
تِری گلیوں سے بچ کر چل رہا تھا
تِری گلیوں میں ہی پایا گیا ہوں
جہاں روکی گئی ہیں میری کِرنیں
وہاں میں صورتِ سایہ گیا ہوں
عدیم اِک آرزو تھی زِندگی میں
اُسی کے ساتھ دفنایا گیا ہوں
عدیم ہاشمی
_______
3.
جہاں قطرے کو ترسایا گیا ہوں
وہیں ڈوبا ہوا پایا گیا ہوں
بلا کافی نہ تھی اک زندگی کی
دوبارہ یاد فرمایا گیا ہوں
سپرد خاک ہی کرنا ہے مجھ کو
تو پھر کاہے کو نہلایا گیا ہوں
اگرچہ ابرِ گوہر بار ہوں میں
مگر آنکھوں سے برسایا گیا ہوں
کوئی صنعت نہیں مجھ میں تو پھر کیوں
نمائش گاہ میں لایا گیا ہوں
مجھے تو اس خبر نے کھو دیا ہے
سنا ہے میں کہیں پایا گیا ہوں
حفیظ اہل زباں کب مانتے تھے
بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں
حفیظ جالندھری
______
4.
جہاں معبود ٹھہرايا گيا ہوں
وہيں سولی پہ لٹکايا گيا ہوں
سنا ہر بار ميرا کلمۂ صدق
مگر ہر بار جھٹلايا گيا ہوں
مرے نقشِ قدم نظروں سے اوجھل
مگر ہر موڑ پر پايا گيا ہوں
کبھی ماضی کا جيسے تذکرہ ہو
زباں پر اس طرح لايا گيا ہوں
جو موسی ہوں تو ٹھکرايا گيا تھا
جو عيسی ہوں تو جھٹلايا گيا ہوں
جہاں ہے رسم قتلِ انبيا کی
وہاں مبعوث فرمايا گيا ہوں
ابھی تدفين باقی ہے ابھی تو
لہو سے اپنے نہلايا گيا ہوں
دوامی عظمتوں کے مقبرے ميں
ہزاروں بار دفنايا گيا ہوں
ميں اس حيرت سرائے آب و گل ميں
بحکمِ خاص بھجوايا گيا ہوں
کوئی مہمان ناخواندہ نہ سمجھے
بصد اصرار بلوايا گيا ہوں
بطورِ ارمغاں لايا گيا تھا
بطورِ ارمغاں لايا گيا ہوں
ترس کيسا کہ اس دارالبلا ميں
ازل کے دن سے ترسايا گيا ہوں
اساسِ ابتلا محکم ہے مجھ سے
کہ ديواروں ميں چنوايا گيا ہوں
کبھی تو نغمۂ داؤد بن کر
سليماں کے لئے گايا گيا ہوں
نجانے کون سے سانچے ميں ڈھاليں
ابھی تو صرف پگھلايا گيا ہوں
جہاں تک مہرِ روز افروز پہنچا
وہيں تک صورتِ سايہ گيا ہوں
رئیس امروہوی
______
5.
تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں
دلِ مضطر سے پوچھ اے رونقِ بزم
میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں
لحد میں کیوں نہ جاؤں منہ چھپائے
بھری محفل سے اٹھوایا گیا ہوں
ہوں اس کوچے کے ہر ذرے سے آگاہ
ادھر سے مدتوں آیا گیا ہوں
سویرا ہے بہت اے شورِ محشر
ابھی بے کار اٹھوایا گیا ہوں
قدم اٹھتے نہیں کیوں جانبِ دیر
کسی مسجد میں بہکایا گیا ہوں
کجا میں اور کجا اے شاد دنیا
کہاں سے کس جگہ لایا گیا ہوں
شاد عظیم آبادی ♡♡♡♡♡

  • 1 year later...
Posted

اج آکھاں وارث شاہ نوں، کتھوں قبراں وچوں بول
تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پَھول

16114511_1233472183368627_6620344909613689815_n.jpg

Posted

nice...

  • 2 weeks later...
Posted

 

 جب بھی سوچوں بے اختیار ہو کر تجھے 
 میری کھڑکی میں آ ٹھہرتا ہے چاند 

Join the conversation

You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Reply to this topic...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.9k
    Total Posts


×
×
  • Create New...